Monday, 10 May, 2004, 17:30 GMT 22:30 PST
عارف شمیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں، محو غمِ دوش رہوں
نالے بُلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
جرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے، خاکم بہ دہن، ہے مجھ کو
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
سازِ خاموش ہیں، فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے
خُوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
اُمتیں اور بھی ہیں، ان میں گنہگار بھی ہیں
عجز والے بھی ہیں، مست مئے پندار بھی ہیں
ان میں کاہل بھی ہیں، غافل بھی ہیں، ہشیار بھی ہیں
سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے، ناداری ہے
کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟
بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا
رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا
(علامہ اقبال کی نظم شکوہ کے چند اشعار)
میں نے پیشن آف دی کرائسٹ نہیں دیکھی۔ میں فلم کے مرکزی کردار کا درد نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ پر میں نے وہ تصاویر ضرور دیکھیں ہیں جن سے آجکل نظریں بچانا اور ملانا دونوں ہی مشکل ہو رہا ہے۔
کبھی ایک نوجوان عورت برہنہ عراقی قیدیوں کی طرف دیکھ کر ٹھٹھے لگا رہی ہے اور کبھی وہ ان برہنہ قیدیوں کا پہاڑ بنا کر تصویر کے لئے پوز کر رہی ہے۔
![]() کیا صدیوں سے کچھ نہیں بدلہ |
اور بھی بہت کچھ ہے لیکن میں پیشن آف دی کرائسٹ میں دکھایا گیا درد محسوس کر سکتا ہوں اس لئے میں ابو غریب کے ان غریبوں کے متعلق زیادہ لکھ کر ان کو اور اپنے آپ کو زیادہ دکھ نہیں پہنچانا چاہتا۔
دنیا بھر میں قابض فوجیوں کے ان قبیح افعال کی بہت مذمت کی گئی اور جتنی بھی کی جائے کم ہے پر عراق میں قتلِ عام کم نہیں ہوا اور نہ امریکہ یا برطانیہ میں کسی نے اس فعل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ چند فوجیوں کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور شاید انہیں سزا بھی دی جائے۔ یہ بالکل اس طرح ہے جس طرح اسرائیل اور فلسطین میں نہ تو ہلاکتیں بند ہوتی ہیں اور نہ کوئی کبھی احساس ندامت سے استعفیٰ دیتا ہے۔ بلکہ اسرائیل اور فلسطین دونوں جگہ ہی سینہ ٹھوک کر اپنے آپ کو ہلاکتوں کا ذمہ دار کہا جاتا ہے اور مزید ٹارگٹ کی وضاحت کی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اسی طرح چل رہا ہے۔
کرائسٹ بھی اسی علاقے میں تقریباً دو ہزار سال پہلےگلے میں صلیب لٹکائے اسی طرح چل رہے تھے۔
جب ان کے ساتھ بھرے مجمعے کے سامنے ظالمانہ برتاؤ کیا جا رہا تھا تو لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے پر وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اب بھی لوگ آنسو بھری آنکھوں سے بے بس قیدیوں کی تصاویر دیکھ رہے ہیں۔
جب صدام حسین کو اقتدار سے ہٹا کر عراق پر اتحادیوں نے قبضہ کیا تھا تو اس وقت ایک تصویر مجھے نہیں بھولتی۔ ایک عراقی جس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔ اس کے سر پر ہُڈ یا تھیلا پہنایا گیا تھا اور اس کے ساتھ اس کا ایک سات آٹھ سال کا بچہ بیٹھا تھا۔ اس وقت بھی میں نے کئی مرتبہ اپنے آپ کو اس بچے کی جگہ رکھ کر سوچا کہ اس کے ذہن میں اس وقت کیا چل رہا ہو گا۔ وہ اپنے باپ سے پوچھتا ہو گا کہ تمہیں اس طرح کیوں بنا دیا گیا ہے۔ اور اس کا باپ اسے کیا کہہ کر تسلی دے رہا ہو گا یہ میں نہیں سوچ سکتا۔ میں یہ سوچنے سے قاصر ہوں۔ خدا کس طرح یہ ہونے دیتا ہے اور اس بچے کو کسی طرح حوصلہ دیتا ہے کہ وہ یہ سب بربریت برداشت کر سکے۔
![]() طاقت کا نشے میں چور امریکی لڑکی |
چند خطوط حسبِ ذیل ہیں۔
’ڈیئر گاڈ
یہ ٹھیک ہے کہ تم نے مختلف مذاہب بنائے ہیں لیکن کیا تم کبھی ان میں گڈمڈ نہیں کر جاتے۔
ڈیئر گاڈ
میں انگلش ہوں تم کیا ہو؟
ڈیئر گاڈ
انسانوں کو بار بار پیدا کرنے اور مارنے سے یہ بہتر نہیں جنہیں آپ لے گئے ہیں انہیں ہی اپنے پاس رکھیں۔
ڈیئر گاڈ
ملکوں کی سرحدوں کی لکیر کون لگاتا ہے؟
ڈیئر گاڈ
کیا جانور بھی آپ کو ہی استعمال کرتے ہیں یا ان کے لئے کوئی اور ہے؟
ڈیئر گاڈ
آپ کو کس نے بتایا کہ آپ خدا ہیں؟
ڈیئر گاڈ
کیا آپ واقعی ہی نہ نظر آنے والے ہیں کہ یہ کوئی جادو ہے؟‘
اے خدا کوئی جادو ہو کوئی معجزہ ہو، کوئی انہونی ہو۔ کچھ ایسا ہو کہ سب ٹھیک ہو جائے۔ انسان کی تذلیل کرنے والوں کو عقل آئے اور جسم پر بم باندھنے والوں کو صبر۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو بچے یہ پوچھتے رہیں گے کہ تم کس کے ساتھ ہو۔ انگریز ہو کہ عربی۔
پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں، تُو بھی تو دل دار نہیں!