Wednesday, 09 February, 2005, 14:20 GMT 19:20 PST
اشعر رحمان
پاکستان
فیض احمد فیض نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ بچپن میں ان کی خواہش کر کٹر بننے کی تھی۔ مگر کرکٹ انہوں نے کبھی کھیلی نہیں اور شاعر بن گئے۔
’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘ ان کی مشہور لائن ہے مگر خود وہ کم گو تھے۔
ہمارے آج کل کے کرکٹر آل راؤنڈر بننا چاہتے ہیں۔ یہ come-go ہیں مگر تبصرہ کرنے میں اپنی نظیر نہیں رکھتے اور زیادہ تر یہ تبصرہ ان کے اپنے کھیل کے متعلق ہوتا ہے۔
راولپنڈی سازش کیس اور راولپنڈی ایکسپرس میں بہت فاصلہ ہے۔ اس وقت کے باغی اور آج کل کے باغی میں بہت فرق ہے۔ آج کل کا باغی امریکی لہجہ میں بولتا ہے اور بولتا ہی چلا جاتا ہے۔ آپ چاہیں سمجھیں یہ نہ سمجھیں یا جو آپ کا دل چاہے کہیں اس ’بولاہٹ‘ کی ساری ذمہ داری کرکٹرز پر ڈالنا بہرحال زیادتی ہوگی۔ آج کے کھیل کے اپنے کچھ تقاضے ہیں۔
ایک کھلاڑی اچھا کھیل پیش کرے گا تو اس کے مین آف دی میچ بننے کے چانسز بھی ہونگے اور جب یہ ہو گا تو کھیل کے اختتام پر شکریہ کے کلمات بھی ادا کرنے ہوں گے۔ ایسے واقع پر ہمارے ہونہار کرکٹر خدا کو یاد کرتے سنائی دیتے ہیں جس کی شاید ایک سے زیادہ وجوہات ہیں۔ جس کا کام بہر حال کھیلنا ہے اور جس کا مطمع نظر کھیل میں مہارت ہونا چاہیے، کھیل کے اختتام پر
انٹرویو کرنے والے صاحب سے اختصار کی درخواست کرتا سنائی دیتا ہے۔
ایک عام خیال ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کو انگریزی میں بولنا چاہیے یا پھر اردو میں بات کرنا چاہیئے کیونکہ دوسرے ممالک کے کرکٹرز انگریزی بولتے ہیں۔
![]() کیا شعیب انضمام سے بہتر ہیں؟ |
شاید تھیوری کچھ یوں ہے کہ ہم نے انگریزوں سے ان کے کھیل سیکھنے میں اتنی مہارت دکھائی تو ساتھ ساتھ تھوڑی زبان بھی سیکھ لیتے۔ زبان کے استعمال پر عبور
ہمیشہ سے کپتان کے انتخاب میں اہم رہا ہے۔ کپتان کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا تاکہ وہ بوقتِ ضرورت اپنا اور اپنی ٹیم کا مدعا بیان کر سکے۔
باقی کھلاڑیوں پر بات کرنے کا پریشر اتنا نہیں ہوتا تھا جتنا کہ اب ہے۔ اگر کبھی اس روایت سے انحراف کیا جاتا تو متعلقہ بورڈ کو خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا جیسا کہ آج سے ربع صدی قبل جاوید میانداد کو کپتان بنانے پر کرکٹ بورڈ کو کافی وضاحتیں پیش کرنا پڑی تھیں۔
موجودہ کرکٹ بورڈ کو کھلاڑیوں میں اظہار و ابلاغ کی کمی کا شدت سے احساس ہے۔ کرکٹ بورڈ ایک اکیڈمی چلاتا ہے جہاں پر کھیل میں بہتری کے ساتھ اظہار میں بہتری پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
![]() انگریزی کا مقابلہ تو بھارتی ٹیم سے ہے |
پھر سرگوشیوں میں یہ باتیں بھی کہ ان صاحب کو کپتان بنایا جا سکتا ہے یا یہ کہ وہ کپتانی کے امیدوار ضرور ہیں۔ جس طرح ہچکچاہٹ شور سے بہتر ہے اسی طرح انضمام الحق شعیب اختر سے بہتر ہے۔ کھیل میں مہارت کی بحث اپنی جگہ۔