آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کرم میں بنکر مسمار کرنے کا عمل شروع، چیف جسٹس کو لاپتہ افراد کے مسئلے پر تشویش

چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے مسنگ پرسنز کے ایشو نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ادھر ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز نے مخالف گروہوں کے بنکرز مسمار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کے لیے 31 جنوری کی ڈیڈلائن دی ہے۔ ان کی جماعت تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن نہ بنایا گیا تو مذاکرات کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
  • نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ طالبان نے خواتین کو افغان معاشرے کے ہر پہلو سے حذف کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ خواتین کو 'انسان نہیں سمجھتے۔'
  • امریکی شہر لاس اینجلس میں آتشزدگی سے ہلاکتوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے لیکن کم از کم 13 افراد لاپتہ ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور تیز ہواؤں کے چلنے سے آگ پھیل سکتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. لاس اینجلس میں آتشزدگی: 16 افراد ہلاک، ڈیڑھ لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل مزید ڈیڑھ لاکھ کو وارننگ جاری

    امریکی ریاست لاس اینجلس کے جنگلات میں دو مقامات ہر لگنے والی دو سب سے بڑی آگ پر قابو نہ پانے کی وجہ سے 16 افراد ہلاک اور 13 لاپتہ ہیں۔

    فائر فائٹرز ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر میں دو دیگر مقامات پر جنگل کی آگ پر قریباً قابو پا چکے ہیں۔

    شہر کی تاریخ کے سب سے تباہ کن جنگل کی آگ کے بعد جلی ہوئی عمارتوں کے ملبے کی چھان بین کی جا رہی ہیں۔ رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آگ سے آلودہ ہونے کی وجہ سے ساحلوں پر پانی سے دور رہیں۔

    پالیساڈیز میں لگنے والی سب سے بڑی آگ راتوں رات 1000 ایکڑ تک بڑھ گئی، حالانکہ فائر فائٹرز نے اس پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔

    آگ مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے جس سے برینٹ ووڈ کے پڑوس کو خطرہ لاحق ہے، جہاں گیٹی سینٹر واقع ہے، جو ایک عالمی شہرت یافتہ آرٹ میوزیم ہے جسے اب خالی کرا لیا گیا ہے۔ تقریبا 3700 فائر فائٹرز موقع پر موجود ہیں۔

    لاس اینجلس کی قریبی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے طالب علم حکام کی جانب سے تازہ ترین معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔

    ایٹن آتشزدگی میں آٹھ اور پالیساڈس آتشزدگی میں مزید تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مزید 13 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    مقامی حکام کے مطابق لاس اینجلس کاؤنٹی میں ہفتے تک ایک لاکھ 53 ہزار سے زائد افراد کو انخلا کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ مزید ایک لاکھ 66 ہزار افراد کو انخلا کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

    آتشزدگی کے نتیجے میں 12 ہزار سے زائد املاک تباہ ہو چکی ہیں۔ املاک سے مراد گھر، عمارتیں، شیڈ، موبائل گھر اور کاریں ہیں۔

    ایٹن آتشزدگی سے 7,000 سے زائد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ پالیساڈس میں لگنے والی آگ نے کم از کم 426 گھروں سمیت تقریبا 5300 عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    اسی بارے میں

    'آگ پر قابو پانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں'

    واضح رہے کہ امریکہ میں آتشزدگی سے متاثرہ علاقوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور آگ سے متاثرہ علاقوں میں رات بھر سخت کرفیو نافذ ہے۔

    جنگلات کی سب سے بڑی آگ، پالیساڈس مشرق کی طرف پھیل رہی ہے ، جس کی وجہ سے برینٹ ووڈ کے آپس پاس کے علاقوں کے لیے انخلا کے نئے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 16 ہے لیکن کم از کم 13 دیگر کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    سنیچر کے روز انخلا زون میں توسیع کی گئی تھی اور آنے والے دنوں میں تیز ہواؤں کی پیش گوئی ممکنہ طور پر باقی چار مقامات پر جنگل کی آگ کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔

    صحت عامہ کی ایک بڑی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے، کچھ علاقوں میں پانی آلودہ ہے اور لوگوں کو راکھ سے آلودہ ہونے کی وجہ سے سمندر میں تیراکی نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

    میکسیکو نے امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے فائر فائٹرز بھیجے ہیں جبکہ مقامی حکام امریکہ بھر سے مزید امداد کا مسودہ تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ پر مکمل طور پر قابو پانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

    آگ لگنے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک اہم تحقیقات جاری ہیں جس میں آتش زنی کے امکانات بھی شامل ہیں۔

    ایل اے کاؤنٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایٹن میں لگنے والی آگ اب یہ 14,000 ایکڑ سے زیادہ ہے اور اس کے 15 فیصد حصے پر قابو پایا گیا ہے۔

    لاس اینجلس کاؤنٹی کے فائر چیف انتھونی مارون نے بھی آنے والے دنوں میں موسم کی پیش گوئی کے بارے میں کہا کہ بدھ تک 'موسم کی صورتحال آگ کے پھیلاؤ کو سنگین' کر سکتی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ اگلے کچھ دنوں تک درمیانے سے تیز سینٹا اینا ہوائیں چلیں گی۔ یادرہے کہ یہ ہوائیں لاس اینجلس میں ایک انوکھا موسمی مظہر ہیں جو اندرون ملک سے ساحل کی طرف تیز اور تیز مشرقی یا شمال مشرقی ہوائیں لاتی ہیں۔

    یہ خشک ہوائیں نہ صرف جنگل کی آگ کی نشوونما کے لیے حالات پیدا کرتی ہیں بلکہ وہ اس کے بعد تباہی کے پیمانے کے لیے بھی ذمہ دار ہوسکتی ہیں۔

