Wednesday, 19 January, 2005, 08:45 GMT 13:45 PST
واشنگٹن ڈائری
منظور اعجاز
پاکستان سے آنے والے ایک پاکستانی امریکی نے بتایا کہ انہوں نے دوگھنٹے تک امریکی امیگریشن کے ذلت آمیز رویے کا سامنا کرتے ہوئے جب صدر بش کا ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی تعریف و توصیف میں بیان پڑھا تو سوائے مُسکرانے کے کچھ نہ کر سکے کیونکہ ان کے ساتھ اس عظیم رہنما کی برسی سے ایک دن پہلے وہی کچھ ہو رہا تھا جس کو ختم کرنے کاخواب ڈاکٹر کنگ نے دیکھا تھا۔
معلوم نہیں امریکی امیگریشن والوں نے صدر بش کا یہ بیان پڑھا کہ نہیں جس میں انہوں نے 16 جنوری کو مذہبی آزادی کا دن قرار دیا ہے کیونکہ وہ حسن، حسین، علی اور محمد جیسے نام والوں کو ویسے ہی روکتے رہے جیسے کہ 11/9 کے بعد معمول بن چکا ہے۔ اگرچہ صدر بش جلد ہی عیدالضحیٰ پر مسلمانوں کے نام سلامتی اور خیر سگالی کا پیغام جاری کریں گے لیکن خود ان کی پارٹی کے مسلمان 20 جنوری کو ہونے والی ان کی رسم حلف داری یا تاج پوشی کی تقریبات میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ سکیورٹی والوں کی نظر میں ہر مسلمان سلیپنگ یا چھپا ہوا دہشت گرد ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے بڑے جگادری مسلمان ریپبلکن پارٹی کنونشن کے قریب بھی نہیں پھٹکے تھےکہ کہیں دھر نہ لیے جائیں۔
٭٭٭٭
ضامن کی بات چلی تو یاد آیا کہ بگلیہار ڈیم کے تنازعے پر پاکستان میں میڈیا کے تاثرات کے برعکس ورلڈ بینک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم سندھ طاس معاہدے کی ضامن نہیں ہے۔ ورلڈ بینک کے ماہرین کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بینک کے قانونی ماہر جناب سلمان سلمان نے کہا ہے کہ ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے کا دستخط کنندہ ضرور ہے لیکن وہ اسے لاگو کرنے کا ضامن نہیں ہے۔ ورلڈ بینک کی ذمہ داری یہ ہے کہ اگر دونوں فریق سندھ طاس کمیشن کے تحت جھگڑے کو نپٹا نہ سکیں اور غیر جانبدار تکنیکی ماہر پر بھے رضامند نہ ہوسکیں توورلڈ بینک دونوں کے صلاح مشورے کے بعد ایسا ماہر نامزد کرے۔ اگر اس ماہر کی رائے پر دونوں فریق میں سے کوئی عمل نہ کرے تو ورلڈ بینک ثالثی عدالت کا اہتمام کرے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غیر جانبدار ماہر کے اخراجات کے لیے معاہدہ کرتے وقت دونوں ملکوں نے پانچ پانچ ہزار ڈالر جمع کروائے تھے جو اب بڑھ کر ایک لاکھ ڈالر ہو گئے ہیں۔ اگر جھگڑے کو نپٹانے کا خرچ جمع رقم سے زیادہ ہوتا ہے تو دونوں ملک یہ رقم ادا کریں گے۔
جناب سلمان سلمان اس پہلو پر خاموش تھے کہ اگر ایک فریق کسی بھی غیر جانبدار ماہر کے بارے میں ورلڈ بینک کی تجویز منظور نہ کرے تو کیا ورلڈ بینک فریقین پر اپنا فیصلہ تھونپ سکتا ہے؟ بینک کے ایک دوسرے ماہر جناب مسعود احمد کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے اور اس میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان ماہرین کی رائے میں یہ معاہدہ دنیا میں پانی کی تقسیم کا سب سے زیادہ جامع اور کامیاب ترین معاہدہ ہے جس میں 45 سال میں دونوں فریقین نے باوجود جنگیں لڑنے کے اس معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ مغربی دریا (چناب، جہلم اور سندھ) مکمل طور پر پاکستان کے تصرف میں ہوں گے اور مشرقی دریا (راوی، بیاس اور ستلج) ہندوستان کے مکمل استعمال میں۔ ہندوستان مغربی دریاؤں کے پانی سے بجلی بھی پیدا کرسکتا ہے اگر وہ پانی کی ذخیرہ اندوزی نہ کرے اور پانی کے بہاؤ کو متاثر نہ کرے۔ پاکستان مشرقی دریاؤں، بالخصوص راوی پر کچھ حقوق رکھتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین اور افغانستان اس معاہدے میں شامل نہیں ہیں حالانکہ کچھ دریا ان کی علاقوں سے شروع ہوتے ہیں یا گزرتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک اور کشمیر ایک آزاد ملک کے طور پر مسائل کو پیچیدہ کر سکتے ہیں۔
اسی دوران سابقہ وزیر اعظم جناب نواز شریف نے ایک اردو کالم نگار کو بتایا ہے کہ ان کے زمانے تک ہندوستان کو اس طرح کے ڈیم بنانے کی جرات نہ ہوئی اور یہ کہ انہوں نے ہندوستان کے وزیر اعظم کو دھمکی دی تھی کہ اگر انوں نے وولر ڈیم پر کام جاری رکھا تو اسے بموں سے اڑا دیا جائے گا کیونکہ یہ پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ بعد میں مجاہدین نے وولر ڈیم کو اڑا دیا تھا اور آج تک اس پر دوبارہ کام نہیں شروع ہو سکا۔ ایک پاکستانی سفارت کار کا کہنا ہے کہ مجاہدین سے معاونت کا ایک مقصد ہندوستان کو اس طرح کے ڈیم تعمیر کرنے سے باز رکھنا تھا جو اب ناممکن ہو چکا ہے۔ کیا ورلڈ بینک مجاہدین کا کام کرسکے گا؟ کم از کم ورلڈ بینک والوں نے کہہ دیا ہے کہ ہمارا انتظار نہ کیا جائے!
٭٭٭٭
فوکس نیوز کے راجرز فریڈ مین نے اپنے ایک مراسلے میں لکھا ہے کہ اگرچہ یہ ایوارڈ ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن کی طرف سے دیئے جاتے ہیں لیکن اس ایسوسی ایشن کے ممبران کا پریس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے ممبران ایسوسی ایشن میں اپنی شمولیت کے جواز کے لئے اپنے آپ کو فوٹو گرافر ظاہر کرتے ہیں اگرچہ ہالی وڈ کی سب سے بڑی فوٹو ایجنسی اس میں شامل نہیں ہے۔ اس کی ایک تا حیات ممبر، مرین ڈریگون کا کہنا ہے کہ اس کے ممبران میں اکثریت بوڑھے اور ریٹایرڈ لوگوں کی ہے یا اس میں وہ لوگ ہیں جن کے والدین کبھی ممبر تھے۔ اکثر ممبران دور دراز ملکوں کے خیالی اخباروں کے نمائندے ہیں۔ لیکن این بی سی ٹی وی اس تنظیم کو دس ملین ڈالر دیتا ہے جس سے اس کے ممبران کا خرچہ پانی چلتا ہے۔ ہم امریکہ میں رہتے ہیں لیکن ہمارا کوئی ماما چاچا ان خوش قسمت 90 افراد میں نہیں ہے!