نصرت جہاں
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ایسا لگتا ہے کہ بالی ووڈ میں تبدیلی کی ہوا چل نکلی ہے اور باکس آفس پر ایسے ادکار کامیاب ہو رہے ہیں جو روائتی ہیرو یا ہیروئینز کی طرح نہیں لگتے۔اور نہ ہی ان کے جیسے کردار نبھاتے ہیں۔
مثلا کسی فلم میں ایک بیچارے دبلے پتلے ہیرو کا دس دس غنڈوں کو مار مار کر بکری بنانا، فضا میں بلند ہیلی کاپٹر یا کبھی کبھی جہاز سے چھلانگ لگانا اور ہیرویین کا خوبصورت کپڑوں اور میک اپ میں لندن اور سوئیزر لینڈ میں ہیرو کے ساتھ گانے گانا۔
اس تبدیلی کے بارے میں کہا یہ جا رہا ہے کہ سنیما شائقین کا ٹیسٹ بدل رہا ہے اور ان میں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔جو پیج تھری جیسی روش سے ہٹ کر چھوٹے بجٹ کی فلموں کو سراہنے لگے ہیں۔
اب چاہے وہ پیج تھری ہو یاپھر ’مائی برادر نکھل‘ یا پھر سدھیر مشرہ کی فلم ’ہزاروں خواہشیں ایسی‘۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک عام آدمی کی کہانی کو بہت ہی سادہ اور خوبصورت انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو بات لوگوں کے دل کو چھو جاتی ہے۔
چلئے دیکھتے ہیں کہ تبدیلی کی یہ ہوا عارضی ہے یا واقعی فلم سازی کی ایک نئی شروعات۔
مزے کی بات یہ ہے کہ کشمیرہ شاہ کا کہنا ہے کہ وہ ملکہ شیراوت اور راکھی ساونت کی جیسی ہیروئینوں کے ساتھ اپنا موازنہ نہیں کرانا چاہتیں۔ کیا بات ہے کشمیرہ جی! ہمیں تو لگتا تھا کہ یہ دو معصوم لڑکیاں آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بحر حال ریوتی 29 مئی کو رلیز ہونی ہے۔ دیکھئے ملکہ رلیز سے پہلے کچھ کر پاتی ہیں یا نہیں۔