  2. متحدہ عرب امارات کے صدر اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جعلی تصاویر، ویڈیوز اپلوڈ کرنے پر تین افراد گرفتار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے متحدہ عرب امارت (یو اے ای) کے صدر محمد بن زايد آل نہيان اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے ذریعے جعلی تصاویر اور ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر پھیلانے والے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے ابتدائی طور پر 20 ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جن کے ذریعے یہ تصاویر اور ویڈیوز پھیلائی گئیں۔

    ایف ائی اے ہیڈ کوارٹرز کے حکم کے مطابق اس حوالے سے تحقیقات کا دائرہ کار بھی وسیع کر کے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

    ایف آئی اے کے فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور لاہور میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹرز جے آئی ٹی میں شامل ہیں، جے آئی ٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز کی سربراہی میں بنائی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق ایف آئی اے نے تحقیقات ’سورس رپورٹ‘ کے بعد شروع کیں۔ جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ان ہی کے اکاؤنٹس سے فیک تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئیں۔

    واضح رہے کہ 7 جنوری 2025 سے سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر متعدد صارفین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے درمیان ملاقات کی مختلف ویڈیوز شیئر کی تھیں، تاہم ان میں سے متعدد ویڈیوز جعلی تھیں اور اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی تھیں۔

  3. خیبرپختونخوا: ضلع کرک میں تیز رفتار ٹرالر گاڑیوں پر چڑھنے سے نو افراد ہلاک، متعدد زخمی, محمد زبیر خان، صحافی

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں انڈس ہائے وے پر ایک کنٹینر مبینہ طور پر بریک فیل ہو جانے کے باعث دیگر گاڑیوں پر چڑھ گیا۔ اس حادثے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور20 کے قریب لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک تین سالہ بچی بھی شامل ہے۔

    ریسکیو 1122 کرک نے بھی واقعے میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے تھے جنھوں نے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا مگر نو افراد ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ گئے تھے جبکہ باقی زخمی ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق کنٹنیر بریک فیل ہونے کی وجہ انتہائی مصروف چوک میں دوسری گاڑیوں پر چڑھ گیا تھا۔ اس کنٹینر کی زد میں ایک مسافر گاڑی ہائی ایس، چھ رکشہ، کچھ موٹر سائیکل اور چار موٹر کاریں شامل آ گئی تھیں۔

    موقع پر موجود عینی شاہد ممتاز خان کے مطابق وہ اپنی دوکان میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک لوگوں کو دوڑتے اور چیختے دیکھا تو انھیں علم ہوا کہ کنٹنیر کے بریک فیل ہوچکے ہیں۔

    عینی شاہد کے مطابق کنٹنیر ڈرائیور کے قابو میں نہیں تھا اور اس کے چند سیکنڈ بعد ہی کنٹنیر قریب ہی کھڑے رکشہ اور پھر سامنے سے آنے والی مسافر ہائی ایس پر چڑھ گئی۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق یہ ایک خوفناک حادثہ تھا۔ امدادی ٹیموں کو ریسکیو آپریشن مکمل کرنے میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ لگا جس کے بعد روڈ کو ٹریفک کے لیے بحال لیا گیا تھا۔

    واقعے میں کنٹینر کا ڈرائیور بھی زخمی ہو گیا ہے تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق کنٹنیر دیگر گاڑیوں پر چڑھنے کے بعد الٹا ہوگیا تھا بصورت دیگر اس سے بھی زیادہ نقصان کا خدشہ تھا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے چھ کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ تین کی شناخت ابھی تک نہ ہو سکی۔ ریسکیو حکام کے مطابق 13 لوگ ہسپتال میں داخل ہیں جبکہ باقیوں کو ابتدائی طبی معائنہ اور علاج معالجہ کے بعد واپس بھیج دیا گیا ہے۔

  4. عمران خان نے نو مئی کے آٹھ مقدمات میں ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے نو مئی کے آٹھ مقدمات میں ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نو مئی سے متعلق جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت دیگر مقدمات میں درخواست ضمانت اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی وساطت سے دائر کی ہیں۔

    درخواست میں عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ ’نو مئی والے دن اسلام آباد میں نیب کی تحویل میں تھا۔ مجھے سیاسی انتقام کے لیے سازش کا الزام لگا کر مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔‘

    درخواست کےمتن کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ’میں دو سال سے مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں اور میرے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘

    درخواست میں عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ عدالت آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور کر کے ان کی رہائی کا حکم دے۔

    یاد رہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کی ضمانت کی آٹھ درخواستیں مسترد کردی تھیں۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان پر لاہور میں نو مئی کے کل 12 مقدمات درج ہیں جبکہ ان کی چار مقدمات میں ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں۔

  5. مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم: اسلام آباد میں عالمی سربراہی کانفرنس انعقاد

    دار الحکومت اسلام آباد میں مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم پر عالمی کانفرنس ہو رہی ہے جس میں میں 44 مسلم اور پاکستان کے دوست ممالک کے وزرا، سفیروں سمیت بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے۔

    اس بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس کے موقعے پر 11 تا 12 جنوری 2025 کے موقع پر اسلام آباد کی دو بڑی شاہراہوں سری نگر ہائی وے اور اسلام آباد ایکسپریس وے پر مختلف اوقات میں روٹس لگائے جاہیں گے۔

    اسلام کی انتظامیہ کہنا ہے کہ تعلیمی کانفرنس میں مہمانوں کی آمد اور روانگی کے موقع پر سرینگر ہائے وے اور اسلام آباد ایکسپریس وے پر روٹس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو گی۔

    مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم پر عالمی سربراہی کانفرنس کا انعقاد جنرل سیکرٹری رابطہ عالم اسلامی محمد بن عبدالکریم العیسی کی تجویز پر کیا جا رہا ہے۔

