آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سائفر گمشدگی کیس: عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ، ’سابق وزیراعظم نے علامتی طور پر ایک کاغذ لہرایا تھا‘

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سائفر گمشدگی کیس میں ضمانت اور اسی مقدمے کو خارج کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فرخ حبیب نے نو مئی کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے استحکام پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’غیر یقینی کا شکار‘ پی ٹی آئی، نواز شریف کی منتظر ن لیگ اور ’غیر متحرک‘ پیپلز پارٹی: پاکستان کی سیاسی جماعتیں اس وقت کہاں کھڑی ہیں؟

  2. سائفر گمشدگی کیس میں عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ: ’سابق وزیراعظم نے پبلک میں علامتی طور پر ایک کاغذ لہرایا تھا‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے سائفر گمشدگی کیس میں ضمانت اور اسی مقدمے کے اخراج سے متعلق دو درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    دوران سماعت سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کی معلومات عوام تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔‘

    اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر سے متعلق رولز اور قواعد و ضوابط کی بابت استفسار کیا۔

    چیف جسٹس کے اس سوال پر پراسیکیوٹر راجہ رضوان نے جواب دیا کہ ’سائفر کی دو اقسام ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونیکیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں کی جا سکتی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سائفر کوڈڈ (یعنی خفیہ زبان میں) کیوں ہوتا ہے؟ اسی لیے تاکہ وہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگ سکے۔ مگر اس معاملے میں ڈی کوڈڈ سائفر کو پبلک کر دیا گیا۔‘

    پراسیکیوٹر راجہ رضوان کا کہنا تھا کہ ’اس جرم کی سزا چودہ سال قید یا سزائے موت بنتی ہے، خفیہ دستاویز کو پبلک کرنے پر بطور وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نعمان سائفر اسسٹنٹ ہے جس نے سائفر وصول کیا اور پھر ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد کے حوالے کیا، جس کے بعد سائفر پھر حسیب بن عزیز اور پھر اس وقت کے فارن سیکریٹری سہیل محمود کے پاس گیا، اُن کے بعد سائفر کو پی ایم آفس کے سائفر آفیسر شاہین قیصر اور ڈپٹی سیکریٹری پی ایم آفس حسیب گوہر کے پاس بھجوایا گیا اور سب سے آخر میں اس وقت کے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے پاس پہنچا۔‘

    پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے مزید کہا کہ ’اعظم خان کے بیان پر تنقید کی گئی، اعظم خان کا نام اس کیس کے گواہوں کی لسٹ میں شامل ہے، وہ تفتیشی افسر کے سامنے خود پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرایا، اعظم خان نے بتایا سائفر والے کیس میں دباؤ تھا اس لیے ذہنی سکون کے لیے کچھ عرصہ کے لیے غائب ہو گیا تھا۔‘

    راجہ رضوان نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ ’اس کیس میں اسد مجید اور اعظم خان مرکزی گواہان میں شامل ہیں، میں سمجھانے کے لیے ٹرائل کے گواہوں کے بیانات پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں۔‘

    جس پر عمران حان کی جانب سے اُن کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ’مجھے اس پر اعتراض ہے، سپیشل پراسیکیوٹر سائفر اسسٹنٹ نعمان کا بیان پڑھ کر سنا رہے ہیں جو اس کیس کے گواہ بھی ہیں۔‘

    سلمان صفدر کے اعتراض کے باوجود پراسیکیوٹر نے بیان پڑھنا شروع کیا ’گواہ کے مطابق سائفر ٹیلی گرام موصول ہونے پر عمران ساجد کو حوالے کیا اور اس کا رجسٹر میں اندراج کیا۔‘

    سائفر اسسٹنٹ کا بیان پڑھنے پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے ایک مرتبہ پھر اعتراض کیا اور کہا کہ ’میرا اعتراض یہ ہے کہ 161 کے بیانات ضمانت کی درخواست میں نہیں پڑھ سکتے۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’میں نے چین سمجھنی ہے کہ کس طرح سائفر آتا ہے اور کس طرح جاتا ہے۔‘

    راجہ رضوان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی وہ کر رہا ہے جسے آئین کے مطابق انتہائی ذمہ دار شخص ہونا چاہیے۔‘

    یہاں سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے اپنے دلائل مکمل کر لیے اور اُن کے بعد پراسیکیوٹر شاہ خاور نے دلائل کا آغاز کر دیا۔

    شاہ خاور نے اپنے دلائل کے آغاز میں کہا کہ ’سائفر نو مارچ 2022 کو پی ایم آفس میں وصول ہوا۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سائفر میسج واپس جانے کے حوالے سے کوئی تحریری ایس او پی ہے؟‘ جس کے جواب میں پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’سائفر کو جلد از جلد واپس کرنا ہوتا ہے اور اگر اس پر نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ بلانی تھی تو فورا بلاتے، مگر ایسا نہیں ہوا اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ جلسے میں سائفر لہرایا اور سیاسی فائدے کے لیے معلومات پبلک کیں۔‘

    شاہ خاور نے کہا کہ ’نو مارچ سے ستائیس مارچ تک کیا ہوا؟ نا پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا گیا، پٹیشنر کے وکیل نے خود اعتراف کیا کہ سائفر کی معلومات پبلک کی گئی تھیں۔‘

    دونوں پراسیکیوٹرز کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے جوابی دلائل کا آغاز کیا تاہم اسی دوران عمران خان کے ایک اور وکیل سردار لطیف کھوسہ نے سائفر مقدمے کے اخراج سے متعلق اپنے جوابی دلائل بھی دیے۔

    سردار لطیف کا کہنا تھا کہ ’کہا گیا ہے کہ سائفر کی معلومات پبلک کرنے کا اعتراف کر لیا، میں قطعا کسی بات کا اعتراف نہیں کر رہا۔‘

    سردار لطیف کھوسہ نے سوال کیا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی نے پبلک کو کوئی سائفر دکھایا؟ سابق وزیر اعظم نے تو علامتی طور پر ایک کاغذ لہرایا تھا۔‘

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ڈی کوڈ ہونے والا سائفر تو آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، شہباز شریف اور خواجہ آصف کے پاس بھی گیا، انھوں نے کہا کہ اس پر تو سفارتی سطح پر شدید احتجاج بھی کیا گیا تھا۔‘

    آج کی اس عدالتی کاروائی اور دونوں جانب سے دیے جانے والے ان دلائل کے بعد جیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دائر کی جانے والی دو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  3. فرخ حبیب استحکام پاکستان پارٹی میں شامل: ’عمران خان کی جانب سے کی گئی ذہن سازی کے باعث لوگ فوج کے خلاف نکلے‘

    پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فرخ حبیب نے نو مئی کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے استحکام پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

    یاد رہے کہ فرخ حبیب نو مئی کے واقعات کے بعد سے روپوش تھے اور تحریک انصاف نے گذشتہ ماہ 28 ستمبر کو دعویٰ کیا تھا کہ فرخ حبیب کو بلوچستان کے شہر گوادر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کی مبینہ گرفتاری کے بعد ان کے بھائی نے لاہور ہائیکورٹ میں ان کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

    فرخ حبیب نے اپنی سیاست کا آغاز پنجاب یونیورسٹی سے بطور طالبعلم رہنما کیا تھا اور وہ انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے بانی اراکین میں سے تھے۔

    پیر کی شام لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں نے گذشتہ کئی ماہ سے اپنی فیملی سے رابطہ منقطع کیا ہوا تھا۔ نو مئی کا واقعہ افسوسناک تھا جس کے بعد ہم قانون کا سامنا کرنے سے بھاگ رہے تھے۔‘

    تحریک انصاف کے سابق رہنما کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ پانچ ماہ کے دوران دماغ میں مسلسل یہ سوچ موجود تھی کہ جو سیاست ہم کر رہے ہیں کیا اسی سیاست کے لیے میں نے 2008 میں پنجاب یونیورسٹی میں اپنی سٹوڈنٹ سیاست کا آغاز کیا تھا۔ ہم تو حقیقی معنوں میں پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانا چاہتے تھے، مگر ہم اس سے دور ہٹتے رہے۔ میں ان سوالوں کے جواب مسلسل اپنے آپ سے پوچھتا رہا۔‘

    انھوں نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’آپ کو قانونی طریقے سے حکومت سے ہٹایا گیا تو آپ کو بھی دوبارہ حکومت میں آنے کے لیے آئینی طریقے سے جدوجہد کرنی چاہیے تھی۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد لوگوں کی نفرت پر اُکسایا گیا اور اداروں کے خلاف مسلسل ذہن سازی کی گئی۔ ’آپ نے بیلٹ (ووٹ) کے بجائے بولیٹ (گولی) کا راستہ اختیار کیا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جانب سے کی گئی ذہن سازی کے باعث لوگ فوج کے خلاف نکلے۔

    ’ہم ملک کو سیاسی جدوجہد کے بجائے انتشار کی طرف لے گئے، تحریک عدم اعتماد کے بعد نہ تو پارٹی کے عہدیدارن کو، نہ ورکرز کو اور نہ عوام کو چین سے بیٹھنے دیا گیا اور پرتشدد مزاحمت کا راستہ اپنایا گیا۔ ہم تو پرامن جدوجہد کے لیے میدان سیاست میں آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرز سیاست میں لوگوں کا اور عوام کا نقصان ہوا۔ عمران خان کی ذمہ داری تھی کہ وہ تدبر کا مظاہرہ کرتے مگر وہ چاہ رہے تھے کہ لوگ سڑکوں پر ان کے لیے لڑیں۔

    فرخ حبیب نے دعویٰ کیا کہ ’عمران خان نے تشدد کی ترویج کی اور یہ وہ راستہ نہیں تھا جس کے لیے ہم نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔‘

    سائفر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے فرخ حبیب نے کہا کہ سائفر کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس عمران خان کی زیرصدارت ہوا جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ سائفر کا معاملہ ’مداخلت‘ ہے مگر سازش نہیں۔ ’مگر اس اعلامیے کے باوجود اس پر سیاسی بیانیہ بنایا گیا۔‘

    فرخ حبیب نے الزام عائد کیا کہ توشہ خانہ کیس میں پارٹی رہنماؤں کو ان باتوں پر عمران خان کا ڈیفنس کرنے کو کہا گیا تو غلط تھیں۔

  4. سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ وصول نا کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

    سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نا صرف اس فیصلے کو کلعدم قرار دیا گیا ہے بلکہ ترسیلی کمپنیوں کو آج سے ہی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ وصول کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے خلاف کمپنیوں کا معاملہ نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل کو بھیج دیا۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ غیر قانونی قرار دینےکا فیصلہ آئینی و قانونی طور پر قابل عمل نہیں ہے۔

    بجلی کی ترسیلی کمپنیوں کے وکیل سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا ’مئی 2022 میں جب ایف پی اے لگایا گیا تب نیپرا کی تشکیل غیر آئینی تھی،‘ جس پر چیف جسٹس نے کہا ’اگر نیپرا کی تشکیل غیر آئینی ہے تو جج کو اس پر فیصلہ دینا چاہیے تھا، لاہور ہائیکورٹ سنگل بینچ نے اپنے اختیار سے باہر فیصلہ دیا جسے برقرار رکھنا ممکن نہیں۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کا کہنا تھا کہ ’ہائیکورٹ کے ججز آرٹیکل 199 پڑھنا بھول جاتے ہیں، کیا ہائیکورٹ کا جج یہ کہہ سکتا ہے کہ 500 یونٹ بجلی استعمال پر بل یہ ہو گا؟‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت نیپرا کے تکنیکی معاملات نہیں دیکھ سکتی۔‘

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’لاہور ہائیکورٹ نے وہ فیصلہ دیا جس کی درخواستوں میں استدعا ہی نہیں کی گئی تھی، بہتر ہو گا تکنیکی معاملات نیپرا کے سامنے ہی اٹھائے جائیں۔‘

    سپریم کورٹ نے آج سے بجلی کی ترسیلی کمپنیوں کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ وصول کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کمپنیوں اور صنعتوں سے واجب الادا رقم نیپرا ایپلیٹ ٹریبونل کے فیصلے سے مشروط ہو گی۔

  5. عمران خان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمہ خارج کرنے پر سماعت کل تک ملتوی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم سائفر کا مقدمہ خارج کرنے اور سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے لیے حکم امتناع کی درخواست پر لطیف کھوسہ نے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ پٹیشنر کو آئین کے آرٹیکل 248 کا استثنا حاصل ہے اس وجہ سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور اس کی سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا۔ انھوں نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری تھی کہ معلومات پبلک کے ساتھ شیئر کرتے۔

    لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا ایک پوائنٹ یہ بھی ہے کہ سائفر کابینہ میٹنگ میں ڈی کلاسیفائی ہو چکا تھا۔ عدالت نے ایف آئی اے پراسیکیوٹرز سے دلائل طلب کر تے ہوئے سماعت میں وقفہ کر دیا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس خارج کرنے اور ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت کی۔

    پٹیشنر کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا سائفر کو وفاقی کابینہ نے ڈی کلاسیفائیڈ کردیا تھا۔ ڈونلڈ لو نے اس ملک کے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے دھمکی دی تھی، یہ تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی گئی، جس پر پاکستان نے امریکا سے احتجاج کیا۔

    انھوں نے کہا کہ اس دوران ڈونلڈ لو کے کہنے پر وزیراعظم کی چھٹی کرا دی جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سائفر ساتھ لے گیا مضحکہ خیز ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سائفر چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس نہیں، وزارت خارجہ میں موجود ہے۔ سائفر کے لفظ کا ذکر آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں نہیں ہے، صرف کوڈ کی بات کی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سائفر کا کوڈ ملزم نے نہیں بلکہ خود استغاثہ نے ایف آئی آر میں ظاہر کیا۔ یہ اب اعظم خان کا بیان لے کر آ گئے ہیں جو تین ہفتے لاپتہ رہا۔

    وکیل نے کہا کہ سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور اس کی سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہاں انھوں نے بڑی آسانی سے اعلان کر دیا کہ اس کیس میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ اگر ملک کے خلاف کوئی سازش ہو تو عوام کو بتانا وزیر اعظم کا کام ہے۔

  6. بریکنگ, ’سائفر کیس کی جیل میں سماعت میں کوئی بدنیتی نظر نہیں آئی، یہ سابق وزیراعظم کے حق میں ہے‘: اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر گمشدگی کیس کی جیل میں سماعت کے خلاف چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست نمٹاتے ہوئے فیصلہ دیا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر سابق وزیر اعظم کے حق میں ہے۔ عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی۔ چیئرمین پی ٹی آئیعمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    اس سے قبل سماعت کے آغاز پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے اور سائفر کیس کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں سیکریٹ ایکٹ کا سیکشن 5 لاگو ہی نہیں ہوتا۔

  7. بریکنگ, سائفر گمشدگی کیس: جیل ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ آج سنایا جائے گا

    سائفر گمشدگی کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ آج سنایا جائے گا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کی جانب سے جاری کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سنائیں گے۔

    یاد رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل کی بجائے عدالت میں سماعت کی استدعا کر رکھی ہے جس پر چند روز قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    دوسری جانب سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے بھی چیئرمین پی ٹی آئی پر فرد جرم کے لیے 17 اکتوبر کی تاریخ دے رکھی ہے۔

  8. بریکنگ, پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہ سکے گا؟, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی نگران حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 40 روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافے کے پیش نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا ہے۔

    جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت 40 روپے کی کمی کے بعد 282.38 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 15 روپے کی کمی کے بعد 303.18 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل میں نمایاں کمی کی تازہ ترین پیش رفت کے بعد اگلے پندرہ دنوں کے بعد اس میں مزید کمی کے بارے میں ملکی تیل کے شعبے کے مطابق فی الحال اس کے بارے میں پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔

    تاہم اس شعبے کے افراد کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں تھوڑا سا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    تیل کے شعبے کے ماہر زاہد میر کے مطابق پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ گذشتہ پندرہ دنوں میں تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ملک میں ڈالر کی قیمت میں کمی نے بھی مقامی قیمت کو بھی کم کیا۔

    انھوں نے کہا تاہم اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کیا صورت اختیار کرتی ہے اور اس کا تیل کی قیمتوں پر کیا اثر پڑتا ہے وہ مستقبل میں پاکستان میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت کا تعین کرے گا۔

    انھوں نے کہا اگر ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ہوتی ہے اور عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو تھوڑی مزید کمی تیل کی قیمتوں میں واقع ہو سکتی ہے۔

  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے متعلق خبروں اور تبصروں کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔

    15 اکتوبر تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں