سینیئر حزب اللہ رہنما وافق صفا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے آغاز سے چند گھنٹے قبل بی بی سی کو بتایا کہ گروپ ’کبھی بھی، کسی صورت‘ ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ لبنانی حکومت کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ایک بنیادی مطالبہ ہے۔
جب اسلحہ چھوڑنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو صفا نے کہ ’کسی مناسب جنگ بندی سے پہلے نہیں، ایک حقیقی جنگ بندی سے پہلے نہیں۔ اسرائیلی انخلا سے پہلے نہیں۔ قیدیوں کی واپسی سے پہلے، بے گھر افراد کی واپسی سے پہلے اور تعمیرِ نو سے پہلے نہیں۔ تب تک حزب اللہ کے ہتھیاروں پر بات ممکن نہیں۔‘
بیروت میں ایک رہائشی عمارت میں دیا گیا یہ انٹرویو حزب اللہ اور اس کے اہم علاقائی سرپرست ایران کے درمیان ہم آہنگی کی ایک نادر جھلک پیش کرتا ہے۔
صفا نے کہا، ’حزب اللہ اور ایران ایک جسم میں دو روحیں ہیں۔ ایران کے بغیر کوئی حزب اللہ نہیں، اور حزب اللہ کے بغیر کوئی ایران نہیں،‘ اور اس تعلق کو ’مذہبی، قانونی اور نظریاتی‘ قرار دیا۔
حزب اللہ، جو ایک شیعہ مسلم سیاسی اور عسکری گروپ ہے، اسرائیل کے وجود کے حق کی مخالفت کرتا ہے اور امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور کئی دیگر ممالک اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔
اس گروپ نے مارچ کے اوائل میں اسرائیل پر راکٹ داغ کر تازہ تنازع میں شمولیت اختیار کی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر کے قتل اور نومبر 2024 میں آخری جنگ کے بعد سے لبنان پر تقریباً روزانہ ہونے والے اسرائیلی حملوں کا جواب دے رہا ہے۔
اسرائیل نے شدید فضائی حملوں اور جنوبی لبنان میں ایک اور زمینی کارروائی سے جواب دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس کی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔
جب یہ پوچھا گیا کہ آیا حزب اللہ لبنان کے عوام کے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے یا ایران کے، تو صفا نے کہا کہ ’یقیناً حزب اللہ لبنانی مفادات کو دیکھ رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حمایت، بشمول جنگ بندی کے لیے دباؤ، موجودہ تنازع میں لبنان کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہے۔ تاہم بہت سے لبنانی جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن سے بی بی سی نے حالیہ رپورٹنگ کے دوران بات کی کہتے ہیں کہ وہ گروپ کو غیر مسلح دیکھنا چاہتے ہیں اور ملک کو تنازع میں گھسیٹنے کا ذمہ دار اسی کو ٹھہراتے ہیں۔
اور چونکہ حزب اللہ اسلحہ چھوڑنے سے انکار کر رہی ہے اور وسیع تر شرائط پر اصرار کر رہی ہے، جبکہ اسرائیل اپنے سکیورٹی مطالبات برقرار رکھے ہوئے ہے، اس لیے کوئی بھی جنگ بندی ممکن ہے کہ ایک طویل تر تنازع میں محض ایک وقفہ ثابت ہو۔