Tuesday, 29 March, 2005, 12:56 GMT 17:56 PST
امریکہ کے انسٹھ سابق سفارت کاروں نے امریکی سینیٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین کو جان بولٹن کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مقرر کرنے کے فیصلے پر ایک احتجاجی مراسلہ بھیجا ہے۔
امریکہ میں ڈیموکریٹک اور رپبلکن پارٹیوں کے دور میں خدمات انجام دینے والے ان سابق سفارت کاروں نے اس احتجاجی مراسلے میں اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے عہدے پر جان بولٹن کے انتخاب کو غلط قرار دیا ہے۔
انہوں نے سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تقرری کو روک دیں۔
جان بولٹن، صدر بش کے پہلے دورے حکومت میں نائب وزیر خارجہ کے عہدے پر کام کر چکے ہیں جن کی ذمہ داری مہلک ہتھیاروں کے پھلاؤ کو روکنا تھا۔
جان بولٹن پر اٹھائے جانے والے اعتراضات میں سے سب سے زیادہ اہم ان کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی اہمیت اسی وقت تک قائم ہے جب تک وہ امریکی مقاصد کو پورا کرنے میں موثر اور مدد گار ہے۔
اس کے علاوہ نائب وزیر خارجہ کی حیثیت سے ان کی کارکردگی جن کی ذمہ داری مہلک ہتھیاورں کے پھلاؤ کو روکنا تھا ان پر اٹھائے جانے والے اعتراضات میں شامل ہے۔
سفارت کاروں کے مطابق امریکی کی سلامتی کو مہلک ہتھیاروں کے پھلاؤ سے لاحق ہونے والے خطروں کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو کمزور کرنے کے حوالے سے جان بولٹن کا ریکارڈ بہت شاندار ہے۔
ان مراسلے پر دستخط کرنے والوں میں ارتھر ہرٹمین بھی شامل ہیں جو کہ فرانس اور سویت یونین میں جمی کارٹر اور رچرڈ نکسن کے دور میں یورپی امور کے نائب وزیر خارجہ کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
جان بولٹن کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کی ذمد داریاں سنبھالنے سے پہلے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کی منظوری درکار ہے جس میں دس رپبلکن اور آٹھ ڈیموکریٹ ارکان موجود ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس نے مارچ کے اوئل میں جان بولٹن کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جان بولٹن ایک مضبوط اعصاب کے سفارت کار ہیں۔