آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’لاپتہ‘ شیخ رشید کا انٹرویو: ’جب سیاست دانوں اور اداروں کی لڑائی ہوتی ہے تو ہمیشہ ادارے ہی جیتتے ہیں‘

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد جو ایک عرصے سے منظرِ عام پر نہیں تھے اور ان کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ انھیں گرفتار کیا گیا ہے آج گذشتہ کئی ماہ میں پہلی مرتبہ ایک انٹرویو دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 22 اکتوبر اور اس کے بعد کی تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  2. نو مئی کے واقعات میں ملوث عام شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہو چکا ہے: وفاقی حکومت

  3. ’لاپتہ‘ شیخ رشید کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو: ’ہم نے جنرل عاصم کے معاملے میں ملوث ہو کر غلطی کی‘

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد جو ایک عرصے سے منظرِ عام پر نہیں تھے اور ان کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ انھیں گرفتار کیا گیا ہے نے آج گذشتہ کئی ماہ میں پہلی مرتبہ ایک انٹرویو دیا ہے۔

    انھوں نے نجی ٹی وی چینل سما کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے کہا کہ وہ دراصل چِلا کاٹ رہے تھے اس لیے منظر عام سے غائب تھا اور اس دوران انھیں مذہب سے قریب ہونے اور متعدد چیزوں کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل عثمان ڈار اور صداقت عباسی کے انٹرویو بھی ایسے ہی اچانک ان کی روپوشی کے بعد نجی ٹی وی چینلز پر نشر کیے جا چکے ہیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ ’جب نو مئی ہوا تو اس سے اگلے ہی دن میں نے ان واقعات کی مذمت کی تھی۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ عمران خان کو ہمیشہ کہتے تھے کہ ’اسٹیبلشمنٹ سے ہماری لڑائی بنتی نہیں ہے اور انھیں کہا تھا کہ فوج سے بنا کر رکھنی چاہیے۔‘

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے بتایا کہ ’میں نے دومرتبہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو مذاکراتی عمل میں شامل کرلیں مگر انہوں نے منع کیا۔‘

    شیخ رشید نے مزید کہا کہ ’سیاستدان کو کسی فوجی افسر کا نام نہیں لینا چاہیے، یہ ملک اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا، سیاست دانوں اور اداروں کو مل کر چلنا چاہیے۔

    ’جب سیاست دانوں اور اداروں کی لڑائی ہوتی ہے تو ہمیشہ ادارے ہی جیتتے ہیں۔‘

    شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی ضدی سیاستدان ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے تین افراد جو فوج سے مذاکرات کر رہے تھے تینوں نے اپنی جماعت بنا لی۔

  4. نواز شریف کی واپسی کیا اسٹیبلشمنٹ سے ’ڈیل‘ کا نتیجہ ہے؟

  5. نواز شریف کو چار سال بعد ملکی سیاست، عدلیہ، فوج اور معیشت میں کیا تبدیلی ملے گی؟

  6. پنجاب میں سرکاری سکولوں کو ’این جی اوز کے حوالے کرنے‘ کے خلاف اساتذہ سڑکوں پر احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟

  7. ارشد شریف کی بیوہ نے شوہر کے ’ٹارگٹڈ قتل‘ پر کینیا کی عدالت سے رجوع کر لیا

    کینیا میں قتل ہونے والے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی بیوہ جویریہ صدیق نے اپنے شوہر کے ’ٹارگٹڈ قتل‘ پر کینیا کی حکومت کے خلاف نیروبی کی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    بی بی سی کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے ارشد شریف کی بیوہ جویریہ صدیق نے کہا ہے کہ ’انھوں نے یہ اس لیے کیا کیونکہ ان کے شوہر کے قتل کے واقعے میں کینیا کی پولیس کے اہلکار ملوث تھے اور ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ ارشد شریف کو انصاف دیا جائے۔‘

    پاکستانی صحافی ارشد شریف 23 اکتوبر کی رات کینیا کے علاقے مگاڈی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اُن کی موت کو تقریباً ایک سال گزرنے کو ہے تاہم تاحال ان کی ہلاکت کے ذمہ داران کو سزا نہیں دی گئی۔

    جویریہ کے مطابق وہ چاہتی ہیں کہ ’ان کے شوہر کی ہلاکت میں ملوث ذمہ داران کو گرفتار کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور کینیا کے متعلقہ حکام عوامی سطح پر ان سے معافی مانگیں۔‘

    یاد رہے کہ ارشد شریف کے قتل کے بعد کینیا کی پولیس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے شناخت میں غلط فہمی پر اس گاڑی پر گولیاں چلائیں جس میں ارشد شریف سوار تھے۔

