یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال پر خبروں اور تبصروں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج کا رُخ کریں۔۔۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرنے پر اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جسٹس امجد رفیق نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو حکم دیا ہے کہ وہ اٹک جیل سے پرویز الٰہی کو لے کر کل عدالت میں پیش ہوں۔
پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال پر خبروں اور تبصروں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج کا رُخ کریں۔۔۔
پاکستان تحریک انصاف نے کور کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں کہا ہے کہ سائفر معاملے میں عمران خان کو عدل سے محروم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
اس نے چیئرمین تحریک انصاف کی ضمانت کے معاملے کو ’مسلسل تاخیر کی نذر کیے جانے پر‘ نہایت غم و غصّے کا اظہار کیا ہے۔ بیان کے مطابق ’خصوصی جج کی ہفتہ بھر کی رخصت کے بعد ڈیوٹی جج کی جانب سے چیئرمین عمران خان کی درخواستِ ضمانت کی سماعت سے گریز باعثِ تشویش قرار۔ چیئرمین عمران خان کے مقدمات امتیازی انصاف کی گھٹیا ترین مثالیں ہیں۔‘
تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے کہا ہے کہ ’پہلے توشہ خانہ کے جھوٹے مقدمے میں قانون و انصاف کی دھجّیاں اڑاتے ہوئے غیرمعمولی عجلت میں عمران خان کو سزا دی گئی، اب سائفر معاملے میں حیلہ سازیوں سے چیئرمین تحریک انصاف کو عدل سے محروم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
’خصوصی جج کی رخصت ہی کی آڑ میں وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا معاملہ بھی التوا میں ڈالا گیا، تکنیکی بنیادوں پر تحریک انصاف کے قائدین کو انصاف سے محروم کرنے اور قید میں رکھنے کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے۔‘
خیال رہے کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطلی کے بعد تاحال وہ سائفر گمشدگی کے معاملے میں اٹک جیل میں قید ہیں۔
تحریک انصاف نے ’حکومت اور ریاستی مشینری سے معاملے کی حساسیت اور نزاکت کا بہتر ادراک کرنے اور تنازع کے مؤثر حل کی بلاتاخیر تدبیر کا مطالبہ‘ کیا ہے۔
دریں اثنا اجلاس میں تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہیٰ کے عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری کے معاملے کی لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کا جائزہ لیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے پرویز الٰہی کو گرفتار کرنے پر اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ سماعت پر لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور انھوں نے پولیس کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ وہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو کسی بھی اور مقدمے میں گرفتار نہ کرے۔
آج کی سماعت کے دوران جسٹس امجد رفیق نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو حکم دیا ہے کہ وہ اٹک جیل سے پرویز الٰہی کو لے کر کل عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
گوادر میں ہیلی کاپٹر حادثہ ہوا ہے جس میں پاکستان بحریہ کے دو افسران اور ایک جوان ہلاک ہو گئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بحریہ کے ہیلی کاپٹر کے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
حادثے کی وجوہات کا ابھی علم نہیں ہو سکا ہے۔
نگراں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے بھی گوادر میں نیوی ہیلی کاپٹر حادثہ پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے خلاف شہریوں کو اغوا کرکے تھانے میں رکھنے اور بھتہ وصولی کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایف آئی اے کو مقدمہ میں نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس بابر ستار نے مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس اہلکاروں کے شاملِ تفتیش نہ ہونے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے سے ااستفسار کیا کہ ’ایف آئی اے نے کوئی گرفتاری کی، پولیس اہلکاروں سے انکوائری کی گئی؟‘
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ’ہم نے انکوائری کرنے کی کوشش کی لیکن ملزم راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔‘
جسٹس بار ستار نے کہا کہ ’کیا آپ نے پولیس اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں؟ عدالت نے کہا ہے کہ اگر وہ شاملِ تفتیش نہیں ہو رہے تو انھیں گرفتار کریں۔
جسٹس بابر ستارنے ایف آئی اے کے تفتیشی سے کہا کہ ہر ایک کیلئے ایک ہی قانون ہے پولیس والوں کے لیے الگ قانون تو نہیں بنے گا۔
وکیل انسپکٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’آئی جی اسلام آباد نے اے ایس آئی اور تین کانسٹیبلز کو معطل کر دیا ہے۔‘
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا، سینیئر افسر کو معطل نہیں کیا گیا۔
وکیل طاہر کاظم نے کہا کہ ریڈ کرنے والے اے ایس آئی اور اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہمارے خلاف ایک ہی کیس میں تین فورمز پر بروقت کارروائی چل رہی ہے۔‘
