آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سپریم کورٹ: مشرف کو سزائے موت دینے والی عدالت کی تشکیل کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے ’دائرہ اختیار سے بڑھ کر ریلیف دیا‘

سپریم کورٹ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں موت کی سزا دینے والے خصوصی بینچ کی تشکیل کو لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے غیر آئینی قرار دینے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ’لاہور ہائیکورٹ نے استدعا سے بڑھ کر ریلیف دیا کیونکہ درخواست گزار نے خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم قرار دینے کی استدعا ہی نہیں کی تھی۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    پاکستان سے متعلق تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  2. کوئٹہ: غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاون کا دوسرا مرحلہ شروع

    کوئٹہ میں نگراں صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاون کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے، جس میں اب تک دو ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑا کر سرحد پار واپس روانا کر دیا گیا ہے۔‘

    نگران صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی غیر قانونی تارکین وطن کو نہیں چھوڑا جائیگا، اسٹاپ اور سرچ کی پالیسی پر بھی کام کر رہے ہیں، اس کی تحت قانون نافذ کرنیوالے ادارے کسی کا بھی شناختی کارڈ دیکھ سکتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھاگ کہ ’جنوری کے آخر تک دس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجا جائیگا، اور پاک افغان سرحد کی بندش کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘

    جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’14 ستمبر کو ولی تنگی ڈیم کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، جس میں پاک فوج نے حملہ آوروں کو بھرپور جواب دیا اور بعد میں دہشتگردوں نے ولی تنگی ڈیم پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، دہشتگرد تنظیمیں اپنے دہشتگردوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اب تاک کوئٹہ کے راستے سرحد پار کرنے والے تارکینِ وطن کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ہے، مزید یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دو لاکھ جعلی شناختی کارڈ بنائے گئے ہیں اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔‘

    نگراں صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے بتایا کہ صوبائی دارلحکومت میں غیر قانونی طور پر مکین تارکین وطن کی تعداد 10 لاکھ کے قریب ہے۔

  3. مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی ایفی ڈرین کیس سے بریت سپریم کورٹ میں چیلنج

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے حنیف عباسی کی بریت سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنےکیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 18 اکتوبر کو پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی ایفی ڈرین کیس میں سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے انھیں بری کردیا تھا۔

    لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل پر 17 اکتوبر کو سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    اب کیس کی تیاری اور متعلقہ دستاویزات حاصل کرنے کیلئے اے این ایف نے عدالت سے کہا ہے کہ انھیں مہلت دی جائے۔ جس پر رجسٹرار سپریم کورٹ آفس نے اے این ایف کو اپیل دائر کرنے کیلئے مزید چودہ روز کی مہلت دے دی ہے۔

    ایفی ڈرین کیس

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی و دیگر ملزمان پر جولائی 2012 میں 500 کلو گرام ایفی ڈرین حاصل کرنے کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ اے این ایف نے حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان پر 9 سی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

    اس مقدمے میں حنیف عباسی کے علاوہ غضنفر، احمد بلال، عبدالباسط، ناصر خان، سراج عباسی، نزاکت اور محسن خورشید بھی شامل تھے۔

    ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں 36 گواہان نے اپنی شہادتیں قلمبند کرائی تھیں اور ملزمان پر الزام تھا کہ انھوں نے ایفی ڈرین کا غلط استعمال کیا۔

    21 جولائی 2018 کو راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا جبکہ دیگر 7 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا تھا، اس کے علاوہ حنیف عباسی کو انتخابی سیاست کے لیے تاحیات نااہل بھی قرار دے دیا گیا تھا۔

  4. ’پرانے سیاستدانوں کی 70 سالہ پرانی سیاست نے مُلک کو نقصان پہنچایا‘ بلاول بھٹو زرداری

    چترال میں پیپلز پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے حزبِ اختلاف کی تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’پرانے سیاستدان جس طرح سے کام کر رہے ہیں اُس سے عوام کی تکلیفوں میں اضافہ ہوگا، پرانے سیاستدان وہی سیاست کر رہے ہیں جس سے 70 سال ملک کو نقصان ہوا ہے۔‘