    اس کانفرنس کا موضوع ’مسلم کمیونٹیز میں لڑکیوں کی تعلیم، چیلنجز اور مواقع‘ ہے اور اس کا مقصد دنیا بھر میں مسلم کمیونٹیز میں لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلے میں درپیش چیلنجزسے نمٹنا ہے۔

    انسانی حقوق اور لڑکیوں تعلیم کی کارکن ملالہ یوسفزئی بھی اس کانفرنس میں شرکت کر رہی ہیں۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا ’میں لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں ایک کانفرنس میں دنیا بھر کے مسلم رہنماؤں کے ساتھ شامل ہونے کے لیے پرجوش ہوں۔ اتوار کو، میں تمام لڑکیوں کے سکول جانے کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں بات کروں گی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ان کا موضع بحث یہ بھی ہوگا کہ ’کیوں عالمی رہنماؤں کو افغان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ان کے جرائم کے لیے طالبان کو جوابدہ بنانا چاہیے۔‘

  6. بریکنگ, سزا نہ جرمانہ، ہش منی کیس میں نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ کو ’غیر مشروط رہائی‘ مل گئی

    امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہش منی کیس میں عدالت نے ’غیر مشروط طور پر رہا‘ کر دیا ہے یعنی وہ اپنے اوپر ثابت ہونے والے اس جرم میں نہ تو جیل جائیں گے نہ جرمانہ ادا کریں گے، تاہم جج کے فیصلے کے مطابق ان کا جرم ریکارڈ پر برقرار رہے گا۔

    جمعے کو نیو یارک کی فوجداری عدالت کے جج جسٹس یوان مرشان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ہش منی کیس میں ’غیر مشروط رہا‘ کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ٹرمپ کو جیل میں قید نہیں کیا جائے گا اور نہ ان پر کوئی جرمانہ عائد ہو گا۔ تاہم ان کا جرم برقرار رہے گا۔

    عدالت کے فیصلے کے بعد ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جو مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ صدارت کا عہدہ سنبھالیں گے۔

    30 منٹ تک جاری رہنے والی سماعت صدر ٹرمپ کو تمام 34 الزامات سے غیر مشروط طور ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی سماعت میں پیش ہوئے اور انھوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے گناہ ہیں۔

    بعدازاں انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نیو یارک میں ہش منی کیس میں جج کا کہنا تھا کہ نومنتخب امریکی صدر کو 10 جنوری کو سزا سنائی جائے گی۔

    خیال رہے کہ اس کے 10 روز بعد یعنی 20 جنوری کو ٹرمپ امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    نیو یارک کی فوجداری عدالت کے جج یوان مرشان نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ٹرمپ کو قید کی سزا، پروبیشن یا جرمانے کی سزا نہیں سنائیں گے بلکہ انھیں ’غیر مشروط طور پر رہا کر دیں گے۔‘

    انھوں نے اپنے حکمنامے میں لکھا تھا کہ نو منتخب صدر ذاتی یا ورچوئل حیثیت میں اس سماعت کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    ٹرمپ نے صدارتی الیکشن میں فتح کے ذریعے اپنے خلاف اس کیس کو ختم کروانے کی کوشش کی تھی۔ کیس کو سزا کے مرحلے تک لے جانے پر ان کے وکلا نے جج کے فیصلے پر تنقید کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اسے فوراً ختم کر دیا جائے۔

    اس کیس میں سابقہ پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز کا دعویٰ تھا کہ 2016 میں جب ٹرمپ صدارتی امیدوار تھے تو انھوں نے اپنے وکیل مائیکل کوہن کے ذریعے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر اس شرط پر ادا کیے کہ وہ ٹرمپ سے جنسی تعلق کو ظاہر نہیں کریں گی۔

    نیو یارک کی عدالت میں اس دیوانی مقدمے میں جیوری نے تمام 34 الزامات میں ٹرمپ کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔ جج نے ٹرمپ کو 26 نومبر کو سزا سنانی تھی مگر اسے موخر کیا گیا۔

    گذشتہ جمعے کو ٹرمپ کے ترجمان نے جج مرشان پر تنقید کرتے ہوئے اسے انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔

    خیال رہے کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کیس ان کے صدارتی دور میں خلل کا باعث بن سکتا ہے۔ اس پر جج مرشان نے کہا کہ وہ اس بنیاد پر جیوری کے فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

    جج کے پاس یہ آپشنز تھیں کہ وہ 78 سالہ ٹرمپ کو سزا سنائے جانے کی تاریخ کو 2029 تک موخر کر دیں، جب ٹرمپ کا دوسرا دورِ اقتدار ختم ہوگا یا انھیں ایسی سزا سنائیں جس میں قید نہ ہو۔

  7. کان میں دھماکے کے بعد چار کان کنوں کی لاشوں کو نکالا جا چکا ہے: حکام

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سنجدی کے علاقے میں کوئلہ کان میں پھنسے کان کنوں میں سے اب تک چار کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

    حکام کے مطابق اس علاقے میں 12 کان کن گذشتہ روز یونائیٹڈ کول کمپنی کی کان میں ایک حادثے کے باعث پھنس گئے تھے۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق کان میں گیس بھرجانے کی وجہ سے دھماکے کے نتیجے میں ایسا ہوا۔

    چیف انسپیکٹر آف مائنز بلوچستان عبدالغنی بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ شدید ہونے کے باعث کان کا راستہ بند ہوگیا تھا جس کی وجہ سے کان کے اندر ریسکیو کی سرگرمیاں شروع کرنے میں تاخیر ہوئی۔

    نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان کے عہدیدار عبدالحکیم مجاہد کے مطابق پھنسے ہوئے کان کنوں میں سے 11 کا تعلق خیبر پشتونخوا کے اضلاع شانگلہ اور سوات سے ہے جبکہ ایک کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

    'کان کن زیادہ گہرائی میں پھنس گئے '