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ توہین عدالت، ایف آئی آر اور ڈپارٹمنٹل کارروائی بروقت ہو سکتی ہے۔
وکیل طاہر کاظم نے کہا کہ ڈی آئی جی آپریشنز نے پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائری کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ’کیا توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز کا جواب جمع کروا دیا گیا ہے؟
عدالت نے واضح کیا کہ اگر وہ تحریری جواب تسلی بخش نہ ہوئے تو آئندہ تاریخ پر شوکاز نوٹس پر بھی سماعت ہو گی۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے بینچ مارک KSE-100 انڈیکس میں پیر کو 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد آرمی چیف کی جانب سے زرمبادلہ کی شرح میں شفافیت کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
پی ایس ایکس کی ویب سائٹ کے مطابق انڈیکس صبح 11 بجے 45,730.16 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جو کہ 45,312.65 پوائنٹس کے گذشتہ اعدادوشمار سے 0.92 فیصد یا 417.51 پوائنٹس زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تاجروں سے ملاقات میں کرائی گئی یقین دہانیاں بھی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کا باعث بنی۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز آرمی چیف نے لاہور کور ہیڈ کوارٹرز میں تاجر کمیونٹی سے ملاقات کی اور انھیں منی ایکسچینج کو ٹیکس کے دائرے میں لانے، ڈالر کے تبادلے اور انٹربینک ریٹ میں شفافیت کو فروغ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وکیل اور سماجی رہنما ایمان مزاری کو کسی بھی کیس میں گرفتار کرنے سے قبل عدالت کو لازمی آگاہ کیا جائے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس کیس میں حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خفیہ ایف آئی آر میں ایمان مزاری کی گرفتاری سے قبل عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔
واضع رہے کہ ایمان مزاری سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ہیں جنھیں 28 اگست کو اسلام آباد کی عدالت نے بغاوت اور اشتعال انگیزی کے کیس میں ایمان مزاری کی ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد انھیں اڈیالہ جیل سے رہا تو کیا گیا تھا مگر جیل سے رہائی کے بعد ہی اسلام آباد پولیس نے تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمے میں ایمان مزاری کو دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دُگل نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم نے صوبوں کو گذشتہ سماعت کے بعد لکھ دیا تھا، مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے لیے صوبوں کو فیکس اور واٹس ایپ بھی کر دیا، تاہم اُن کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’پٹیشنر ایمان مزاری کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہیئں۔‘
جس پر عدالت نے ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی۔
پیر کے روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے سائفر گمشدگی کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت نہ ہو سکی۔
سائفر کیس میں دائر درخواست پر سماعت کے لیے جب سابق وزیر اعظم کے وکلا کی ٹیم جج ابو الحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں پہنچی، تو عدالتی عملے نے انھیں بتایا کہ متعلقہ جج آٹھ ستمبر تک چھٹی پر ہیں۔
خصوصی عدالت سے یہ جواب ملنے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکلا نے درخواست ضمانت سننے کے لیے ڈیوٹی جج راجہ جواد عباس کے سامنے درخواست دائر کی جو آج (پیر) دن 12 بجے سماعت کریں گے۔
ڈیوٹی جج کی عدالت میں پیشی کے موقع پر وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ’آپ ڈیوٹی جج ہیں ہم آپ سے دو استدعیں کرنا چاہتے ہیں۔‘
اس پر راجہ جواد عباس نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ڈیوٹی جج نہیں ہو سکتے کیونکہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی ڈیوٹی جج کا کوئی نوٹیفکیشن موجود نہیں ہے، سیکریٹ ایکٹ کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ مارک کرے گی تو پھر میں سن سکتا ہوں۔‘
جج راجہ جواد عباس کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد کی 24 عدالتوں کے کیسز بطور ڈیوٹی جج سن سکتے ہیں لیکن یہ معاملہ الگ ہے۔
جس پر پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ’ایک درخواست دائر کر دیتے ہیں، پھر ہائیکورٹ بھی چلے جاتے ہیں۔‘
جج راجہ جواد عباس نے کہا ’ٹھیک ہے، آپ درخواست دائر کر دیں پھر اسے دیکھ لیتے ہیں۔ جس پر پی ٹی آئی کے وکلا نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی رخصت کے باعث درخواست ضمانت سننے کی درخواست دائر کی۔‘
اس موقع پر سپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے راجہ رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پی ٹی آئی وکلا کس قانون کے تحت آپ کی عدالت میں درخواست دائر کر رہے ہیں؟
جس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے ڈیوٹی جج سے کہا کہ آپ اگر کہیں گے کہ آپ کا اختیار نہیں، مجبور ہیں تو ہم ہائیکورٹ چلے جائیں گے۔
ڈیوٹی جج راجہ جواد عباس نے کہا ’آپ شاید مجھے جانتے نہیں ورنہ لفظ مجبور استعمال نہ کرتے۔‘
دلائل کے بعد جج راجہ جواد عباس نے کہا ’12 بجے آپ کی درخواست سن لیتے ہیں، سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی دلائل دیں گے۔‘
جس پر نیب کی جانب سے پیش ہونے والے سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ ’ہم اس درخواست پر عدالت کی معاونت کریں گے۔‘
پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ رواں برس نو مئی کو ملک میں جو کچھ ہوا وہ بغاوت اور خانہ جنگی کی جانب ایک کوشش تھی۔
جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کا ہدف موجودہ آرمی چیف اور ان کی ٹیم تھی۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ایسا تاثر نہیں دینا چاہتے کہ نو مئی کے ملزمان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی ہو رہی ہے لیکن اگر ملکی قوانین کو پامال کرنے اور تشدد پر آمادہ جماعت کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی نہ ہوئی تو ہم اس معاملے میں فریق نظر آئیں گے۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے سائفر سے متعلق معاملے پر پوچھے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس معاملے پر کوئی تحقیقات نہیں کی ہے اور اگر کروں بھی تو میرا منصب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کو عوامی سطح پر زیر بحث لاؤں۔
ملک میں حالیہ دہشت گردی اور بلوچستان میں ناراض بلوچوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی اگر بات کریں تو اس وقت حکومت اور ریاستی ادارے وہاں لوگوں کے مسائل کو سمجھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انھیں مرکزی دھارے میں واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہیں اور ان کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا جہاں تک ملک میں سرحد پار دہشت گردی کی بات ہے تو روشن اور پر امن پاکستان کا خواب پرامن افغانستان سے جڑا ہے۔
اگر افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں بھی استحکام آئے گا۔ اس لیے حکومت اس وقت طاقت اور مذاکرات دونوں کا راستہ اپنائے ہوئے ہے۔
پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ملک میں بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بجلی ایسا مسئلہ نہیں جس پر پہیہ جام ہڑتال کی جائے اور ہمیں اس طبقے سے بہت ہمدردی ہے جس پر بجلی بلوں کا بہت بوجھ ہے۔
انھوں نے کہا کہ رات کو دکانیں جلد بند کرنے سے متعلق فیصلہ صوبوں کو اعتماد میں لے کر کریں گے اور فیصلے کا نفاذ جلد نظر آئے گا، بجلی کے معاملے پر جلدی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے، ہم ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جو بعد میں واپس لینا پڑے۔
انھوں نے اداروں کی نجکاری سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں کوئی شاہی حکم دے کر اداروں کی نجکاری نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں کچھ قواعد ہیں جن پر عمل کرنا ہے۔ اس بارے میں ادارے کام کر رہے ہیں۔
انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات پر بات کرتے ہوئے نگراں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بنا انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کا آغاز نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کی حیثیت پر فیصلہ انڈیا کے ضمیر نے کرنا ہے۔
عمران خان کے وکیل نعیم پنجھوتا نے کہا ہے کہ تحریک انصاف چیئرمین نے ڈیل کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
سنیچر کے دن اٹک جیل میں سابق وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد نعیم پنجھوتا نے کہا کہ ’عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ میں نے کسی سے ڈیل نہیں کی۔‘
’انھوں نے واضح طور پر کہا کہ میرا جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے اور میں اس ملک میں رہوں گا۔‘
نعیم پنجھوتا کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کہا کہ ان کو تکلیف میں رکھا گیا ہے، یا ان کی کلاس تبدیل کریں یا ان کو کھانے کا کوئی مسئلہ ہے۔
’ان کا واضح پیغام تھا کہ جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام نہیں آئے گا تو ملک میں معاشی استحکام نہیں آ سکتا اور الیکشن آئین کے مطابق 90 دن میں ہونے چاہیں۔‘
پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے اپنےشہریوں کو خبردار کیا ہے کہ سکردو اور دیامر میں حالیہ مظاہروں اور کشیدہ صورت حال کے پیش نظر وہاں جانے سے گریز کریں۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ (پاکستان کے زیر انتظام) گلگت بلتستان میں حالیہ مظاہروں، سڑکوں کی بندش اور موبائل اور انٹرنیٹ نیٹ ورکس سے منسلک رکاوٹوں کی وجہ سے امریکی شہریوں کو گلگت بلتستان میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
اعلامیے کے مطابق امریکی سفارت خانہ اپنے شہریوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ بڑے اجتماعات میں شرکت سےگریز کریں، مقامی میڈیا رپورٹس کی نگرانی کریں۔ اور اپنے اردگرد کے ماحول سے ہر وقت چوکس رہیں۔
