آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آپ کے بچے طنز کرنا پسند کرتے ہیں؟ پریشان مت ہوں یہ ذہانت کی علامت ہے
- مصنف, ڈیوڈ رابسن
- عہدہ, سائینسی امور کے مصنف
- وقت اشاعت
آپ کا کم سِن بچہ طنز نہیں کرتا ہے، لیکن جب وہ جوان ہو گا تو طنز و مزاح کرنا اُس کی طبیعت کا قدرتی حصہ ہو گا۔ سائنس کہتی ہے کہ ایک فقرے میں طنز کرنے والے افراد زبردست ذہنی صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں۔
اگر میں آپ کو بتاؤں کہ طنز ہماری سب سے طاقتور لسانی مہارتوں میں سے ایک ہے تو آپ کا پہلا جواب معقول طور پر ہو سکتا ہے کہ ’ہاں، آپ کی بات ٹھیک ہو سکتی ہے!‘ شاید آپ صرف یہ سمجھیں گے کہ میں آپ کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق کر رہا ہوں۔
ہمیں اکثر آسکر وائلڈ کے اس طنزیہ فقرے کے بارے میں یاد دلایا جاتا ہے کہ ’طنز عقل کی سب سے پست شکل ہے‘ جبکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ الفاظ کے ہیر پھیر کرنے والے اس معروف ادیب نے اس بات کے فوراً بعد یہ بھی کہا تھا کہ ’لیکن طنز ذہانت کی اعلی ترین شکل‘ ہے۔ خاص طور پر نوعمر بچوں کے والدین یا اساتذہ کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ یہ لسانی بازی گری (طنز) ایک لچکدار اور تخلیقی ذہن کی علامت ہے۔
اور اسی کے بارے ماہرین نفسیات اور نیورو سائنس دان اب یہی بحث کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی تحقیق سے یہ دریافت کیا ہے کہ ہے کہ طنز کے لیے دماغ کو ایک درست معنی تک پہنچنے کے لیے متعدد زاویوں سے سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں لفظی بیان سے زیادہ دماغی طاقت کی ضرورت پڑتی ہے۔
اور اگرچہ اسے اکثر نابالغ ایک خیالی سی وضاحت سمجھ کر جھٹک دیتے ہیں، طنز دراصل دماغی ذہانت کی پختگی کا ثبوت ہے۔ کیونکہ بچے کے نشوونما پذیر دماغ کو اس صلاحیت کو مکمل طور پر سمجھنے اور اس پر عبور حاصل کرنے میں کئی سال لگتے ہیں۔
کیلگری یونیورسٹی کی ماہر نفسیات پینی پیکسمین کا اس عمل کے بارے میں کہنا ہے کہ ’یہ کافی مشکل ہو سکتا ہے۔‘
ذہنی محنت اور مشق رنگ لاتی ہے۔ طنز ہمیں اپنے معاملات میں انتہائی ضروری باریکیاں سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے، ہماری توہین سے پہنچنے والے دھچکے کو نرم کرتا ہے یا تعریف میں ایک چنچل چھیڑ چھاڑ شامل کرتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ شواہد ایسے بھی موجود ہیں کہ یہ ہمیں زیادہ تخلیقی بنا سکتا ہے اور جب ہم مایوسی کا شکار ہوتے ہیں تو یہ منفی جذبات کی کیفیت سے باہر نکالنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔
پیکسمین طنز کی اہمیت کے اس قدر قائل ہیں کہ انھوں نے اب ان لوگوں کی مدد کے لیے تربیتی پروگرام تشکیل دینا شروع کر دیے ہیں جو یاسیت کی حالت میں ہماری مدد کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابتدائی مراحل
طنز کی پیچیدگی کے کچھ اشارے بچپن میں ہونے والی نشوونما کے دوران سمجھ میں آنا شروع ہوتے ہیں۔
عام طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچے لفظوں میں موجود طنز کا پتہ لگانے سے قاصر ہوتے ہیں اور بولنے والی کی باتوں کا لفظی یا وہ مطلب لیتے ہیں جو وہ بظاہر کہہ رہے ہوتے ہیں۔ اور یہاں تک کہ جب وہ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ الفاظ میں کسی قسم کے پوشیدہ معنی ہوتے ہیں تو انھیں ان الفاظ کے معنوں کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے (مثال کے طور پر وہ سوچ سکتے ہیں کہ کوئی محض جھوٹ بول رہا ہے)۔
بچے طنز و مزاح میں طنز کے استعمال کی سمجھ، چھیڑ چھاڑ کی ایک شکل کے طور پر کافی دیر بعد سمجھنا شروع کرتے ہیں۔ پیکسمین کہتی ہیں کہ ’یہ صلاحیت خاص طور پر دیر سے پیدا ہوتی ہے۔ اوسطاً نو یا دس سال کی عمر میں۔‘
یہ بھی پڑھیے
ایسا لگتا ہے کہ دماغ کی یہ ترقیاتی آرک ’نظریہ دماغ‘ کے ظہور کے بعد پیدا ہوتی ہے ۔ ایک بچے کی دوسرے کے ارادوں کو سمجھنے کی صلاحیت جو عمر کے ساتھ ساتھ اور زیادہ نفیس ہوتی جاتی ہے۔