    چیف انسپیکٹر مائنز عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ کان میں حادثہ گذشتہ روز شام کو 6 بجے کے قریب پیش آیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد ریسکیو کی کارروائی شروع کی گئی لیکن اس سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ دھماکے کی شدت کی وجہ سے کان کا راستہ بھی بند ہوگیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ صبح کو کان کا راستہ تو کھول دیا گیا لیکن دھماکے کی وجہ سے کان کے اندر ٹرالی کو چلانے والی بجلی کی تاریں جل گئی تھیں جنہیں بحالی اور مرمت میں بھی وقت لگا۔

    ریسکیو کی کارروائی میں کان کنوں کے علاوہ انسپیکٹوریٹ آف مائنز اور پی ڈی ایم اے کی ٹیمیوں کے علاوہ نیشنل فیڈریشن اور دیگر مزدور تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کان کن حصہ لے رہے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریسکیو میر اصغر علی جمالی نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کی ہیوی مشنری بھی جائے وقوعہ تک پہنچائی گئی۔

    ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ظہیر بلوچ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر چار کان کنوں کی لاشوں کو نکالا جاچکا ہے جو کہ کان میں 2800 فٹ گہرائی پر تھیں جبکہ باقی اس سے مزید گہرائی میں ہیں۔

    پاکستان سینٹڑل مائینز لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان نے باقی کان کنوں کی ریسکیو میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کان کنوں کے زندہ بچ جانے کے امکانات کم ہوں گے۔

    بلوچستان کے وزیر معدنیات میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ باقی کان کنوں کو ریسکیو کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ حکومت کان کنوں کے حقوق اور حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

    'سیفٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں '

    جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کان کنی بلوچستان کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

    کوئلے کی کانیں جن اضلاع میں موجود ہیں ان میں کوئٹہ، مستونگ، کچھی، ہرنائی اور دکھی شامل ہیں۔

    مزدور رہنما لالہ سلطان نے بتایا کہ ہزاروں کان کن ان علاقوں میں ہزاروں فٹ گہری کانوں میں کام کرتے ہیں لیکن ان کے سیفٹی کے جدید انتظامات نہیں ہیں۔

    'کوئلہ کانوں کے اندر سے زہریلی گیس کے اخراج اور آکسیجن کی موجود گی کے لیے جو نظام بنایا جاتا ہے نہ صرف اس کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے بلکہ سیفٹی کے جو دیگر ضروری آلات ہیں ان کی دستیابی کو بھی یقینی نہیں بنایا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوئلہ کانوں میں میتھین گیس جمع ہوتی ہے جو کہ معمولی سی چنگاری سے بھڑک اٹھتی ہے جس کے نتیجے میں کانوں میں حادثات رونما ہوتے ہیں۔

    لالہ سلطان نے کوئلہ کانوں میں حادثات کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام کو بھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے نام لیز ہوتی ہے وہ خود کام کرنے کی بجائے انہیں ٹھیکیداروں کے حوالے کرتے ہیں۔

    ' ٹھیکیدار کو پیسہ کمانے کے لیے بس کوئلہ نکالنے سے غرض ہوتی ہے اس لیے وہ سیفٹی کے انتظامات کو یقینی نہیں بناتے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ کانوں میں بارود کا غیر قانونی استعمال بھی کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے کانوں کے بڑے حصے بیٹھ جانے کی وجہ سے کان کنوں کو ریسکیو کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بلوچستان میں ہرسال کوئلہ کانوں میں کان کنوں کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوتی ہے۔

    مزدور رہنما لالہ سلطان نے بتایا کہ سیفٹی کے جدید انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں ہر سال لوگوں کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں 129 کان کن ہلاک ہوئے۔ تاہم چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان عبدالغنی بلوچ نے ہلاکتوں کی تعداد 82 بتائی۔

  8. توشہ خانہ ٹو: بشری بی بی اور ان کے وکلا کی عدم حاضری پرعدالت کا اظہار برہمی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    پانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت سماعت کے دوران مزید ایک گواہ پر جرح مکمل جرح ہو گئی ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ اس مقدمے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

    عدالت نے اس سے قبل اسی مقدمے میں عمران خان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔

    جمعے کو کیس کی سماعت سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔

    کیبنٹ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوارڈینیشن محمد احد پر کی گئی جرح عمران خان کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے کی۔

    سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ طلعت کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا گیا۔

    سماعت کے دوران بشری بی بی اور ان کے وکلا عدالت پیش نہ ہوئے ملزمہ بشری بی بی اور ان کے وکلا کی عدم حاضری پر عدالت نےبرہمی کا اظہار کیا۔

    بشری بی بی کے وکلا کی جانب سے آئندہ سماعت پرگواہ پر جرح مکمل نہ کرنے پر تادیبی کارروائی کی ہدایت کر دی گئی۔

    توشہ خانہ کے دوسرے کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد جرم کی جا چکی ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس کی ابتدائی تحقیقات نیب نے کی تھی اور نیب ترامیم کی روشنی میں یہ کیس ایف آئی اے کو منتقل ہوا تھا۔ ستمبر 2024 میں ایف آئی اے نے تحقیقات کے بعد چالان عدالت میں جمع کروایا تھا۔

    خیال رہے کہ توشہ خانہ کے پہلے کیس میں عدالت عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کر چکی ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کی آئندہ سماعت پر مجموعی طور پر مزید پانچ گواہ طلب کر لیے گئے ہیں جن میں محمد شفقت، قیص،عمر صدیق، محسن اور فہیم کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا۔

    کیس کی سماعت منگل 14 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

  9. بلوچستان کے شہر چمن میں دھماکے میں تین افراد زخمی, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو

    بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ایک بم دھماکے میں کم ازکم تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    چمن میں پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ شہر میں سٹیشن روڈ پر ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل پر نصب کرکے اسے سٹیشن روڈ پر کھڑا کیا گیا تھا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق دھماکہ خیز مواد اس وقت پھٹ گیا جب سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی وہاں سے گزررہی تھی۔