    جویریہ کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے شناخت میں غلط فہمی کہتے ہیں مگر میں اسے ’منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ٹارگٹڈ قتل‘ مانتی ہوں۔ ارشد کو جو دھمکی پاکستان میں ملی تھی وہ پوری کینیا میں ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وجہ جو بھی رہی ہو لیکن اگر وہ ارشد کے قتل کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں تو انھیں سزائیں بھی دی جانی چاہییں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’میں امید کرتی ہوں کہ کینیا کی عدالتیں ہمیں انصاف دیں گی۔‘

    ان کے مطابق ’اس کیس میں کینیا کی حکومت کا رویہ اچھا نہیں رہا اور انھوں نے ہماری کسی بھی درخواست کا جواب نہیں دیا۔‘

    اس مقدمے میں کینیا یونین آف جرنلسٹ اور کینیا کارسپانڈٹ اسوسی ایشن کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    جویریہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین مہینوں سے سپریم کورٹ میں ارشد شریف کے کیس کی سماعت ہی نہیں ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ کینیا سے بات کرنا اور ارشد کے قتل میں ملوث افراد کو سزا دلوانا ناممکن ہے جبکہ طریقہ کار موجود تھا۔

    ’میں نے اپنے وکیل کے ذریعے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں تفصیلی جواب بھی جمع کروایا کہ کیا آپشنز دستیاب ہیں لیکن اس کے بعد تین مہینے سے اس مقدمے کی سماعت ہی نہیں ہوئی۔‘

    جویریہ کا کہنا ہے کہ ’جب ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں ہم اپنی مرضی کی ایف آئی آر تک درج نہیں کروا سکتے تو انصاف کیا ملے گا۔ تو اس صورتحال میں صحافیوں کی عالمی تنظیموں کی مدد سے میں نے وکیل کی خدمات حاصل کیں اور وہاں کی ہائیکورٹ میں یہ مقدمہ فائل کیا ہے۔‘

  8. دو روز لگاتار اضافے کے بعد ڈالر کی قیمت 1.50 روپے کم, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان جمعرات کے روز رُک گیا جب روپے کی قیمت میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ دو کاروباری دنوں میں امریکی ڈالر کی قیمت میں تقریباً ساڑھے تین روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کی وجہ درآمدات کے لیے ادائیگیوں کا دباؤ رہا۔ تاہم جمعرات کے روز روپے کی قدر میں دوبارہ اضافہ ہوا اور کاروبار کے دوران 2.38 روپے اضافے کے بعد مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر یہ 1.48 روپے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

    انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 278.81 روپے کی سطح پر بند ہوئی جب کہ اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت میں دو روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ کاروبار کے اختتام پر 280 روپے کی سطح پر بند ہوا۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق مارکیٹ میں آج درآمدی ادائیگی کا زیادہ دباؤ نہیں تھا جو ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ بنا۔

  9. سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 900 پوائنٹس اضافے کے بعد 50 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان غالب رہا جب کے ایس ای 100 انڈیکس 933 پوائنٹس اضافے کے بعد 50365 کی سطح پر بند ہوا۔

    سٹاک مارکیٹ انڈیکس کی یہ چھ سال بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس سے قبل مئی 2017 میں انڈیکس 50592 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔

    مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ چند معاشی اشاریوں میں کچھ مثبت پیشرفت ہے۔ ان کے مطابق ملک کا تجارتی خسارہ کم ہوا ہے تو اس کے ساتھ سٹیٹ بینک کی جانب سے اس مہینے کے آخر میں شرح سود میں کمی کی بھی توقع ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی آئی۔

    اُن کے مطابق تیل و گیس کے شعبے کے سٹاکس میں تیزی کی وجہ سے مارکیٹ اُوپر گئی جس کی وجہ اس شعبے میں آنے والے دنوں میں سرمایہ کاری کی اطلاعات ہیں۔

  10. شیخ رشید کی بازیابی کے لیے راولپنڈی پولیس کو ایک ہفتے کی مہلت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی حراست کیخلاف درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے راولپنڈی پولیس کو عوامی لیگ کے سربراہ کی بازیابی کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔

    جمعرات کو آر پی او راولپنڈی سید خرم علی اور سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے سوال کیا کہ ’آر پی او صاحب بتائیں، شیخ رشید سے متعلق کیا پیش رفت ہے؟‘

    آر پی او کی جانب سے کہا گیا کہ شیخ رشید کی بازیابی کیلئے کوشش جاری ہے، مزید مہلت چاہیے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’اور کتنا وقت چاہیے آپ کو؟ جتنا وقت دیا ہے اس میں آپ نے کیا کیا؟‘

    عدالت کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ’درخواست گزار کے بیان حلفی اور سی ڈی آرز پر کیا تفتیش ہوئی؟‘ آر پی او نے جواب دیا کہ ’درخواست گزار کو انکوائری کے لیے بلایا گیا لیکن وہ کوئی معقول جواب نہیں دے سکے۔‘

