یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
تازہ ترین خبروں کو جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
90 دن میں انتخابات کروانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن پاکستان کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ملک بھر میں عام انتخابات 11 فروری کو کروائے جائیں گے، جس کے بعد چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے آج ہی اس معاملے پر صدر مملکت سے مشاورت کرنے اور حتمی تاریخ دینے کی ہدایت کی تھی۔ الیکشن کمیشن اور صدر کے دفتر سے جاری اعلامیوں میں آٹھ فروری کی تاریخ پر اتفاق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کو جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
افغانستان واپس جانے کے لیے بلوچستان کے سرحدی شہر چمن پہنچنے والے ایک افغان خاندان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر چمن ذوہیب اللہ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چمن کے ہولڈنگ سینٹر میں ایک افغان خاندان کو بچے کی پیدائش کے حوالے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ خاتون کا شوہر قوت گویائی سے محروم تھا اور اشاروں نے اپنی اہلیہ کی صورتحال کے بارے میں بتانے لگا۔
انھوں نے بتایا کہ خاتون کو بچے کی پیدائش کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔
اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد خاتون اور بچے کو دیکھ بھال کے لیےلیویز فورس کے رسالدار کے گھر منتقل کیا گیا جہاں ان کا خوب خیال رکھا جا رہا ہے-
ان کا کہنا تھا کہ افغان خاندان نے اپنے بچے کا نام ذوہیب اللہ رکھ کر مجھے اعزاز بخشا ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد اضلاع میں افغان مہاجرین کی بے دخلی کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر کے باہر احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔
کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے دفتر سے ایک ریلی نکالی گئی جو مختلف شاہراؤں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی جہاں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔
ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال اوردیگ رمقررین نے کہا کہ افغان مہاجرین کی جبری بیدخلی ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے -
مقررین نے الزام عائد کیا کہ افغان مہاجرین کو نہ صرف جبری طور پر بیدخل کیا جا رہا ہے بلکہ مبینہ طورپر بدسلوکی کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے-
مقررین نے اقوام متحدہ، یو این ایچ سی آر اورحکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ افغان مہاجرین کے مسئلے کا حل نکالیں تاکہ ان کے انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو۔
بلوچستان یونیورسٹی کے لاپتہ ہونے والے دو طالب علموں کی عدم بازیابی کے خلاف آج پریس کلب کوئٹہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے کا اہتمام بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے کیا تھا جس میں طالبات بھی شریک تھیں۔
یونیورسٹی آف بلوچستان کے مطالعہ پاکستان کے شعبے کے دونوں طالب علم فصیح بلوچ اورسہیل بلوچ کو دوسال قبل لاپتہ کیا گیا تھا۔
مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دونوں طلبا کو مبینہ طور پر جبری طور پرلاپتہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسال گزرنے کے باوجود ان کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی جس کے باعث نہ صرف دونوں طالب علموں کے خاندان اذیت سے گزر رہے ہیں بلکہ بلوچ طلبہ تشویش میں مبتلا ہیں۔ مظاہرے کے شرکا نے دونوں طلبا کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
اس مظاہرے کی مناسبت سے پہلی مرتبہ خواتین پولیس اہلکاروں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
الیکشن کی تاریخ سے متعلق صدر عارف علوی اور الیکشن کمیشن کے درمیان اتفاق ہو گیا اور ملک میں عام انتخابات آٹھ فروری کو کروانے پر اتفاق ہوا ہے۔
الیکشن کمیشن اور صدر کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیوں میں آٹھ فروری کی تاریخ پر اتفاق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
خیال رہےکہ آج ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے اور انھوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ الیکشن کمیشن 11 فروری 2024 کو ملک میں الیکشن کروانے کے لیے تیار ہے۔
اس کے بعد عدالت نے ایک حکمنامے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ صدر مملکت سے آج ہی مشاورت کر کے کل عدالت میں الیکشن کی تاریخ سے متعلق آگاہ کیا جائے۔
آٹھ فروری کو جمعرات کا دن ہو گا۔ یہ تاریخ 11 فروری سے آٹھ فروری کیوں کی گئی ہے اس بارے میں تاحال وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے آج عدالت کو بتایا تھا کہ ’ووٹرز کی شمولیت میں اضافہ کرنے کے لیے الیکشن اتوار کے روز رکھنا چاہیے اور 29 جنوری کے بعد اصولاً یہ تاریخ چار فروری بنتی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنا منشور پیش کرنے کے لیے مزید وقت دینے کے لیے 11 فروری، 2024 کو الیکشن کروانا مناسب ہو گا۔‘
تاہم پاکستان میں ماضی کے الیکشنز کا جائزہ لیا جائے تو تمام انتخابات ہی اتوار کے علاوہ کسی تاریخ کو منعقد ہوئے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل قابل سماعت قرار دیتے ہوئے وفاق، وزارت قانون اور ایف آئی اے سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ خصوصی عدالت کے جج کی تعیناتی قانون کے مطابق چیف جسٹس کی مشاورت سے ہوئی۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ’ہم 2023 میں اوپن پالیسی کے دور میں ہیں ، یہ اوپنیس کا دور ہے، اوپن کورٹ، اوپن سماعت۔ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔
’اگر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونے والے ٹرائل میں سزا سنا دی جاتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہوں گے؟‘
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی جس میں جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج کی تعیناتی درست قرار دینے کے سنگل بینچ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عدالت نے وزارت قانون کے تحریری جواب کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ’ہم وفاقی کابینہ کے فیصلے کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج کی تعیناتی کیسے ہوئی؟‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے کہا ’وزارت قانون کی سمری کے پیراگراف چھ کی کلاز تین میں لکھا ہوا ہے۔ وزارت قانون کی جانب سے سمری بھجوائی گئی تھی جس کی کابینہ نے منظوری دی اور کابینہ کی منظوری کے بعد تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا۔‘
عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’جج کی تعیناتی کے لیے متعلقہ چیف جسٹس سے مشاورت ہونی چاہیے۔ وفاقی حکومت نے اپنی مرضی سے ایک جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کا جج تعینات کر دیا۔‘
عدالت نے کہا کہ ’ہم رجسٹرار آفس سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیف جسٹس سے مشاورت کا پراسیس ہوا ہے یا نہیں؟‘ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سمری میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی مشاورت سے تعیناتی ہوئی۔‘
درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’یہ فیڈرل معاملہ ہے تو مشاورت چیف جسٹس پاکستان سے ہونی چاہیے تھی۔
’جیل ٹرائل کے دوران جنرل پبلک، ملزمان کے اہل خانہ اور میڈیا کو کیس سننے کے لیے رسائی نہیں۔ جیل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں جیل ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ ملزمان کے حقوق کو بھی دیکھنا ہے۔
خیال رہے کہ سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی اور سات نومبر کو شہادتیں ریکارڈ ہونی ہیں۔ کیس کی مزید سماعت چھ نومبر کو ہو گی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 90 روز میں انتخابات منعقد کروانے سے متعلق سماعت کے بعد تحریر حکمنامے میں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا ہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل ابھی جاری ہے اور یہ 30 نومبر تک مکمل ہو جائے گا جس کے بعد پانچ دسمبر کو حتمی حلقہ بندیوں کی تفصیلات شائع کر دی جائیں گی۔
حکمنامے کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا ہے کہ اس کے بعد الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 (2) کے تحت الیکشن پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل کا مزید کہنا ہے کہ ’ووٹرز کی شمولیت میں اضافہ کرنے کے لیے الیکشن اتوار کے روز رکھنا چاہیے اور 29 جنوری کے بعد اصولاً یہ تاریخ چار فروری بنتی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنا منشور پیش کرنے کے لیے مزید وقت دینے کے لیے 11 فروری، 2024 کو الیکشن کروانا مناسب ہو گا۔‘
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کی آج صدر سے ملاقات کے بعد الیکشن کی تاریخ کے حتمی اعلان کے حوالے سے فیصلہ کیے جانے کا انتظار کرنا چاہیے۔ اس ملاقات میں اٹارنی جرنل سہولت کار کا کردار ادا کریں گے اور صدر کو اس عدالت کے 23 اکتوبر 2023 اور آج کے حکمناموں کی کاپی فراہم کریں گے۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ آج الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا اور اس عدالت کو کل اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل صدر کی الیکشن کمیشن کے وفد اور اٹارنی جنرل سے ملاقات ہوئی ہے جس میں الیکشن کے شیڈول سے متعلق مشاورت اب بھی جاری ہے۔
چیف جسٹس نے 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس میں جمعرات کو ہونے والی سماعت کے حکم نامے میں کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات کے لیے جو تاریخ دی جائے گی اس پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔
چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے اور عدالت صرف اس مسئلے کا حل چاہتی ہے تکنیکی پہلوؤں میں الجھنا نہیں چاہتی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیوں کا عمل 30 نومبر کو مکمل ہو گا جس کے بعد ہی الیکشن شیڈول جاری ہو سکتا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق تمام مشق 29 جنوری بروز پیر مکمل ہو گی اور کمیشن نے انتخابی عمل میں زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت کے لیے اتوار کے دن انتخابات کی تجویز دی ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک میں عام انتخابات کی تاریخ دینے سے قبل صدر سے مشاورت نہ کرنے پر برہمی کے اظہار کے بعد کمیشن کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ الیکشن کمیشن آئینی بحث میں پڑے بغیر صدر سے مشاورت پر آمادہ ہے۔
سپریم کورٹ میں انتخابات کے حوالے سے معاملے کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ صدر سے 11 فروری کی تاریخ کے حوالے سے مشاورت کرے گا۔
اس پر چیف جسٹس نے کمیشن کو آج ہی صدر سے مشاروت کرنے کی ہدایت کی اور اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں اور مشاورت میں آن بورڈ رہیں۔
اس سے قبل سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ 'الیکشن کمیشن نے صدر سے مشاورت نہ کر کے آئین کو دوبارہ تحریر کر لیا'۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر استفسار کیا تھا کہ 'کیا صدر مملکت آن بورڑ ہیں۔' جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ 'ہم صدر مملکت کو آن بورڑ لینے کے پابند نہیں ہیں۔'
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 'صدر بھی پاکستانی ہیں اور الیکشن کمیشن بھی پاکستانی ہے، الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت نہ کرنے پر کیوں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔'
پاکستان سے افغانستان واپس بھیجے جانے والے غیر ملکی تارکینِ وطن سے متعلق پاکستان کے نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کا کہنا ہے کہ کراسنگ پوائنٹس پر سہولت کے لیے خواتین اور بچوں کو بائیومیٹرک سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔
پاکستان کے نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی سے افغان ناظم الامور سردار احمد شکیب کی ملاقات لی جس میں دوطرفہ امور اور افغان شہریوں کی اپنے وطن واپسی کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہدایات جاری کی ہیں کہ اپنے وطن واپس جانے والوں کے ساتھ انتہائی عزت و احترام کے ساتھ پیش آیا جائے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’پروف آف رجسٹریشن اور افغان سٹیشن کارڈ کے حامل افراد کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی، اس سلسلے میں کسی کوتاہی اور بدتمیزی کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ میں اس ضمن میں کنٹرول سنٹر اور ہیلپ لائن قائم کردی گئی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ افغان سفارتخانہ ایک نمائندہ مقرر کرے، جو شکایات کے فوری حل کے لیے کنٹرول سنٹر سے ہمہ وقت رابطہ میں رہے۔
الیکشن کمیشن نے پاکستان کی سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ملک بھر میں عام انتخابات 11 فروری کو ہوں گے جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کی حتمی تاریخ سے متعلق صدر مملکت سے مشاورت کی بھی ہدایت کر دی ہے۔
سپریم کورٹ میں ملک میں عام انتخابات سے متعلق مقدمے پر سماعت کا احوال
جمعرات کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں عام انتخابات 90 روز کی آئینی مدت میں کرانے سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس امین الدین خان اس بینچ کے دیگر دو ججز ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے 90 روز کے اندر عام انتخابات کرانے کی تاریخ دینے سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وفاق، مشترکہ مفادات کونسل، چاروں صوبوں اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔
تحریک انصاف کی طرف سے پارٹی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے 90 روز کی آئینی مدت سے متعلق درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ الیکشن کمیشن کو الیکشن شیڈول جاری کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز کو بھی ہدایت جاری کرے کہ وہ پنجاب اسمبلی الیکشن کیس کےعدالتی فیصلے کے مطابق متعلقہ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔
بیرسٹر سید علی ظفر کے توسط سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے 5 اگست کو ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج کی منظوری کے فیصلے کو جس کے تحت نئی حد بندیوں کو لازمی قرار دیا گیا تھا، غیر قانونی، خلاف قانون قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔
اس کے علاوہ پاکستان شماریات بیورو کی جانب سے 8 اگست کو جاری کردہ نوٹی فکیشن کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے، جس میں 2023 کی مردم شماری کے نتائج جاری کیے گئے تھے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئین کے تحت بروقت انتخابات عوامی اہمیت کے حامل اور بنیادی حقوق میں شامل ہیں۔
میری رائے میں ابھی تک آئینی خلاف ورزی نہیں ہوئی‘: چیف جسٹس
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 90 روز میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ان کی رائے میں ابھی تک آئینی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
چیف جسٹس کے مطابق 7 نومبر کی تاریخ گزرنے کے بعد آئین کی خلاف ورزی کی بات ہو گی۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے صدر مملکت کے اختیارات اور کنڈکٹ سے متعلق متعدد سوالات پوچھے۔
بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہونے پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم کوشش کریں گے کہ آج ہی کیس مکمل کر لیں۔‘
’صدر اپنے ہاتھ کھڑے کر کے کہہ رہے ہیں جاؤ عدالت سے رائے لے لو‘
سپریم کورٹ نے 90 دن کی آئینی تاریخ سے متعلق مقدمے پر سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل سے پوچھا کہ صدر مملکت کی طرف سے حتمی تاریخ نہ دینے سے متعلق متعدد سوالات پوچھے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل علی ظفر سے کہا کہ صدر اپنے ہاتھ کھڑے کر کے کہہ رہے ہیں کہ جاؤ، عدالت سے رائے لے آؤ۔ صدر پھر خود رائے لینے آتے بھی نہیں۔
چھ اکتوبر سے یکم نومبر تک اب تک پاکستان میں مقیم 129218 افغان شہری طورخم اور جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ کے راستے واپس افغانستان جا چکے ہیں۔
صوبہ خیبرپختونخوا کی وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق واپس جانے والوں میں 68 ہزار سے زائد بچے، 25 ہزار سے زائد خواتین اور 34 ہزار سے زائد مرد شامل ہیں۔
سائفر کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کی درخواست پر سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے جیل انتظامیہ کی درخواست پر سابق وزیر خارجہ کو پمز ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جیل انتظامیہ کے مطابق شاہ محمود قریشی کو پتے میں پتھری کا مسئلہ ہے جس کے لیے چند ضروری ٹیسٹ کرانے ہیں۔
انتظامیہ نے عدالت سے درخواست کی کہ جیل ڈاکٹر کی ہدایت پر شاہ محمود کو پمز منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔
یاد رہے کہ پمز ہسپتال کے شعبہ سرجیکل کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر طارق عبداللہ نے بھی جیل کے دورے کے دوران شاہ محمود قریشی کا معائنہ کیا تھا۔
ڈاکٹرز کی ہدایت اور جیل انتظامیہ کی درخواست پر عدالت نے سابق وزیر خارجہ کو پمز ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔ واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں گذشتہ کئی دنوں سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور جمعرات کے روز کرنسی مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں 85 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ایک ڈالر کی قیمت 283.50 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ڈالر کی قیمت میں گذشتہ دو ہفتوں میں اب تک ساڑھے چھ روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
17 اکتوبر کو ایک ڈالر کی قیمت انٹر بینک میں 276.83 روپے کی سطح تک گر گئی تھی جو ستمبر کے شروع میں 307.10 کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی۔ اس کے بعد سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن اور ایکسچینج کمپنیوں کے ضوابط میں ترمیم کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا۔
تاہم 17 اکتوبر کے بعد سے ڈالر کی قیمت میں تسلسل کے ساتھ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ڈالر کی قیمت میں اضافہ اس وقت ہوا جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن جمعرات کے روز پاکستان پہنچ رہا ہے اور پاکستان کے لیے قرضہ پروگرام کے تحت اگلی قسط کے لیے پروگرام کی شرائط کا جائزہ لے گا۔
مگر کیا ڈالر کی قیمت میں اضافہ آئی ایم ایف شرائط کے تحت کیا جا رہا ہے؟ اس بارے میں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے کہا ہے اس کے بارے میں آن ریکارڈ کچھ نہیں ہے کہ کیا آئی ایم ایف کی کوئی ایسی شرط عائد کی ہے یا نہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں روپے کی قدر آئی ایم ایف کے کہنے پر کم کی گئی تھی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے کے بارے میں کہا کہ اس کے ذمہ دار کچھ حد بینک ہیں جنھوں نے ایسا ماحول تیار کیا کہ جس میں امپورٹرز کو کہا گیا کہ اس وقت ڈالر کی کمی ہے کیونکہ برآمد کنندگان نے ڈالر بیچنا روکا ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر قیاس آرائیوں پر مبنی ٹریڈنگ ہے تاکہ اپنے مارجن کو بڑھایا جا سکے۔
اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کو بدعنوانی کے مقدمے میں 20 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
جج محمد بشیر، جو نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں جیل کی سزا بھی سنا چکے ہیں، نے آصف زرداری کو پارک لین ریفرنس میں شریک ملزمان کے ساتھ 20 دسمبر کو طلب کیا ہے۔
جمعرات کی صبح آصف علی زرداری کے خلاف نیب ریفرنس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی۔ نیب کے پراسیکیوٹرز اور آصف علی زرداری کی جانب سے وکیل ارشد تبریز احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔
سابق صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ معاہدے سے قبل آصف علی زرداری پارک لین میں بطور ڈائریکٹر کام نہیں کر رہے تھے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ابھی نوٹس کر دیتے ہیں، تفصیلی دلائل آئندہ سماعت میں سن لیں گے۔
واضح رہے کہ جج محمد بشیر چھ سابق وزرائے اعظم کے خلاف بھی مقدمات سن چکے ہیں۔
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی جنت بن گیا تھا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بعض غیر ملکی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ یہ صورتحال ریاست کے مفاد میں نہیں۔ اس لیے آج سے کارروائی شروع کی ہے۔ اب تک 100 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بعض مافیا اور سیاستدان موجودہ صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں انھیں خبردار کرتے ہیں کہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس کا نقصان انھیں کل اٹھانا پڑے۔ ‘
انھوں نے بتایا کہ جو لوگ رضاکارانہ طور پر چمن سے گئے ہیں ان کی تعداد 35 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اس ہفتے یہ سلسلہ اور تیز ہوگا۔
جان محمد اچکزئی کا کہنا تھا ’اس کے علاوہ جائیدادیں لینے والوں کے حوالے سے بھی کارروائی کی ہے اور جو پاکستانی ان کے لیے بے نامی کا کردار ادا کررہے ہیں ان کا ڈیٹا بھی جمع کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جو باقی کمیونیٹیز ہیں جنھوں نے شناخت چرائی ہے بلوچستان میں صرف افغان تارکین وطن کو نہیں نکالا جارہا۔ دوسری زبانیں بولنے والے افغانوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جنھوں نے نادرا کے نظام کو مینوپلیٹ کیا ہے۔ ماضی کے اہلکار ان کے ساتھ ملوث رہے۔ یہ ایک چیلنج ہے جس پر کارروائی ضرور ہو گئی ہے۔ بلوچستان میں افغانستان، ایران اور عراق کے باشندوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔‘
بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی کا کہنا تھا کہ سب کے ساتھ بلا تفریق کارروائی ہو گی چاہے وہ بظاہر ہماری برداریوں میں ضم ہو چکے ہیں۔
بلوچستان کے وزیراطلاعات جان محمداچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان سے 70ہزارغیرملکی شہریوں نے مبینہ طور پرغیرقانونی طورپرپاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرلیے ہیں۔
کوئٹہ میں غیرملکی تارکین وطن کے خلاف کاروائیوں سے متعلق ایک بریفنگ میں وزیراطلاعات نے بتایا کہ یہ 70 ہزار شناختی کارڈ نادرا نے بلاک ہیں جن کے حوالے سے ایجنسیاں کام کررہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کریک ڈائون کے پہلے روز100غیرملکیوں کو حراست لیا گیا جبکہ گھرگھر چیک کرنے کا عمنل آج سے شروع کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ سے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران 1000غیرملکیوں کو ٹرین کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان سے اب تک 35 ہزارغیرملکی تارکین وطن رضاکارانہ طورپرواپس جاچکے ہیں۔
اس موقعے پرکمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات نے کہا کہ کوئٹہ شہرمیں 6 ہولڈنگ سینٹرزقائم کردیے گئے ہیں جن میں آنے والوں کا ریکارڈ نادرا اورایف آئِ اے کی جانب سے ترتیب دیا جائے گا۔
اگرچہ سرکاری طورپروزیراطلاعات نے رضاکارانہ واپسی کے خاتمے کے بعد 100 افراد کی گرفتاری کے بارے میں بتایا تاہم بعض دیگر ذرائع کے مطابق گرفتاریوں کی تعداد زیادہ ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے نواحی علاقوں سے گرفتار ہونے والے 450 غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو حاجی کیمپ کوئٹہ میں قائم ہولڈنگ سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔
گرفتار ہونے والے یہ افراد افغان باشندے ہیں جو کہ سرکاری حکام کے مطابق کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کسی قانونی دستاویز کے بغیر مقیم تھے ۔
ان افراد کو گرفتاری کے بعد رجسٹریشن کے لیے بدھ کی شب ہولڈنگ سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔
اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد نے کہا کہ ہولڈنگ سینٹر میں انٹری کے بعد ان افراد کو افغانستان بھیجنے کے لیے سرحدی شہر چمن کے لیے روانہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضلع کوئٹہ میں ہونے والی میپنگ کے مطابق فیز ون میں کوئٹہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد 13ہزار سے زائد تھی۔
انھوں نے کہا کہ جب آج ہم نے کارروائی شروع کی تو یہ دیکھا کہ غیر قانونی طور پر مقیم زیادہ تر لوگ واپس جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں غیر قانونی طور پر مقیم 13ہزارسے زیادہ لوگوں کی واپسی کا عمل مکمل کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہو گی جن کے پاس پی او آر کارڈز ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تیسرے مرحلے میں ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہو گی جنھوں نے غیر قانونی شناختی کارڈ بنوائے ہیں۔