    بلاول نے کہا کہ کہ ’18 ماہ کی حکومت میں ہمارے اتحادی نے عوامی مسائل کے بجائے ذاتی دشمنی پر توجہ دی، یہ حکومت میں آکر انتقامی سیاست کرنا چاہتے ہیں، پی ڈی ایم حکومت میں ہم اتحادیوں کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پائے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں بزرگوں کا احترام کرنا سکھایا گیا ہے، میاں صاحب نے تیسری بار وزیرِ اعظم بننے کے بعد کہا کہ وہ پرانی سیاست چھوڑ دیں گے، چیئر مین پی ٹی آئی کی حکومت ٹک ٹاک کی حکومت تھی، میاں صاحب کی حکومت اشرافیہ کی حکومت ہو گی۔‘

    بلاول نے کہا کہ ’پرانے سیاستدان آنے والے کل کا نہیں سوچتے، نعروں اور وعدوں پر الیشکن نہیں لڑرہا ہوں، اپنی کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑ رہا ہوں، بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بزرگ سیاستدان اب گھر بیٹھیں اور ملک و قوم کے لیے دعا کریں۔‘

    بلاول نے جہاں چترال میں پیپلز پارٹی ورکرز کنونشن میں دیگر بہت سے وعدے کیے وہیں اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’تھر کے ریگستان کی طرح چترال میں بھی دل کا ہسپتال بناؤں گا، ہم تو انتظار میں ہیں کہ الیکشن ہوں اور عوام کی خدمت کریں۔‘

  5. سپریم کورٹ: مشرف کو سزائے موت دینے والی عدالت کی تشکیل کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے ’دائرہ اختیار سے بڑھ کر ریلیف دیا‘, شہزاد ملک، بی بی بی اردو ڈاٹ کام

    سپریم کورٹ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں موت کی سزا دینے والے خصوصی بینچ کی تشکیل کو لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے غیر آئینی قرار دینے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ’لاہور ہائی کورٹ نے استدعا سے بڑھ کر ریلیف دیا کیونکہ درخواست گزار نے خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم قرار دینے کی استدعا ہی نہیں کی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’خصوصی عدالت پنجاب میں تھی نہ ہی مجرم (پرویز مشرف) وہاں کے رہائشی تھے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’فیصلہ آئین کے خلاف ہو تو بھی متعلقہ عدالت سے ہی رجوع کرنا لازمی ہے۔ حیران کن ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار کیسے تسلیم کر لیا؟

    ’فیصلہ درست بھی ہو لیکن اگر دائرہ اختیار نہیں ہے تو وہ فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا۔‘

    چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی لارجر بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’خصوصی عدالت ہائی کورٹ کے تین ججز پر مشتمل تھی اور خصوصی عدالت کے ایک جج کا تعلق لاہور ہائی کورٹ سے ہی تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے دراصل مختلف ہائی کورٹ ججز کے خلاف رٹ جاری کر دی ہے۔‘

    درخواست گزار کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کو کارروائی آگے بڑھانے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزم سرنڈر نہ کرے تو بھی کارروائی چلائی جا سکتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے نوٹس میں بھی لایا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں وجوہات واضح نہیں کیں۔‘

    درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’لاہور ہائی کورٹ میں مشرف کی درخواست اٹارنی نذیر احمد نے دائر کی اور اٹارنی کی درخواست کے ساتھ بیان حلفی سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا ہی لگایا گیا تھا۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کیا پرویز مشرف نے بیان حلفی پاکستان میں ہوتے ہوئے دیا تھا؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل کلا کہنا تھا کہ بظاہر تاثر ملتا ہے کہ مشرف اوتھ کمشنر کے سامنے لاہور میں پیش ہوئے تھے لیکن درحقیقت پرویز مشرف بیان حلفی کے وقت ملک میں ہی نہیں تھے۔‘

    بینچ میں موجود جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ کے مطابق ’اوتھ کمشنر میاں خالد محمود جوئیہ تھے۔ اس موقع پر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل 18 مارچ 2016 کو بیرون ملک گئے تھے اور جس اٹارنی کا ذکر ہو رہا ہے وہ نذیر احمد ہیں جو وفات پا چکے ہیں۔

    بینچ میں موجود جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف عدالت کی اجازت سے بیرون ملک گئے تھے؟