اعلامیے کے مطابق امریکی شہری اپنے ذاتی حفاظتی منصوبوں کا جائزہ لیں، اپ ڈیٹس کے لیے مقامی میڈیا کی نگرانی کریں اور شناخت اپنے ساتھ رکھیں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے بلوچستان کی آبادی میں 70لاکھ کی کمی کی مذمت کی ہے۔
سنیچرکی شب کوئٹہ میں پارٹی کے بانی رہنما سردارعطااللہ مینگل کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ ایک جلسہ عام میں مختلف قراردادیں منظورکرتے ہوئے بی این پی نے آبادی میں کمی کوبلوچستان دشمنی پرمبنی اقدام قراردیا۔
جلسہ عام سے پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل اوردیگرلوگوں نے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے بانی رہنما سردارعطااللہ مینگل کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا۔
جلسے میں متعدد قراردادیں منظورکی گئیں جن میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائےاورلوگوں کی جبری گمشدگی کا سلسلہ بند کیا جائے۔
ایک قرارداد میں ایمان مزاری سمیت ماروائے آئین وقانون گرفتار کیے جانے والے تمام سیاسی رہنماوں اور کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایک قرارداد میں آرمی ایکٹ اورسویلینزپرآرمی ٹرائیل کورٹ کے زریعے مقدمات چلانے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی پامالی کے مترادف قراردیا۔
پارٹی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ آئین کی روح سے انتخابات 90 روز میں منعقد کرائے جائیں اورحلقہ بندیوں کی آڑمیں انتخابات میں تاخیرنہ کی جائے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات،اشیاء خوردونوش اوربجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے نگراں حکومت عوام کی معاشی قتل عام کا سلسلہ بند کرے۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے ایم پی او کے تحت گرفتاری چیلنج کردی ہے۔
چوہدری پرویز الٰہی نے یہ درخواست اپنے وکیل عبد الرازق کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انھیں سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور صدر پاکستان تحریک انصاف پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او (نقضِ امن) کے تحت صوبائی دارالحکومت لاہور کی کینال روڈ سے حراست میں لے لیا تھا۔
درخواست کے مطابق یکم ستمبر کا ایم پی او غیر قانونی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت ایم پی او گرفتاری کالعدم قرار دیکر رہائی کا حکم جاری کرے۔
درخواست میں سیکریٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف سینیچر کے روز شٹر ڈاون ہڑتال کی گئی۔
ہڑتال کی کال ملک گیرسطح پر جماعت اسلامی اور تاجروں نے دی تھی۔
ہڑتال کی کال کے باعث کوئٹہ شہر کے چھوٹے بڑے بیشتر تجارتی مراکز بند رہے۔ دوسری جانب بلوچستان بار کونسل کی کال پر وکلاء مہنگائی کے خلاف بطور احتجاج عدالتوں میں بھی پیش نہیں ہوئے۔
پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے گذشتہ روز لاہور میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے پولیس کے رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان بار کونسل کے مطابق عدالت نے یہ واضح انداز میں حکم دیا تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار نہیں کرنا مگر اس کے باوجود عدالتی حکمنامے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جو کہ قابل مذمت ہے۔
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت دومختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں آٹھ افراد مارے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق مارے جانے والے افراد کا تعلق کالعدم شدت پسند تنظیموں سے تھا۔
ان میں سے ایک کارروائی بلوچستان کے ضلع واشک میں بیسیمہ کے علاقے میں کی گئی میں کی گئی، جس میں پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ تین موقع سے فرارہوگئے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ایک اوراطلاع پرکوئٹہ میں ’کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں‘ کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، جس پر کارروائی کی گئی۔
کارروائی کے دوران سی ٹی ڈی کی ٹیم پر دستی بموں کے علاوہ ان پرفائرنگ کی گئی جبکہ سی ٹی ڈی کی جوابی کارروائی میں تین لوگ ہلاک ہوئے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق دونوں کاروائیوں میں یہ لوگ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔ تاہم آزاد ذرائع سے تاحال ان افراد کی فائرنگ کے تبادلے میں مارے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق کوئٹہ میں ہونے والی کارروائی میں ایک کمرے میں زنجیروں سے جھکڑا ایک شخص موجود پایا گیا، جنھوں نے اپنا نام ابو بکربتایا۔ ’ابوبکرنے بتایا کہ انھیں ایک ماہ قبل اغوا کیا گیا تھا‘۔
سی ٹی ڈی کی پانچ روز کے دوران بلوچستان میں تیسری کارروائی تھی۔ اس سے قبل 29 اگست کو کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کے علاقے میں ایک ایسی کارروائی میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