وائٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جمعے کو (آج) عمان میں ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے بارے میں وقت اور نئے مقام کے بارے میں تصدیق کی تھی۔
ان مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات سے قبل یہ جاننا بھی اہم ہے کہ ایران سے کشیدگی کے دوران بدھ کو امریکی فضائیہ کا تیسرا ای-11 اے طیارہ یونان کے جزیرے کریٹ پر واقع خانیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔ تقریباً چار گھنٹے بعد یہ سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر پہنچا۔
یہ تجارتی طیارے، جنھیں خصوصی طور پر تبدیل کیا گیا ہے، ایک فضائی مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ امریکی افواج وسیع علاقوں میں معلومات کو تیزی اور محفوظ طریقے سے شیئر کر سکیں۔
گذشتہ ہفتے ایسے دو طیارے پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔
طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ماہر سٹیفن واٹکنز نے بتایا کہ ’سب سے زیادہ خصوصی طیارے آخر میں آتے ہیں۔ اب جب یہ پہنچ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھیں کام کرنا ہے۔‘
ایران اور امریکہ مذاکرات سے ایک دن قبل ایران کے سرکاری انگریزی ٹی وی چینل پریس ٹی وی نے خرمشہر۔ فور میزائل پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے سب سے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں میں سے ایک خرمشہر فور کو پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ زمین مراکز میں ایک میں نصب کر دیا گیا ہے۔
پریس ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ خرمشہر۔ فور دو ہزار کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور یہ پندرہ سو کلوگرام وزنی دھماکہ خیز وارہیڈ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
گذشتہ برس ایران اور اسرائیل جنگ کے درمیان فارس نیوز ایجنسی نے ڈیفنس پریس ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس میزائل کے بارے میں ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ: ’اس میزائل کا پے لوڈ وارہیڈ ایسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے کہ اگر تین یا چار خرمشہر۔ فور میزائل ایک ساتھ داغے جائیں تو یہ مغربی ایشیا کے خطے میں کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘
مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ خرمشہر۔ فور میزائل ’اسلامی جمہوریہ ایران کے طاقتور ہتھیاروں میں سے ایک‘ ہوگا اور یہ کہ خطے میں موجود برطانوی فوجی اڈے، بشمول قبرص میں ایک اڈہ، بھی اس کی حدِ مار کے اندر آتے ہیں۔
اب دوبارہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سے متعلق چیلنجز پر تفصیل سے نظر دوڑاتے ہیں۔
عباس عراقچی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات جمعہ کو تقریباً صبح 10:00 بجے مسقط میں ہونے والے ہیں، تمام ضروری انتظامات کرنے کے لیے ’سلطنت کا شکریہ۔‘
ایران اور امریکہ نے ان مذاکرات سے متعلق بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے ایکسوس سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے۔ تاہم اسرائیل کے چینل 12 کو حکام نے بتایا کہ امریکہ نے ایران کو مطلع کیا ہے کہ وہ جمعے کو ہونے والے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے مقام اور فارمیٹ کو تبدیل کرنے کے تہران کے مطالبات سے اتفاق نہیں کرتے۔
دو امریکی حکام کی جانب سے بیان کردہ اس اقدام کو ممکنہ طور پر میٹنگ کی منسوخی سمجھا گیا۔تاہم ایکسوس نے بعد میں یہ خبر دی کہ مذاکرات دوبارہ پٹری پر آگئے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے کئی رہنماؤں کی مداخلت کے بعد عمان میں ہوں گے۔
اس سے قبل دونوں سینیئر امریکی عہدیداروں نے اطلاع دی تھی کہ ایران کی جانب سے ملاقات کے مقام اور مواد کے بارے میں سابقہ مفاہمت سے انکار کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ واشنگٹن نے مذاکرات کو عمان منتقل کرنے یا اصل متفقہ فارمیٹ میں ترمیم کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔
عباس عراقچی کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو این بی سی نیوز کو اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر کو ’بہت فکر مند‘ ہونا چاہیے۔
اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایلچی سٹیو وٹکوف، امریکی صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کے ساتھ، قطری وزیر اعظم سے ایرانی معاملے پر بات چیت کے لیے جمعرات کو قطر کا سفر کرنے کی توقع ہے۔
دونوں عہدیداروں نے اشارہ دیا کہ اگر ایران مذاکرات کے فارمیٹ پر نظر ثانی کرتا ہے تو امریکہ اس ہفتے کے آخر یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات جمعہ کو سلطنت عمان میں ہوں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہونے والے ہیں۔‘ تسنیم نے مزید کہا کہ وہ ’جوہری پروگرام کے معاملے اور ایران پر سے پابندیاں اٹھانے تک محدود ہوں گے‘۔ اس کی تصدیق سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی اثنا نے بھی کی ہے۔
ایران نے مسلسل سفارتی حل تک پہنچنے کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا ہے، اس بات پر زور دیا ہے کہ بات چیت کو جوہری پروگرام کے مسئلے تک محدود رکھا جائے اور اپنے میزائل پروگرام یا دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا جائے۔
اس کے برعکس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی سنجیدہ مذاکرات میں تہران کے میزائل ہتھیاروں اور دیگر مسائل کو شامل کرنا چاہیے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ’اگر ایرانی ملنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں،‘ لیکن انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں جوہری تنازع کے علاوہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی رینج، مشرق وسطیٰ میں گروپوں کے لیے اس کی حمایت اور اپنے لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک شامل ہونا چاہیے۔