Wednesday, 04 May, 2005, 23:27 GMT 04:27 PST
منظور اعجاز
واشنگٹن، امریکہ
پچھلے ہفتے محترمہ بینظیر بھٹو امریکہ میں بوسٹن کی ہارورڈ یونیورسٹی اور دوسرے اعلی تعلیمی اداروں میں خطاب کر رہی تھیں۔ بوسٹن کے امریکی پاکستانی حلقوں میں بھی ان کی اپنے شوہر آصف زرداری کے ساتھ سیاسی اختلافات کی خبریں عام تھیں۔
آصف زرداری کے بہت ہی قریبی حلقوں نے بھی تسلیم کیا کہ میاں بیوی علیحدہ علیحدہ بولیاں بول رہے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ آصف زرداری فوج کے ساتھ فوری مفاہمت چاہتے ہیں جب کہ محترمہ اے آر ڈی کے ساتھ مل کر طویل جدو جہد کے حق میں ہیں۔ وہ اور نواز شریف جمہوریت کو اس طرح بحال کرنے کے حق میں ہیں کہ فوج پھر کبھی سیاست میں نہ آسکے۔ بہرحال اس بات کا احساس بہت کم لوگوں میں پایا گیا کہ نام نہاد اختلافات کے باوجود میاں بیوی ایک بنیادی بات پر متفق ہیں کہ الیکشنوں کا انعقاد جمہوری معاشرے کے قیام کی ضمانت نہیں ہے۔
محترمہ بینظیر بھٹو نے ہارورڈ یونیورسٹی لاء کالج میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں کہ الیکشنوں سے جمہوریت بھی قائم ہو جائے۔ایک سوال کا جواب میں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن صرف نقطہ آغاز ہو سکتے ہیں لیکن جمہوری معاشرے کے قیام اور بقاء کے لئے عدلیہ، انتظامیہ اور دوسرے بہت سے اداروں کی اصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ اسی موضوع پر آصف زرداری نے چند ہفتے پیشتر کہا تھا کہ ایم ایم اے جمہوری راستے سے غیر جمہوری حکومت قائم کرنا چاہتی ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ مذہبی نظام کے تحت جمہوری معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔
اسی طرح اگر مذہبی نظام کا نفاذ غیر جموری معاشرہ قائم کرنے کے مترادف ہے (جیسا کہ آصف زرداری کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے) تو پاکستان کے آئین کوغیر مذہبی جماعتوں نے ہی مذہبی بنایا ۔پاکستان کی پوری تاریخ میں تحریک مقاصد سے لے کر احمدیوں کو اقلیت قرار دینے تک نام نہاد غیر مذہبی پارٹیاں اور شخصیات ہی مذہبی ایجنڈے کے نفاذ کے لئے استعمال ہوئیں۔
یحییٰ خان لاکھ ’بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘ کے فارمولے کے تحت زندگی گزار رہے ہوں لیکن مذہبی نظام کے نفاذ کے سلسلے میں ان کی خدمات ایسی تھیں کہ جماعت اسلامی کے مولانا طفیل احمد تک نے ان کی حمایت کی۔ ذوالفقار علی بھٹو عوامی جلسے میں یہ کہ کر بھی کہ ’تھوڑی سی پی لیتا ہوں‘ نفاذ شریعت کا فریضہ نبھانے کی پوری کوشش کرتے رہے۔
ماضی میں مذہبی جماعتوں نے اپنا ایجنڈا دوسری پارٹیوں کے ذریعے سے نافذ کروایا۔ اب وہ خود میدان میں آکر اس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں تو لگتا ہے کہ پاکستان مذہبی ڈکٹیٹرشپ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی اس کا شکار ہو چکا ہے۔ اس امر کا احساس اس لئے مفقود ہے کہ زیادہ عرصہ فوج اقتدار پر قابض رہتی ہے اور اصلی اور نقلی جمہوریت کی تمیز ہو نہیں پاتی۔ سب پارٹیاں الیکشن کا مطالبہ کرتی ہیں تو تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت بھی نافذ کرنا چاہتی ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں۔ محترمہ بینظیر کا یہ کہنا تو درست ہے کہ محض الیکشنوں سے جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی لیکن ان کے پاس کوئی ٹھوس پروگرام بھی نظر نہیں آتا جس سے حقیقی جمہوریت قائم ہو سکتی ہو۔