    آر پی او راولپنڈی پولیس کا کہنا تھا کہ ’جن پولیس افسران پر شیخ رشید کی گرفتاری کا الزام ہے، سی ڈی آرز کے مطابق وہ پانچوں افسران اس علاقے میں موجود نہیں تھے۔‘

    عدالت نے جب سوال کیا کہ ’اب بتائیں کیا کرنا ہے؟ شیخ رشید کو کسطرح بازیاب کرینگے؟‘ تو آر پی او نے کہا کہ ان کو تھوڑی سی مہلت اور چاہیے۔

    عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ’ایک ہفتے کی مزید مہلت آخری موقع سمجھ کر دے رہے ہیں، ایک ہفتے کے بعد مزید التواء نہیں دینگے، عدالت وارننگ کے ساتھ ایک ہفتے بعد کوئی نہ کوئی آرڈر پاس کرے گی۔‘

    دوسری جانب شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ شیخ رشید کو گرفتار ہوئے ایک مہینہ ہو گیا، کوئی کچھ نہیں بتارہا۔ وکیل سردار عبدالرازق کا کہنا تھا کہ ’شیخ رشید کی بازیابی آر پی او کے بس کی بات نہیں، عدالت آئی جی پنجاب اور سیکرٹری ڈیفینس کو بلائے۔‘

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’سب کو پتہ ہے شیخ رشید کو راولپنڈی پولیس نے گرفتار کرکے کس کے حوالے کیا۔‘ عدالت نے کیس کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

  11. توشہ خانہ کیس میں وارنٹ گرفتاری معطل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی 24 اکتوبر تک نواز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 24 اکتوبر تک حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے ان کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

    جمعرات کو العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے سماعت کی جہاں نواز شریف کی جانب سے وکیل امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے جبکہ نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود، افضل قریشی اور نعیم سنگھیڑا بھی موجود تھے۔

    عدالت نے اس سے قبل نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج جواب طلب کر رکھا تھا۔ سماعت کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’نواز شریف ٹرائل کورٹ میں اشتہاری تھے، اس میں بھی وارنٹ معطل ہو گئے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’آپ کے پاس وہ آرڈر ہے؟‘ تو اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ ’آرڈر ہو گیا ہے، وکلا ابھی آ رہے ہیں احتساب عدالت سے۔‘

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ’ہائیکورٹ نے اپنے آرڈر میں لکھا تھا کہ اپیل کنندہ جب واپس آئے تو اپیل بحال کرا سکتا ہے۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوال کیا کہ ’ہم نے یہی پوچھا تھا کہ نیب کا کیا موقف ہے؟ اس میں کوئی تبدیلی تو نہیں؟‘ اس پر نیب کی جانب سے جواب دیا گیا کہ ’ابھی تو یہی موقف ہے کہ وہ آتے ہیں تو ہمیں ان کے آنے پر کوئی اعتراض نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’نیب تحریری طور پر عدالت کو آگاہ کرے کہ آپ کو اعتراض نہیں، ہم حفاظتی ضمانت دے کر کیس پیر کو مقرر کر دیتے ہیں۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو پاکستان واپسی پر ائیرپورٹ سے گرفتار کرنے سے 24 اکتوبر تک روک دیا۔

  12. توشہ خانہ کیس: احتساب عدالت نے نواز شریف کو ایئر پورٹ سے گرفتار کرنے روک دیا، وارنٹ 24 اکتوبر تک معطل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے ہیں۔

    جمعرات کو کیس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ 21 اکتوبر کو سابق وزیر اعظم عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔

    عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست منظور کی اور نوازشریف کے 24 اکتوبر تک وارنٹ معطل کر دیے۔

    احتساب عدالت نے حکام کو نواز شریف کو ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے روک دیا۔

  13. سائفر مقدمے میں سابق سفیر اسد مجید کا بیان: ’سازش کا لفظ استعمال نہیں کیا، یہ سیاسی قیادت نے اخذ کیا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید کی جانب سے ایف آئی اے کو دیا گیا بیان منظر عام پر آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’خفیہ سائفر ٹیلی گرام میں سازش کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔‘

    اسد مجید کے بیان کے مطابق انھوں نے بتایا ہے کہ وہ جنوری 2019 سے مارچ 2022 تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے اور 7 مارچ 2022 کو طے شدہ ملاقات کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور مسٹر ڈونلڈ لو کو واشنگٹن میں پاکستان ہاوس مدعو کیا گیا تھا۔

    بیان کے مطابق ’ڈونلڈ لو کے ساتھ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی جس میں اسد مجید کے ساتھ ڈیفینس اتاشی بریگیڈیئر نعمان اعوان، ڈپٹی چیف آف مشن نوید بخاری اور کونسلر پولیٹیکل قاسم محی الدین بھی شریک تھے اور سب اس بات سے آگاہ تھے کہ اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو باقاعدہ تحریر کیا جا رہا ہے۔‘

    اسد مجید کے مطابق روایت کے مطابق ملاقات میں ہونے والی کمیونیکیشن کا سائفر ٹیلی گرام سیکرٹری خارجہ کو سائفر خفیہ کوڈڈ کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعے بھجوایا گیا جسے پاکستان کے غیر ملکی مشنز اور اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے درمیان خط و کتابت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    اسد مجید کے بیان کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ خفیہ سائفر ٹیلی گرام میں ’خطرہ‘ یا ’سازش‘ کے الفاظ کا کوئی حوالہ نہیں تھا اور ’نہ ہی میں نے کسی سازش کے وجود کے بارے میں کوئی تجویز پیش کی تھی۔‘

    اسد مجید کے بیان کے مطابق ’سازش کا معاملہ اسلام آباد میں قیادت کی طرف سے اخذ کردہ ایک سیاسی نتیجہ تھا۔‘

    اسد مجید کے بیان کے مطابق انھوں نے تجویز دی تھی کہ اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں میں امریکہ کو ڈیمارش جاری کیا جائے جس کے تحت ڈونلڈ لو کے اظہار خیال کا جواب 31 مارچ 2022 کو اسلام آباد میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ڈیمارش کی شکل میں دیا گیا۔

    بیان کے مطابق نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ یہ معاملہ صرف ڈیمارش کا ہے اور کوئی سازش نہیں پائی گئی۔ اسد مجید کے بیان میں این ایس سی کی 22 اپریل 2022 کو ہونے والے اجلاس کا بھی ذکر کیا گیا جس میں انھوں نے بھی شرکت کی اور بیان کے مطابق اس اجلاس میں بھی سائفر ٹیلی گرام کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کوئی بیرونی سازش نہیں ہے اور وزارت خارجہ نے 25 اپریل 2022 کو اپنی پریس بریفنگ میں اس موقف کا اعادہ بھی کیا۔

    اسد مجید کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مارچ 2022 سے آج تک کی مدت کے دوران سابق وزیر اعظم سے انھوں نے براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملاقات نہیں کی۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فارن سروس پروفیشنل کے طور پر سمجھتا ہوں کہ سائفر واقعہ نے ہمارے مواصلاتی نظام کی سالمیت، ہمارے سفارت کاروں کی ساکھ اور سفارت کاری کو نقصان پہنچایا ہے جس کے ہمارے مستقبل کے سفارتی رپورٹنگ کلچر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘

  14. ’عدالت کے سامنے سرنڈر کریں گے‘: توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کے وارنٹ معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے توشہ خانہ سے گاڑی لینے کے کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی تو نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ 21 اکتوبر کو واپس آ رہے ہیں۔ اس پر جج محمد بشیر نے کہا ’ریکارڈ آ جائے پھر دیکھ لیتے ہیں۔‘

    عدالت نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ نے ہائیکورٹ میں بھی درخواست دی ہے؟‘ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ’ہائیکورٹ میں الگ سے ہماری درخواست ہے، اس کیس میں نہیں ہے۔‘

    جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ ’نواز شریف کے یکم اکتوبر 2020 کو دائمی وارنٹ جاری ہوئے۔ اتنا عرصہ کیوں نہیں آئے؟ کوئی وجہ بتائیں؟‘

    وکیل نے جواب دیا کہ ’نواز شریف میڈیکل بنیادوں پر بیرون ملک گئے تھے۔ نواز شریف کی پٹیشن آج تک لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ پچھلی حکومت میں بھی اس پٹیشن کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔‘

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’نواز شریف نے عبوری ریلیف بھی اس کیس میں مانگا ہوا ہے۔‘ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ’نواز شریف کے 24 اکتوبر تک وارنٹ معطل کر دیں۔‘

    عدالت نے سوال کیا کہ اس کیس میں نواز شریف ایک دفعہ بھی پیش نہیں ہوئے ؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے چار ماہ بعد ریفرنس دائر ہوا۔

    عدالت کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ’آصف علی زرداری و دیگر لوگ کدھر ہیں‘ تو نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ’وہ پلیڈر کے ذریعے پیش ہو رہے ہیں، نیب نے کسی کو گرفتار نہیں کیا۔‘

    وکیل نواز شریف نے عدالت سے کہا کہ ’ہم عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘ نواز شریف کے دائمی وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  15. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے متعلق خبروں اور تبصروں کے لیے بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    گذشتہ روز کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں