آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج، کوئٹہ سے تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے 200 کارکن گرفتار

ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے متعدد شہروں میں اتوار کے روز شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال رہی۔

خلاصہ

  • پی ٹی آئی کی جانب سے آج ملک بھر میں یوم سیاہ، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا
  • وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں دھماکے کے ماسٹر مائند کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے ہے جسے حراست میں لیا گیا ہے
  • انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے

لائیو کوریج

  1. عباس عراقچی کی عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات سے قبل عمانی وزیر خارجہ بدر البوسیدی سے اب سے کچھ دیر قبل ملاقات کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں وزرا خارجہ کی ملاقات کے دوران فریقین نے ایران امریکہ جوہری مذاکرات سمیت دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    یاد رہے کہ عباس عراقچی آج امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک وفد کے ہمراہ عمان کے دارالحکومت مسقط میں موجود ہیں۔

  2. افغانستان میں امن قائم ہے، غیر ریاستی گروہ کی موجودگی کے حوالے سے تشویش ’بے بنیاد‘ ہے: ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملک میں کسی بھی بیرونی یا غیر ریاستی گروہ کی موجودگی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہے

    انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا ہے کہ ’ہم یقین دلاتے ہیں کہ افغانستان محفوظ ہے، یہاں کوئی بیرونی یا شدت پسند گروہ موجود نہیں۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ ’داعش کو افغانستان میں شکست دی گئی ہے لیکن بدقسمتی سے اس نے پڑوسی ممالک میں ٹھکانے بنا لیے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’جب ہم کہتے ہیں کہ افغانستان کی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، اس کا مطلب ہے کہ کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘

    طالبان کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں داعش سمیت دیگر غیر ملکی گروہوں کی افغانستان میں موجودگی پر تشویش ظاہر کی گئی

    اقوامِ متحدہ کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کی سربراہ ناتالیا گیرمن نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں داعش نے دنیا بھر میں دہشت گرد حملے کیے ہیں جن کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔

    پاکستان، چین، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے نمائندوں نے افغانستان میں داعش کی شاخ خراسان کی موجودگی کو خطے اور دنیا کے لیے ’سنگین خطرہ‘ قرار دیا۔

    یاد رہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس تنظیم نے افغانستان میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے بھی کہا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گرد گروہوں نے نئی جان پکڑ لی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے تقریباً چار ماہ سے دہشت گردی، خصوصاً تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق خدشات کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت اور آمدورفت روک دی ہے۔

  3. امریکہ کی ایران میں موجود اپنے شہریوں کو’محفوظ راستوں‘ کے ذریعے ملک چھوڑنے کی ہدایات

    ایران کے لیے امریکہ کی (ورچوئل) ایمبیسی نے اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے انھیں محفوظ متبادل راستوں سے ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    بیان کے مطابق ’حالیہ صورتحال میں ایئر لائنز ایران آمد و رفت کی پروازوں کو محدود یا منسوخ کر رہی ہیں۔ اس لیے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے وہ مواصلات کے متبادل ذرائع پر غور کریں اور آرمینیا یا ترکی کے راستے محفوظ ہونے کی صورت میں وہاں سے ایران چھوڑنے پر غور کریں۔‘

    یاد رہے کہ یہ سکیورٹی انتباہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات عمان میں شروع ہونے والے ہیں۔

    سفارتخانے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران میں سڑکوں کی بندش، پبلک ٹرانسپورٹ اور انٹرنیٹ خدمات میں تعطل اور رکاوٹیں جاری ہیں جبکہ ایرانی حکومت موبائل فونز، لینڈ لائنز اور قومی انٹرنیٹ نیٹ ورک تک رسائی پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

    اعلان میں ایرانی نژاد امریکی شہریوں کو یہ بھی کہا گیا کہ چونکہ ایران دوہری شہریت کو قانونی تسلیم نہیں کرتا لہذا وہ ایران سے نکلتے وقت اپنے ایرانی پاسپورٹ کا استعمال کریں

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے کوئی نیا معاہدہ نہ کرنے پر اس کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے۔

    ایران نے کہا ہے کہ وہ جوہری معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وہ اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرنے جیسے مطالبات پر بات نہیں کرے گا۔

  4. لاہور ائیرپورٹ کے قرب و جوار میں پتنگ بازی پر پابندی عائد ہے: محکمہ داخلہ پنجاب

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں بسنت کے دوران فلائٹ آپریشنز کو محفوظ رکھنے کے لیے لاہور ائیرپورٹ کے قرب و جوار میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق ’علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کے طیاروں کے ٹیک آف اور لینڈنگ ایریاز میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہے۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پابندی پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی ایوی ایشن سیفٹی کے حوالے سے سفارشات کی روشنی میں عائد کی گئی ہے۔‘

    یاد رہے کہ لاہور میں لگ بھگ 20 سال بعد حکومت نے ثقافتی تہوار بسنت منانے کی اجازت دے دی ہے۔

    ضلع میں 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اس کے لیے سخت قواعد و ضوابط مرتب کیے گئے ہیں۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق ایئرکرافٹ لینڈنگ ایریا میں نادرآباد، گلشن علی کالونی، علی ویو، نشاط کالونی، بھٹہ چوک اور ڈی ایچ اے لاہور بلاکسپی، کیو، آر اور ایس( P, Q, R ،S) شامل ہیں۔

    ایئرکرافٹ ٹیک آف کے راستے میں الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل، تاجپورہ سے ملحقہ کینال بینک روڈ اور تاجپورہ کے علاقے شامل ہیں۔

    اعلامیے کےمطابق جہازوں کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے ان تمام علاقوں میں بسنت کے دوران بھی پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہے۔

    نوٹیفکیشن پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے سیکشن 6(1) کے تحت حکومتی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

  5. امریکہ اور ایران میں براہِ راست تصادم کے خدشات میں ہونے والے مذاکرات کی اہمیت, ہوگو بچیگا، نامہ نگار مشرق وسطیٰ، بی بی سی نیوز

    ایران اور امریکہ کے سینیئر حکام آج عمان میں براہِ راست مذاکرات کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کریں گے جبکہ امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کریں گے۔

    یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے بحران نے فوجی تصادم کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

    امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی اور جنگی ساز و سامان کو بڑھا دیا ہے جسے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے سخت کریک ڈاؤن کے جواب کے طور پر بھی بیان کیا جا رہا ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں حالیہ مظاہروں میں ہزاروں افراد ہلاک اور گرفتار ہوئے۔

    مذاکرات کے مقام اور دائرہ کار پر غیر یقینی صورتحال نے اس عمل کو متاثر کرنے کا خطرہ پیدا کر دیا تھا تاہم خطے میں ثالث ممالک اس کوشش کو کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔

    امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہو جائے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرے۔

    واشنگٹن کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، علاقائی مسلح گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق کی صورتحال بھی شامل کی جائے۔ ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے گی۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں دھمکی دی ہے کہ اگر ایران معاہدے پر نہ پہنچا تو اسے بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکہ نے ہزاروں فوجی اور جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں بھیج دیے ہیں تو دوسری جانب ایران نے جواباً امریکی فوجی اثاثوں اور اسرائیل کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران امریکہ نے ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

    ایران کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے بعد اس نے یورینیم کی افزودگی روک دی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مذاکرات ایران کی قیادت کے لیے امریکی فوجی کارروائی سے بچنے کا آخری موقع ہو سکتے ہیں۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انھوں نے عباس عراقچی کو منصفانہ اور متوازن مذاکرات کی ہدایات دی ہیں بشرطیکہ ماحول سازگار ہو۔

    ایران توقع رکھتا ہے کہ مذاکرات میں اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ پیش کیا جائے گا۔

    فوجی کارروائی سے بچنے کا آخری موقع

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو یہ صدر ٹرمپ کی فوجی کارروائی دھمکیوں سے نکلنے کا ایک راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔

    خطے کے ممالک نے خبردار کیا ہے کہ کسی امریکی حملے سے وسیع تر جنگ یا ایران میں طویل مدتی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی قیادت اس وقت 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے کمزور پوزیشن میں ہے اور یہ مذاکرات امریکی فوجی کارروائی سے بچنے کا آخری موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں کے درمیان سکیورٹی فورسز کی پرتشدد کارروائیوں کے بعد فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

    موجودہ بحران نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کو عالمی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل اسے ہتھیار بنانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

    ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنے اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنے کے مطالبات اس کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔

    دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہونے چاہییں، ورنہ کوئی بامعنی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔

    یہ مذاکرات ابتدا میں استنبول میں ہونا تھے لیکن ایران کی درخواست پر اسے عمان منتقل کر دیا گیا ہے جہاں گزشتہ سال بھی مذاکرات ہوئے تھے۔

  6. ٹرمپ مذاکرات اور اس کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں: وائٹ ہاؤس

    مسقط میں جمعے کے روز ہونے والے ایران-امریکہ مذاکرات کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمان میں جمعے کے مذاکرات کی پیش رفت کی نگرانی کریں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔

    کیرولین لیویٹ کے مطابق ’دنیا بھر کے ممالک سے ڈیل کرنے کے لیے سفارت کاری ہمیشہ ہمارے صدر کا پہلا آپشن ہوتی ہے، چاہے وہ ہمارے اتحادی ہوں یا ہمارے دشمن۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’لہذا سٹیو وائٹیکر اور جیرڈ کشنر بات چیت کے لیے عمان کا سفر کر رہے ہیں اور ہم دیکھیں گے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ صدر ان کی بات سننے کے منتظر ہیں۔‘

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کے بارے میں ٹرمپ کے مطالبات بہت واضح ہیں ۔

    ان کے مطابق ’ مذاکرات سے قبل میں ایرانی حکومت کو یاد دلانا ضروری ہے کہ دنیا کی تاریخ کی سب سے طاقتور فوج کے کمانڈر انچیف کے طور پر صدر ٹرمپ کے پاس سفارت کاری کے علاوہ بہت سے آپشنز موجود ہیں۔‘

  7. ایران کے ساتھ مذاکرات سے قبل امریکہ کا خصوصی جنگی جہاز مشرق وسطی پہنچ گیا

    وائٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جمعے کو (آج) عمان میں ہوں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے بارے میں وقت اور نئے مقام کے بارے میں تصدیق کی تھی۔

    ان مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات سے قبل یہ جاننا بھی اہم ہے کہ ایران سے کشیدگی کے دوران بدھ کو امریکی فضائیہ کا تیسرا ای-11 اے طیارہ یونان کے جزیرے کریٹ پر واقع خانیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔ تقریباً چار گھنٹے بعد یہ سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر پہنچا۔

    یہ تجارتی طیارے، جنھیں خصوصی طور پر تبدیل کیا گیا ہے، ایک فضائی مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ امریکی افواج وسیع علاقوں میں معلومات کو تیزی اور محفوظ طریقے سے شیئر کر سکیں۔

    گذشتہ ہفتے ایسے دو طیارے پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

    طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ماہر سٹیفن واٹکنز نے بتایا کہ ’سب سے زیادہ خصوصی طیارے آخر میں آتے ہیں۔ اب جب یہ پہنچ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھیں کام کرنا ہے۔‘

    ایران اور امریکہ مذاکرات سے ایک دن قبل ایران کے سرکاری انگریزی ٹی وی چینل پریس ٹی وی نے خرمشہر۔ فور میزائل پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے سب سے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں میں سے ایک خرمشہر فور کو پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ زمین مراکز میں ایک میں نصب کر دیا گیا ہے۔

    پریس ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ خرمشہر۔ فور دو ہزار کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور یہ پندرہ سو کلوگرام وزنی دھماکہ خیز وارہیڈ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

    گذشتہ برس ایران اور اسرائیل جنگ کے درمیان فارس نیوز ایجنسی نے ڈیفنس پریس ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس میزائل کے بارے میں ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ: ’اس میزائل کا پے لوڈ وارہیڈ ایسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے کہ اگر تین یا چار خرمشہر۔ فور میزائل ایک ساتھ داغے جائیں تو یہ مغربی ایشیا کے خطے میں کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

    مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ خرمشہر۔ فور میزائل ’اسلامی جمہوریہ ایران کے طاقتور ہتھیاروں میں سے ایک‘ ہوگا اور یہ کہ خطے میں موجود برطانوی فوجی اڈے، بشمول قبرص میں ایک اڈہ، بھی اس کی حدِ مار کے اندر آتے ہیں۔

    اب دوبارہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سے متعلق چیلنجز پر تفصیل سے نظر دوڑاتے ہیں۔

    عباس عراقچی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات جمعہ کو تقریباً صبح 10:00 بجے مسقط میں ہونے والے ہیں، تمام ضروری انتظامات کرنے کے لیے ’سلطنت کا شکریہ۔‘

    ایران اور امریکہ نے ان مذاکرات سے متعلق بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے ایکسوس سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے۔ تاہم اسرائیل کے چینل 12 کو حکام نے بتایا کہ امریکہ نے ایران کو مطلع کیا ہے کہ وہ جمعے کو ہونے والے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے مقام اور فارمیٹ کو تبدیل کرنے کے تہران کے مطالبات سے اتفاق نہیں کرتے۔

    دو امریکی حکام کی جانب سے بیان کردہ اس اقدام کو ممکنہ طور پر میٹنگ کی منسوخی سمجھا گیا۔تاہم ایکسوس نے بعد میں یہ خبر دی کہ مذاکرات دوبارہ پٹری پر آگئے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے کئی رہنماؤں کی مداخلت کے بعد عمان میں ہوں گے۔

    اس سے قبل دونوں سینیئر امریکی عہدیداروں نے اطلاع دی تھی کہ ایران کی جانب سے ملاقات کے مقام اور مواد کے بارے میں سابقہ ​​مفاہمت سے انکار کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ واشنگٹن نے مذاکرات کو عمان منتقل کرنے یا اصل متفقہ فارمیٹ میں ترمیم کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔

    عباس عراقچی کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو این بی سی نیوز کو اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر کو ’بہت فکر مند‘ ہونا چاہیے۔

    اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایلچی سٹیو وٹکوف، امریکی صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کے ساتھ، قطری وزیر اعظم سے ایرانی معاملے پر بات چیت کے لیے جمعرات کو قطر کا سفر کرنے کی توقع ہے۔

    دونوں عہدیداروں نے اشارہ دیا کہ اگر ایران مذاکرات کے فارمیٹ پر نظر ثانی کرتا ہے تو امریکہ اس ہفتے کے آخر یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

    ایرانی میڈیا نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات جمعہ کو سلطنت عمان میں ہوں گے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہونے والے ہیں۔‘ تسنیم نے مزید کہا کہ وہ ’جوہری پروگرام کے معاملے اور ایران پر سے پابندیاں اٹھانے تک محدود ہوں گے‘۔ اس کی تصدیق سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی اثنا نے بھی کی ہے۔

    ایران نے مسلسل سفارتی حل تک پہنچنے کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا ہے، اس بات پر زور دیا ہے کہ بات چیت کو جوہری پروگرام کے مسئلے تک محدود رکھا جائے اور اپنے میزائل پروگرام یا دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا جائے۔

    اس کے برعکس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی سنجیدہ مذاکرات میں تہران کے میزائل ہتھیاروں اور دیگر مسائل کو شامل کرنا چاہیے۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ ’اگر ایرانی ملنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں،‘ لیکن انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں جوہری تنازع کے علاوہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی رینج، مشرق وسطیٰ میں گروپوں کے لیے اس کی حمایت اور اپنے لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک شامل ہونا چاہیے۔

  8. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کے روز کی خبروں میں آگے جانے سے پہلے یہاں ہم آپ کے لیے گزشتہ روزکے اہم خبروں کا خلاصہ شامل کر رہے ہیں۔

    • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عسکری اور سفارتی محاذ پر انڈیا کے جھوٹ کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، انڈیا جس زبان میں بھی بات کرے گا اس کو اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔
    • پاکستان کی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف حالیہ آپریشن میں 216 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے
    • انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ امریکہ سے تاریخی تجارتی معاہدہ آخری مراحل پر ہے اور یہ بہت جلد طے پا جائے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا، جس میں تعلقات کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔‘
    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ چار سالہ جنگ میں اب تک 55 ہزار یوکرینی فوجی میدانِ جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔
    • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے مسلم آباد میں پہاڑی سے گر کر شدید زخمی ہونے والا ایک نایاب تیندوا تمام تر کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہو سکا۔
    • وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جمعے کو عمان میں ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے بارے میں وقت اور نئے مقام کے بارے میں تصدیق کی تھی۔
    • پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہشت گردی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو فوری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔
    • امریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان براہِ راست گفتگو نہ ہونے سے مذاکرات ’پیچیدہ اور غیر معمولی‘ ہو جاتے ہیں۔
  9. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید! اس صفحے پر ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ خبریں اور اہم تجزیے شامل کریں گے۔

    تاہم اگر آپ پانچ فروری کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