دوسرے عوامل میں الفاظ اور گرائمر شامل ہو سکتے ہیں، لطیف آواز کے اشاروں کو حاصل کرنے کی صلاحیت جو طنزیہ معنی کا اشارہ دے سکتی ہے، اور ان سیاق و سباق کی سمجھ جن میں طنز کی توقع کی جا سکتی ہے یا نہیں بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ صلاحیت سماجی حالات کے وسیع تجربے کے ساتھ ہی پیدا ہو سکتی ہے۔
پیکسمین کہتی ہیں کہ ’یہ تمام ٹکڑے ہیں جو ایک بچے کو ایک ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی ایک ٹکڑا اکیلی حیثیت میں خود طنز کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘
اس کی تازہ ترین تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بچے کے گھر کا ماحول ان کی سمجھ اور طنز کے استعمال پر بہت زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگر والدین طنز کا استعمال کرتے ہیں، تو بچوں میں یہ صلاحیت خود سے پیدا کرنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔
پیکسمین کا کہنا ہے کہ ’چار برس کے قریب بچوں میں یہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے نقطہ نظر کو سمجھ سکتے ہیں اور یہ پہچان سکتے ہیں کہ کوئی ان کے ذہن میں جو عقیدہ (یا خیال) رکھتا ہے وہ ان کے اپنے خیال سے مختلف ہے۔‘
طنز پیچیدہ ہے کیونکہ بچے کو طنز کرنے والے کے اصل عقیدے اور دوسرے شخص کے ذریعے اپنے الفاظ کی ترجمانی کرنے کے طریقے دونوں کو سمجھنا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس پر بچے کو عبور حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ (عام طور پر سات سال سے کم عمر کے بچوں کو اپنے ذہن میں ممکنہ طور پر دو متضاد یا مخالف خیالات کو ذہن میں رکھنا یا سوچنا کافی مشکل ہوتا ہے۔)
نوعمر ہونے تک بہت سے بچوں نے ان پیچیدہ مہارتوں پر عبور حاصل کر لیا ہوتا ہے اور یہ شاید کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ پھر وہ ان کے ساتھ تجربہ کرنے اور دوسروں پر اپنے اثرات کو جانچنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
تخلیقی بول چال
اگر آپ کو اب بھی یقین نہیں ہے کہ آپ کے نوجوان کی طنز سے محبت ایک ایسا سنگ میل ہے جس کا جشن منایا جا سکتا ہے تو آئیے برطانیہ کی ناٹنگھم یونیورسٹی کی ماہر نفسیات روتھ فیلِک کے حالیہ تجربے پر غور کریں۔ اُن کے تجربے کے شرکا سے کہا کہ وہ ایف ایم آر آئی سکینر میں جھوٹ بولیں جیسا کہ وہ روز مرّہ کی زندگی میں عام طور پر جھوٹ بولتے ہیں۔
کچھ معاملات میں کرداروں کے بیانات کا مقصد نرمی سے طنزیہ ہونا تھا، مثال کے طور پر:
برنیس اور کیٹلن دونوں امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں نفسیات کے کورس کے لیے درخواست دے رہی تھیں۔ وہ ایک ساتھ اپنی درخواستوں کو پرنٹ کرنے گئیں۔ پرنٹر میں صرف گلابی کاغذ دستیاب تھا۔ برنیس نے کیٹلن سے کہا کہ ’یہ تو بہت رسمی ہے!‘
دوسروں میں وہی الفاظ کسی خاص شخص پر طنزیہ تنقید کے طور پر استعمال کیے گئے:
برنیس اور کیٹلن دونوں امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں نفسیات کے کورس کے لیے درخواست دے رہی تھیں۔ وہ ایک ساتھ اپنی درخواستوں کو پرنٹ کرنے گئیں۔ کیٹلن نے اسے گلابی کاغذ پر پرنٹ کرنے کا انتخاب کیا۔ برنیس نے کیٹلن سے کہا کہ 'یہ تو بہت رسمی ہے!‘
دونوں قسم کے طنز نے دوسرے لوگوں کے عقائد اور ارادوں کو سمجھنے میں شامل ’ذہنی سازی کے عمل‘ کے نیٹ ورک کو ختم کر دیا۔
تاہم فیلِک نے یہ دریافت کیا کہ اہم بات یہ ہے کہ طنز نے غیر طنزیہ مزاح کے مقابلے میں عام زبان کی پروسیسنگ میں شامل الفاظ کی معنویت کے نیٹ ورک اور مزاح میں شامل دماغی خطوں میں بھی زیادہ سرگرمی کو جنم دیا ہے، جسے وہ اس کی مجموعی پیچیدگی کی علامت سمجھتی ہے۔
’دوسرے شخص کے عقائد یا خیالات کو سمجھنا ایک کافی کٹھن معاملہ ہے، کہ انھوں نے ایسا کیوں کہا، اور کیا انھوں نے جو کہا ہے اس کا واقعی وہی مطلب ہے جو وہ کہہ رہے ہیں یا وہ مزاح پیدا کر رہے ہیں۔‘