    ڈپٹی کمشنر چمن حبیب الرحمان بنگلزئی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں تین عام شہری معمولی زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن منتقل کیا گیا۔

    ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر محمد علی کاکڑ نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک زخمی کو طبّی امداد کی فراہمی کے بعد فارغ کردیا گیا۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے سے سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نقصان پہنچنے کے علاوہ ایک موٹر سائیکل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    چمن شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال میں اندازاً 120کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ افغانستان سے متصل اس سرحدی شہر کی آبادی پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

    چمن شہر میں ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً بم دھماکوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

  10. لکی مروت میں اٹامک انرجی کمیشن کے مغوی ملازمین کی حکومت سے اپیل, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں اغوا کیے گئے ملازمین کی شدت پسندوں کی تحویل سے ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں مغوی اپیل کر رہے ہیں کہ اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں تاکہ ان کی بازیابی ہو سکے اور طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔

    اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لگ بھگ 10 افراد ایک نا معلوم مقام پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

    اس ویڈیو میں ایک مغوی یہ کہہ رہے ہیں کہ گذشتہ روز جو کارروائی ہوئی ہے اس میں سات افراد رہا کر دیا گیا تھا کیونکہ وہ معذور تھے اور وہ ادویات لے رہے تھے اس لیے ان کو خود سے رہا کر دیا تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستانی حکام نے سات اہلکاروں کو آپریشن میں بازیاب کروانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اس ویڈیو میں مغوی کہہ رہے ہیں کہ آج جمعہ ہے اور 10 تاریخ ہے اب ہم 10 مغوی ان کی تحویل میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ’افسران بالا سے درخواست کرتے ہیں ان اغوا کاروں کے ساتھ زور آزمائی نہ کی جائے نہ ہی چھاپے مارے جائیں یا حملے کیے جائیں۔ اس سے ہمیں جانی نقصان کا خطرہ ہے۔‘

    انھوں نے اپیل کی کہ ان اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں تاکہ تمام دس مغویوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز اغوا کے بعد یہ تیسری ویڈیو ہے جو مسلح شدت پسندوں کے تحویل سے جاری کی گئی ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن آج صبح سویرے دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    گذشتہ روز جو دو ویڈیوز جاری کی گئی تھیں ان میں مغوی کہہ رہے تھے کہ وہ طالبان کی تحویل میں ہیں اور محفوظ مقام پر ہیں۔

    انھوں نے حکام بالا سے اپیل کی تھی کہ اگر ان کے کوئی مطالبات ہیں تو وہ تسلیم کیے جائیں تاکہ تمام مغویوں کی بازیابی ممکن ہو سکے۔

    گذشتہ روز اچانک 8 مغویوں کی بازیابی کی اطلاع موصول ہوئی تھی جن میں تین زخمی حالت میں تھے ان میں دو کو ٹانگوں اور ایک کو چہرے پر گولی لگی تھی۔ اس بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں گولیاں کیسے لگی ہیں۔

    اب اس ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ اغوا کاروں نے خود سے سات مغویوں کو رہا کر دیا تھا کیونکہ ان کی صحت اور معذوری کو مد نظر رکھا گیا تھا۔

    گذشتہ روز زخمی ملازمین کو لکی مروت ہسپتال سے سی ایم ایچ بنوں منتقل کر دیا گیا تھا۔

    آج لکی مروت کے علاقے دلو خیل میں اغوا کے واقعے پر ایک جرگہ منعقد کیا گیا ہے جس میں علاقے میں مکمل امن کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

    رکن صوبائی اسمبلی جوہر محمد خان نے اس جرگے سے خطاب میں کہا ہے کہ پشتونوں کی سرزمین پر تشدد کے واقعات شروع کیے گئے ہیں اور یہ عالمی پالیسی کا حصہ ہے اور صرف خیبر پختونخوا میں سب کچھ ہو رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حیرانگی کی بات ہے کہ لکی مروت کی سرحد پر پنجاب کے علاقے عیسیٰ خیل میں امن ہے اور ادھر لکی مروت میں حالات انتہائی خراب ہیں تو کون عیسی خیل میں کارروائی سے روکتا ہے۔

    جوہر محمد خان نے کہا کہ ہم درخواست کرتے ہیں ہیں کہ فوج کو چاہیے کہ وہ اپنے آئینی کردار تک محدود رہے۔

  11. تین ماہ کے دوران 37 گاڑیاں، 2 کروڑ سے زائد نقدی اور 91 موبائل فونز برآمد ہوئے : اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد پولیس نے کروڑوں روپے کی چوری شدہ گاڑیاں، طلائی زیورات اور موبائل فونز جرائم پیشہ افراد سے برآمد کر کے متاثرہ شہریوں کے حوالے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    جمعے کو ڈئی آئی جی اسلام آباد نے ایک تقریب کے دوران شہریوں کی گاڑیاں، موٹرسائیکل، نقدی طلائی زیورات اور مسروقہ سامان ان کے حوالے کیا۔

    اس موقع پر پریس کانفرنس میں اسلام آباد پولیس کے حکام نے تین ماہ کے دوران کی جانے والی کارروائیوں تفیصلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ’جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاﺅن کے دوران 37 گاڑیاں، 159موٹر سائیکلز ،02 کروڑ سے زائد نقدی ،16 لاکھ روپے سے زائد کے طلائی زیورات اور 91 موبائل فونز سمیت لاکھوں روپے کا مال مسروقہ اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد کیا گیا۔‘

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کے سپیئر پارٹس، اور منشیات کی بڑی تعداد بھی برآمد کی گئی ہے۔

  12. پاڑہ چنار کے مکین اشیائے ضروریہ کے منتظر مگر سامان کے 50 ٹرک راستے سے ہی واپس کیوں لوٹ گئے, زبیر خان، صحافی