    اس پر پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’سندھ ہائی کورٹ نے مشرف کو علاج کے لیے جانے کی اجازت دی تھی اور سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ’کیا حکومت نے عدالتی دائرہ اختیار پر اعتراض کیا تھا؟‘ جس پر درخواست گزار کے وکیل حامد خان نے کہا کہ ’کسی نے اعتراض نہیں کیا اور سب ایک ہی پیج پر تھے تاہم ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سیکرٹری قانون نے اپنے جواب میں اعتراض کیا تھا۔‘

    بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ’پی ٹی آئی کے رہنما علی ظفر اس میں عدالت کے معاون تھے تو کیا انھوں نے اس پر اعتراض کیا تھا اور کیا وہ بھی ایک ہی پیج پر تھے؟‘

    جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’بظاہر سارے ایک ہی پیج پر تھے۔‘

    عدالت نے اس درخواست کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی۔

  6. عمران خان سمیت 29 افراد کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے کی سفارش

    وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی اور وزیر مواصلات و ریلویز شاہد اشرف تارڑ کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے ای سی ایل کا اجلاس آج ہوا ہے جس میں عمران خان سمیت 29 افراد کو ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    ذیلی کمیٹی کی سفارشات حتمی منظوری کے لیے نگران وفاقی کابینہ کو ارسال کی جائیں گی۔

    اجلاس میں ای سی ایل سے متعلق مختلف نوعیت کے کیسز کا جائزہ لیا گیا اور ذیلی کمیٹی نے مختلف محکموں اور اداروں کی طرف سے بھیجے جانے والے 41 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی اور نیب کی سفارش پر 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں عمران خان سمیت 29 افراد کو ای سی ایل پر ڈالنے کی سفارش کی گئی۔

  7. شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے شیریں مزاری کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی تو اس دوران وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

    پولیس کی جانب سے وکیل طاہر کاظم بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    عدالت نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ ’پورے اسلام آباد میں کئی لوگوں پر کریمنل کیسز ہیں صرف شیریں مزاری کا نام کیوں شامل کیا گیا ہے؟‘

    پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل طاہر کاظم نے کہا کہ ’شیریں مزاری کے خلاف سات مقدمات درج ہیں، جن کے پاس کھانا پینا نہیں ہوتا انھوں نے تو بیرون ملک نہیں جانا ہوتا۔‘

    ’شیریں مزاری کی ٹریول ہسٹری کافی زیادہ ہے۔ ان لوگوں سے کوئی ڈر نہیں ہوتا جن کی ٹریول ہسٹری نہ ہو یا کھانے پینے کی کمی ہو۔‘

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شیریں مزاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  8. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس پہلی بار 58 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان جاری ہے اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کا رجحان غالب رہا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس ساڑھے چھ پوائنٹس اضافے کے بعد 58 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا ہے۔ انڈیکس نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 58 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کی ہے۔

    پاکستان سٹاک ایکسچنج میں گذشتہ کئی ہفتوں سے تیزی کا رجحان جاری ہے جس کی وجہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات تھے جس میں عالمی ادارے نے پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

    پاکستان میں نگران حکومت کے قیام کے بعد سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں اب ساڑھے نو ہزار پوائنٹس سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    اکتوبر کے وسط میں مارکیٹ 50 ہزار پوائنٹس کی سطح پر موجود تھی جس نے ایک مہینے میں آٹھ ہزار پوائنٹس اضافے کے بعد 58 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کی ہے۔

  9. فواد چودھری کے پروڈکشن آرڈر اور میڈیکل ٹیسٹ کروانے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے فراڈ کے مقدمہ میں گرفتار سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کے پروڈکشن آرڈر اور میڈیکل ٹیسٹ کروانے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود نے بدھ کوسابق وفاقی وزیر فواد چودھری کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

    خیال رہے کہ فواد چودھری کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر آج عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

    فواد چودھری کے وکیل فیصل چودھری اور قمر عنایت راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلا کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ فواد چودھری کو عدالت پیش کرنے کے بجائے ان کی ای اٹینڈنس لگا دی گئی۔

    فواد چوہدری کا پوسٹ کووڈ ٹیسٹ کروانا ہے، یہ لوگ عدالتی احکامات کی بھی تعمیل نہیں کر رہے۔ وکیل فیصل چودھری نے عدالت سے فواد چودھری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔

    فواد چودھری کے خلاف تھانہ آبپارہ میں فراڈ کا مقدمہ درج ہے اور اس ضمن میں عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

  10. بریکنگ, سپریم کورٹ: عمران خان کی سائفر کیس میں ضمانت سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور، وفاقی حکومت، ایف آئی اے کو نوٹس جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سائفر مقدمے میں ضمانت کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وفاق اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست ضمانت کی سماعت کی جس کے دوران عمران خان کی طرف سے سلمان صفدر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ انکوائری میں کہا گیا تھا کہ ’شریک ملزمان کا کردار تفتیش میں طے کیا جائے گا۔ حتمی تفتیشی رپورٹ میں اعظم خان سے متعلق تفتیشی نے کیا کہا؟‘ جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’تفتیشی نے کوئی واضح مؤقف نہیں بتایا۔ اعظم خان اغوا ہو گئے، ان کی فیملی نے مقدمہ بھی اغوا کا درج کروایا تھا۔‘

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’اغوا کے بعد اعظم خان کا 164 کا بیان آ گیا۔‘

    اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ’ایسے پھر سچ سامنے آتا ہے؟‘ سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ماتحت عدالت کے سامنے کئی گھنٹے دلائل دیے۔‘

    جسٹس سردار طارق مسعود نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ مقدمات کو سیاسی طور پر چلائیں گے تو یہی ہو گا۔ آخر آج مقدمہ اور ضمانت کو ایک ساتھ چلائیں۔‘

    جسٹس سردار طارق مسعود کا مزید کہنا تھا کہ ’ملزم 60 سال سے کم نہیں ہے اور کیس مزید انکوائری کا ہے تو اس طرف آئیں۔‘

    بینچ میں موجود جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ ’آپ کے کیس کے مرکزی گراونڈز کیا ہیں؟‘ جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کیس یہ ہے کہ کیس بنتا ہی نہیں ہے۔ جو دفعات لگائی گئیں وہ جاسوسی جیسے جرائم پر لگتی ہیں۔

    ’تحقیقات میں کہیں نہیں بتایا گیا کہ کہاں جاسوسی ہوئی یا کسی دشمن ملک کو فائدہ پہنچایا گیا یا نہیں۔‘

    بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ یہ کہہ رہے ہیں آپ نے سائفر کا کوڈ کمپرومائز کر دیا۔‘

    جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ ’کوڈ اگرچہ تبدیل ہوتا رہتا ہے کئی بار ہفتے بعد بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’جو الزام ہے اس پر سزا، جرمانہ یا دو سال قید بنتی ہے۔ مگر دفعات بڑی لگا دی گئیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سائفر کو ڈی کلاسیفائی قانون کے مطابق کیا گیا اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں پیش کیا گیا۔

    ’نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں سائفر پیش کرنے اور ڈی مارش کرنے کا ذکر سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے۔ عدم اعتماد کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس کا تذکرہ آیا ہے۔‘

    بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی آپ نوٹس ہی جاری کروانا چاہتے ہیں تو اس کی حد تک دلائل دیں۔

    بینچ میں موجود جسٹس یحیٰی آفریدی نے استفسار کیا کہ سائفر ایک سیکرٹ دستاویز تھا یا نہیں؟

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’سائفر ڈی کلاسیفائی ہونے کے بعد سیکرٹ دستاویز نہیں تھا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ ’ڈی کلاسیفائی ہونے سے پہلے کیا سائفر کو ملزم نے دیکھایا۔‘

    جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس دوران سائفر کسی کو نہیں دکھایا گیا۔

    جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ ’سائفر کو ہوا میں لہرا کر بتا دیا جائے اس میں یہ لکھا ہے تو کیا وہ ابلاغ کے زمرے میں نہیں آتا؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ابھی ہم الزامات کا ٹرائل نہیں کر رہے صرف الزامات کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ کیا ہیں۔

    عدالت نے عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

  11. اسلام آباد ہائی کورٹ: بلوچ طلبا کی عدم بازیابی پر 29 نومبر کو وزیر اعظم طلب، ’عوام کی اس سے زیادہ توہین کیا ہو گی کہ انھیں جبری طور پر گمشدہ کیا جائے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ طلبا کی گمشدگی کے بارے میں قائم کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران بلوچ طلبا کی عدم بازیابی پر 29 نومبر کو وزیر اعظم کو طلب کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر سماعت کے دوران وزیر داخلہ، سیکرٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    اس دوران جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ بلوچ طلبا کمیشن کی سفارشات کے مطابق 55 لاپتہ بلوچ طلبا پیش کریں ورنہ وزیر اعظم پیش ہوں۔ سات روز کا وقت دیتا ہوں، عمل درآمد کریں۔‘

    عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے لوگوں کی اس سے زیادہ توہین کیا ہو گی کہ انھیں جبری طور پر گمشدہ کیا جا رہا ہے۔

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان طلبا کو بازیاب کروائیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ ہم اسلام آباد میں بیٹھ کر بلوچستان کی بات کر رہے ہیں۔ یہ کام ایگزیکٹیو کا ہے لیکن یہ کام عدلیہ کر رہی ہے۔

    ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر اعظم کو طلب نہ کیا جائے لیکن عدالت نے ان کی استدعا منظور نہیں کی۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم یہ معاملہ حل نہیں کریں گے تو کیا اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے کر جائیں اور ملک کا مذاق اڑائیں۔

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سات روز میں کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان طلبا کو بازیاب کروائیں۔

    خیال رہے کہ یہ کمیشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور موجود سپریم کورٹ جج جسٹس اطہر من اللہ کے حکم پر قائم کیا گیا تھا۔

  12. بریکنگ, سپریم کورٹ میں عمران خان کی سائفر مقدمے میں ضمانت کے معاملے پر اپیلیوں کی سماعت آج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سائفر مقدمے میں ضمانت کے معاملے پر اپیلیوں کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ میں جسٹس یحیٰی آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بھی شامل ہیں جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر موجود ہیں۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے سائفر کیس میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور سائفر کیس میں فرد جرم کی کارروائی کو بھی چیلنج کیا تھا۔

    خیال رہے کہ یہ اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر کی گئی تھیں اور اس بارے میں رجسٹرار آفس نے لیگل ٹیم کو نوٹس جاری کیا تھا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کے مقدمے میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس مقدمے کے دوسرے ملزم شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست کو بھی مسترد کیا تھا۔

    تاہم گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر مقدمے میں ان دونوں ملزمان کا ٹرائل جیل میں ہونے سے متعلق نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر اس مقدمے میں فرد جرم بھی عائد ہو چکی تھی اور دونوں ہی اس وقت جیل میں ہیں۔

  13. امریکہ پاکستان میں سیاسی عہدے کے امیدواروں پر کوئی پوزیشن نہیں رکھتا: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک میں سیاسی عہدے کے امیدواروں پر کوئی پوزیشن نہیں رکھتا۔

    ان خیالات کا اظہار انھوں نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران چیئرمین تحریک انصاف سے جیل میں ملاقات کے سوال کے جواب میں کیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکی ویزے کے منتظر افغان شہریوں کی حفاظت کے بارے میں حکومت پاکستان سے قریبی اور مستقل رابطے میں ہیں۔

    میتھیو ملر نے امریکی سفیر کی طرف سے پاکستان کے لیے چار نئے پروگرام شروع کرنے کے اعلان کی بھی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پولیس کی سپورٹ اور تربیت کی جائے گی، ٹریننگ سکولز کے لیے چالیس لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔

  14. گذشتہ روز کی خبروں کا خلاصہ

    • مسلم لیگ ن کے ساتھ مستقبل میں بھی پوری مفاہمت اور ہم آہنگی کے ساتھ مل کر چلنا چاہیں گے: مولانا فضل الرحمان
    • عمران خان کے جیل ٹرائل سے متعلق نوٹیفیکیشن کالعدم قرار: ’جیل میں ٹرائل ہو سکتا ہے مگر قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں‘
    • ان لوگوں کو گھر بٹھانا ہے جو دو یا تین بار وزیر اعظم بن چکے ہیں: بلاول بھٹو
    • نواز شریف کی العزیزیہ، ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت پیر تک ملتوی: ’ ضرورت پڑی تو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر لیں گے‘
  15. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کے لیے پاکستان کی تازہ صورت حال سے متعلق تمام خبریں شامل کی جاتی ہیں۔ اگر آپ 19 نومبر یا اس سے پہلے کی خبریں پڑھنا چاہیں تواس لنک پر کلک کریں۔