یہ ذہنی مشق کچھ حیران کن فوائد بھی پہنچا سکتی ہے۔ ہاورڈ اور کولمبیا یونیورسٹیوں کے ساتھیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے، فرانس کے فونٹین بلیو میں انسیڈ کے بزنس سکول میں لی ہوانگ نے یہ دکھایا ہے کہ طنزیہ تبصروں کا اظہار کرنا، اور ایسے ہی تبصرے وصول کرنا یا یاد کرنا دونوں تخلیقی سوچ کو متحرک کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اس کے تجربات میں سے ایک میں ’شمع کا مسئلہ‘ شامل تھا، مثال کے طور پر جس میں شرکا کو شمع اور ماچس کا ایک پیکٹ اور سمتوں کی نشاندہی کرنے والے ٹیکوں کا ایک ڈبہ پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا چیلنج یہ ہے کہ شمع کو دیوار سے جوڑنے کا راستہ تلاش کریں تاکہ یہ فرش پر موم ٹپکائے بغیر جل سکے۔
مزاح کی ایک شکل کے طور پر طنز بھی مایوسی یا تناؤ سے نمٹنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔
شمالی کیرولائنا کے گرین ویل میں ایسٹ کیرولائنا یونیورسٹی میں کیتھرین روتھرمچ کا کہنا ہے کہ ’یہ (دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک) بھاپ چھوڑنے (والے انجن) کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کووڈ 19 وبائی مرض کے مقابلے میں افسردہ اور پریشان افراد کے طنز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جو اس سے نمٹنے کے طریقہ کار کی عکاسی کر سکتا ہے۔
پیکسمین کہتی ہیں کہ ’آپ کے پاس بنیادی معنی پر سطحی معنی کا ایک پردہ ہے۔ یہ ایک نرم سی چھیڑ چھاڑ ہو سکتی ہے، اور اگر آپ کسی پر واضح طور پر تنقید کر رہے ہیں تو اس انداز سے کہ آپ کو اپنی کہی ہوئی بات کی تردید کرنے کا موقع بھی ہو (یعنی یہ کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں تھا)، جو آپس میں کسی جھگڑے کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
طنز بھڑاس نکالنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے
جب کہ یہ تحقیقات نوعمروں کے بجائے بالغوں کے ساتھ کی گئی تھیں لتو ایسا لگتا ہے کہ نوعمروں کو بھی اسی طرح کے احساسات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ طنز کا استعمال کرتے ہیں اور یہ منفی احساسات یا مشکل حالات سے نمٹنے کا ایک مفید طریقہ تلاش کر سکتے ہیں۔
طنز کی تربیت
یہ ابتدائی طور پر ایک صدمے کی طرح محسوس ہو سکتا ہے جب والدین اپنے بچوں کو طنز کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ شاید ایک علامت، جو زیادہ بالغ لوگوں کے طنز و مزاح کے انداز کی وجہ سے ان کی سنِ بلوغت میں داخل ہونے والی اولاد کی معصومیت کے دور سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
والدین کسی ایسے نوجوان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت خاص طور پر بے بس محسوس کر سکتے ہیں جو اسے تقریباً تمام تعاملات میں داخل کرتا ہے۔
پیکسمین اس سے اتفاق کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایسے بچوں کو طنز سکھانے کے طریقے دریافت کرنا شروع کر دیے ہیں جو اس کی باریکیوں کو سمجھنے میں سست ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ’سڈنی طنزیہ باتیں کرتا ہے‘ کے عنوان سے ایک کتاب کی شکل میں نکلا ہے۔
یہ ایک کہانی کی کتاب ہے جو طنز کی متعدد مثالیں اور اس کے استعمال کی وجوہات فراہم کرتی ہے۔ اس نے 5 سے 6 سال کی عمر کے بچوں پر کیے گئے ایک حالیہ تجربے میں دکھایا کہ جو بچے کہانی کو پڑھتے اور اس پر بحث کرتے ہیں انھیں بعد کے ٹیسٹوں میں طنزیہ بیانات کا پتہ لگانا آسان معلوم ہوتا ہے۔
طنز کی خراب ساکھ کو دیکھتے ہوئے ہم سب اس کی پیچیدگی اور نفاست کی قدرے زیادہ بہتر قدر کر سکتے ہیں۔ میں جب یہ کہتی ہوں کہ یہ زبان کی مہارت کے سب سے بڑے تحفوں میں سے ایک ہے تو میں واقعتاً یہاں طنز نہیں کر رہی ہوں۔
ڈیوڈ رابسن لندن، برطانیہ میں مقیم ایک سائنسی امور کے مصنف ہیں۔