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے پاڑہ چنار کے لیے امدادی سامان لے جانے والا تقریباً پچاس گاڑیوں پر مشتمل قافلہ جوبائی پاس ٹل پر کھڑا تھا آج وہاں سے نکل ہنگو اور کوہاٹ چلا گیا ہے۔

    پاڑہ چنار کے حلقے سے منتخب ممبر اسمبلی علی ہادی کے مطابق جمعے کے روز ٹرانسپٹورز نے انھیں بتایا کہ ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں جس بنا پرہم قافلہ لے پاڑہ چنارکر نہیں جا سکتے ہیں۔

    علی ہادی کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ٹرانسپورٹرز کو تسلی دی جارہی ہے کہ اس کانوائے کی مکمل حفاظت کی جائے گی اور ان پر کوئی بھی آنچ نہیں آئے گی۔ جس کے بعد ممکنہ طور پر اگلے دو دن کے بعد میں ان کا قافلہ پاڑہ چنار جا سکتا ہے۔‘

    علی ہادی کے مطابق پہلے ہی کوئی بھی ٹرانسپورٹر پاڑہ چنار کے تاجروں کا مال لے کر نہیں جارہا تھا۔ جس وجہ سے میں خود ممبرصوبائی اسمبلی ہونے کے باوجود پشاور کے مال کے اڈوں پر گیا اور وہاں پر نہ صرف ان کو یقین دہانی کروائی بلکہ ان کو معمول سے زیادہ کرایہ بھی ادا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز تیار ہوئے تھے اور دو دن پہلے قافلہ گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں مندوری میں دھرنا جاری ہے۔

    ’ اپنے اس مطالبے کے پورا ہونے تک وہ دھرنا ختم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ حکومت ان لوگوں سے بھی بات چیت کررہی ہے کہ راستے میں رکاوٹیں ختم ہوں تاکہ قافلہ چل سکے۔‘

    ’بنکرز ختم کیے جائیں اور اسلحہ واپس لیا جائے اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا‘

    بگن کے تاجر رہنما محمد شاہین کے مطابق سب حکومت والے یہ کہہ رہے ہیں کہ روڈ کھول دیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ ہمارا مطالبہ بہت سادہ ہے اور سیدھا ہے کہ بگن کے ساتھ کی جانے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے۔ متاثرین کو زر تلافی دی جائے اور حملہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔‘

    محمد شاہین کا کہنا تھا کہ ہمارے احتجاج کو 21 روز ہوچکے ہیں۔ مگر ابھی تک حکومت نے ہمارے مطالبات کو حل کرنے پر زور نہیں دیا ہے۔

    جرگہ ممبر اور گذشتہ دو روز مذاکرات کے بعد قافلے کو گزرنے کی اجازت دینے والے بگن کے مشر حاجی کریم کا کہنا تھا کہ امن معاہدہ ہوچکا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اب اس امن معاہدے پر مکمل عمل در آمد ہو۔

    انھوں نے کہا کہ بنکرز ختم کیے جائیں اور اسلحہ واپس لیا جائے اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ اب جب امن ہوگا تو پھر راستے محفوظ ہوں گے اور سب کچھ ہوگا اور اگر امن نہیں ہوگا تو پھر حالات کا تبدیل ہونا مختلف ہے۔

    پاڑہ چنار انجمن تاجران کے صدر نذیر احمد کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا کہ مال تیار کرو اور ٹرکوں کا انتظام کر ہم نے کردیا۔

    ’کئی گنا زیادہ کرائے پر ٹرک حاصل کیے۔ ٹرک کھڑے ہیں تو ان کو روزانہ دیہاڑ بھی ادا کررہے ہیں جو کہ چودہ ہزار روپیہ ہے اس کے باوجود ہمیں نہیں پتا کہ کانوائے کب چلے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ تاجر اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے نقصان برداشت کررہے ہیں۔ پاڑہ چنار میں اس سے پہلے جو کانوائے گیا تھا اس میں ضرورت کی اشیا بہت کم تھیں۔ پاڑہ چنار اور اردگرد کے علاقوں میں اس وقت پیڑول، ڈیزل، گھی، آٹا، دالیں، لکڑی، سلنڈرز اور ادویات کی بے انتہا ضرورت ہے۔

    ایک اور ہول سیل ڈیلر عباد شمس کا کہنا تھا کہ ’کئی دونوں سے کوہاٹ سے ٹل اور ٹل سے کوہاٹ گھوم پھر رہے ہیں۔ میرا دو ٹرکوں پر مال ہے جس میں کچھ دالیں اور آٹا ہے۔ اس وقت تاخیر کی وجہ سے اس کی قیمت خرید ہی بڑھتی جارہی ہے۔ اگر حساب کتاب کریں تو ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات ملا کر ان اشیا کی قیمت خرید اصل قیمت خرید سے بھی دوگنا ہوچکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پاڑہ چنار میں تو غریب لوگ بستے ہیں اب وہ لوگ پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں وہ کس طرح اتنی مہنگی اشیا خردیں گئیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر ہماری تو بس ہوگئی ہے۔

    بی بی سی نے وزیر اعلیٰ کے معاون بیرسٹر سیف، کمشنر کوہاٹ اور ڈپٹی کمشنر کرم سے رابطہ کیا مگر جواب نہیں ملا۔

  13. لکی مروت:جوہری توانائی کے منصوبے پر کام کرنے والے مغوی ملازمین کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں جوہری توانائی کے ایک منصوبے پر کام کرنے والے باقی ملازمین کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ اس واقعہ کا مقدمہ نا معلوم شر پسندوں کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

    بنوں ریجن کے پولیس افسر عمران شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ آج صبح سویرے ان ملازمین کی بازیابی کے لیے دوبارہ آپریشن شروع کردیا گیا جس میں تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کل رات آٹھ ملازمین کو بازیاب کر لیا گیا تھا اور اب باقی نو کی بازیابی کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت کے علاقے قبول خیل میں مسلح افراد کی جانب سے اغوا کیے جانے والے اٹامک انرجی کمیشن کے 16 ملازمین میں سے آٹھ کو بازیاب کروا لیا گیا تھا جبکہ دیگر افراد کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز کا علاقے میں آپریشن جاری ہے۔

    لکی مروت میں جوہری توانائی میں کام کرنے والے ان ملازمین کو گزشتہ روز اس وقت نامعلوم افراد نے گاڑی سے اتار کر اغوا کر لیا تھا جب یہ ڈیوٹی کے لیے قبول خیل فیکٹری جا رہے تھے۔

    لکی مروت پولیس کے مطابق بازیاب کروائے گئے آٹھ افراد میں سے تین افراد زخمی ہیں جنھیں سول ہسپتال لکی مروت منتقل کر دیا گیا ہےمغویوں کا تعلق لکی مروت اور قریبی علاقوں سے بتایا گیا ہے۔

    پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اغوا کی یہ واردات کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ٹیپو گل گروپ کی ہو سکتی ہے۔

    اس حوالے سے جمعے کے روز پولیس افسر عمران شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ملازمین کی بحفاظت بازیابی کے لیے آپریشن جاری ہے۔

    لکی مروت میں آج اس بارے میں ایک جرگہ بلایا گیا ہے جس میں مقررین نے لکی میں امن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ مقررین نے کہا ہے کہ منتخب اراکین کی ایک کمیٹی قائم جائے تاکہ وزیر اعلی سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات سے انھیں آگاہ کیا جا سکے۔

    سکول گراؤنڈ دلوخیل میں ابا شہدخیل قومی جرگہ میں علاقے کے عمائدین اور منتخب اراکین شریک ہیں۔ان میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے جوہر محمد سابق ایم این اے کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر امیر اللہ مروت اور دیگر جماعتوں کے رہنما شریک ہیں۔

  14. بلوچستان: کوئلے کی کان میں پھنس جانے والے کان کنوں کو نکالنے کا ریسکیو آپریشن جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سنجدی کے علاقے میں ایک کوئلے کی کان میں حادثے میں پھنس جانے والے 12 کانکنوں کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کی ریسکیو ٹیم کے مطابق رات بھر سے امدادی ٹیمیں کانکنوں کو بحفاظت نکالنے میں مصروف ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے بیان میں کہا ہے کہ حاجی امیر مائنز میں پھنسے کان کنوں کو نکالنے کے لئے کان میں سامنے سے ملبہ ہٹا لیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعرات کی شام کوئٹہ کے قریب سنجدی کے علاقے میں ایک کوئلے کی کان میں حادثے کے باعث 12کان کن پھنس گئے تھے اور حکام کے مطابق حادثہ کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ دھماکہ شدید ہونے کی وجہ سے کان کا راستہ مکمل بند ہو گیا تھا۔

    چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان عبدالغنی بلوچ نے بتایا تھا کہ یہ حادثہ شام کو چھ بجے کے قریب پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجدی میں یہ 12کان کن چار ہزار فٹ گہرائی میں کام کر رہے تھے۔

    حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر امدادی سامان اور ایمولینسز بھی موجود ہیں۔ داخلے کے مقام سے کان تک کا ملبہ کامیابی کے ساتھ صاف کیا گیا ہے اور ملبہ ہٹانے کے بعد کان میں آگے بڑھنے اور ریسکیو آپریشن کو آگے بڑھانے کے لیے کوششوں کومزید تیز کردیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق کان کے داخلی راستے سے ملبہ ہٹانے کے بعد کافی حد تک گیس کا اخراج ہوگیا ہے۔

    ڈائریکٹرریسکیو پی ڈی ایم اے اصغر جمالی نے کہا ہے کہ ٹیموں کو کان میں بھیج دیا ہے اور جلد اندر پھنسے کانکنوں کو نکال لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ سنجدی کوئٹہ شہر سے جنوب مغرب میں اندازاً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس علاقے میں کوئلہ کی کانیں بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں سینکڑوں کان کن مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔

    سنجدی میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں کان کن ہلاک ہوئے ہیں۔

    گذشتہ سال جون کے مہینے میں سنجدی میں کوئلہ کان کے حادثے میں 11کان کن ہلاک ہوئے تھے جبکہ اگست 2018 میں 19 کان کن زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

  15. لاس اینجلس میں جنگلات کی آگ سے کم از کم 10 افراد ہلاک، تیز ہواؤں سے آگ بھڑکنے کے خدشات برقرار

    کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس اور اس کے ملحقہ علاقوں میں منگل کی صبح سے جنگلات میں مختلف مقامات پر لگنے والی آگ نے اب تک 10 جانیں لے لی ہیں۔ حکام کے مطابق اس تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں کے باعث آگ کے شعلے مزید بھڑک سکتے ہیں۔

    لاس اینجلس کے کنٹری شیرف بابرٹ لونا کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث بہت سے مقامات تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس کے باعث اموات کی تعداد میں مزید اضافہ سامنے آ سکتا ہے۔

    کیلیفورنیا کے فائر چیف ڈیوڈ ایکونا نے بی بی بی سی کو بتایا ہے کہ لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ کو جان بوجھ کر لگانے کا تاحال کوئی ثبوت نہیں ہے۔

    بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے فائر چیف ڈیوڈ ایکونا نے بتایا کہ ابھی تحقیقات ہو رہی ہیں تاہم تاحال ان کے پاس آگ جان بوجھ کر لگائے جانے سے متعلق ’کوئی حتمی ثبوت‘ نہیں۔

    فائر چیف ڈیوڈ ایکونا نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ کوئی حتمی اعداد و شمار تو نہیں لیکن محتاط اندازے کے مطابق 10,000 سے زیادہ عمارتوں کے تباہ ہونے کا امکان ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں تیز ہوائیں اس علاقے میں مزید تباہی کا باعث بن سکتی ہیں۔

  16. جن ملزمان کے مقدمے خصوصی عدالتوں میں چل رہے ہیں ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں: ایڈیشنل اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ تھی تاہم جائے وقوعہ پر موجود 105 افراد کو شواہد کی بنیاد پر ہی حراست میں لیا گیا جن کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو مزید بتایا کہ جن 105 ملزمان کو خصوصی عدالتوں میں لے جایا گیا ان کی جائے وقوعہ پر موجودگی کے ٹھوس شواہد ہیں۔

    فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے مقدمے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے کی جس میں وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل آج بھی جاری رکھے۔

    دوران سماعت جسٹس مندوخیل نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ خصوصی عدالتوں میں ٹرائل کے طریقہ کار پر عدالت کو مطمئن کیا جائے۔

    دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا کہ جو آفیسر ٹرائل چلاتا ہے وہ کورٹ میں خود فیصلہ نہیں سناتا، ٹرائل چلانے والا افسر دوسرے بڑے افسر کو کیس بھیجتا ہے اور وہ فیصلہ سناتا ہے تو جس افسر نے ٹرائل سنا ہی نہیں وہ کیسے فیصلہ دیتا ہوگا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ انھیں 34 سال اس شعبے میں ہو گئے ہیں مگر پھر بھی وہ خود کو مکمل نہیں سمجھتے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا اس آرمی افسر کو اتنا تجربہ اور عبور ہوتا ہے کہ سزائے موت تک سنا دی جاتی ہے۔‘

    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ آرمی ایکٹ خصوصی قانون ہے اور سپیشل قوانین کے شواہد اور ٹرائل کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ ’عام تاثر ہے کہ خصوصی عدالت میں ٹرائل صرف سزا دینے کی حد تک ہوتا ہے، مناسب ہوتا کہ آپ آگاہ کر دیتے کہ خصوصی عدالتوں میں ٹرائل کن مراحل سے گزرتا ہے۔‘

    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ’وہ بلوچستان ہائی کورٹ میں کورٹ مارشل کے خلاف مقدمات سنتے آئے ہیں جس میں مرضی کا وکیل کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے۔ خصوصی عدالتوں کا ٹرائل بھی عام عدالت جیسا ہی ہوتا ہے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اکتوبر 2023 میں عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہ چلانے سے متعلق فیصلے میں کہا تھا کہ ایسے تمام افراد کے خلاف مقدمات عام فوجداری عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ 13 دسمبر 2024 کو پاکستان کی عدالت عظمی نے فوجی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں سے مزید 85 ملزمان کے مقدمات کے فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دی تھی۔

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں نے نو مئی کو تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث مزید 60 ملزمان پر جرم ثابت ہونے کے بعد انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنا دی ہیں۔

    عام شہری اور فوجی دونوں کو انصاف دینے بیٹھے ہوئے ہیں: جسٹس جمال مندوخیل

    دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ فیصلے کے خلاف اپیل میں صرف بد نیتی اور دائرہ احتیار دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہم عام شہری اور فوجی دونوں کو انصاف دینے بیٹھے ہوئے ہیں۔ فوجی افسران کوبنیادی حقوق اورانصاف ملتا ہے یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔

    جمعے کے روز آئینی بینچ میں موجود جسٹس مسرت ہلالی نے دوران سماعت کہا کہ اگر پاکستان کے علاوہ کہیں ملٹری ٹرائل ہوتا ہے تو کیا کوئی جج ہوتا ہے یا کوئی سپاہی جو ٹرائل کرتا ہے، دنیا بھر میں کورٹ مارشل میں آفیسر کے ساتھ ایڈوکیٹ جنرل ہوتا ہے۔

    خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو کہا کہ قانون میں طریقہ کار بتایا گیا ہے۔ ’خیبرپختونخوا میں یہ صورتحال ہے کہ فوجی پر حملہ ہوتا ہے اور حملہ کرنے والا اگر زندہ پکڑا جائے تو اس کا ٹرائل خصوصی کورٹ میں ہوتا ہے۔¬

    جسٹس مسرت ہلالی نے دوران سماعت کہا کہ جہاز ہائی جیک کرنے کا ایک واقعہ ہوا تھا۔ ’اس جہاز میں ایک جرنیل سوار تھا اور اس ایک بات پر ملک میں مارشل لا لگ گیا تھا۔‘

    خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ ہائی جیکنگ آرمی ایکٹ کا حصہ نہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آج آپکی اکثریت ہے کل کو کسی اور کی ہو گی وہ ہائی جیکنگ کو بھی خصوصی ٹرائل میں ڈال دیں پھر کیا ہو گا۔

    خصوصی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث پیر کو بھی دلائل جاری رکھیں گے۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق اپیل کا پس منظر

    نو مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور فوجی تنصیبات سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے تھے۔

    نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق پارلیمان نے قرارداد منظور کی تھی جس کے بعد وفاقی حکومت نے ان افراد کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی منظوری دی تھی۔

    اکتوبر 2023 میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے عام شہریوں کے خلاف مقدمات سے متعلق آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

    اس فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت، وزارتِ دفاع، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی تھیں اور چھ ججوں کے بینچ نے 13 دسمبر 2023 کو یہ فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کی تشکیل کے بعد جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے رواں ماہ معاملے کی سماعت کے بعد فوجی عدالتوں کو مقدمات کے فیصلے سنانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلے سپریم کورٹ میں شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے حوالے سے زیر التوا مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوں گے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ جن ملزمان کو سزاؤں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے اور جن ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا انھیں سزا سنا کر جیلوں میں منتقل کیا جائے۔

  17. جس دن فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، اُس دن کا اعلامیہ سرپرائز ہو گا: شیر افضل مروت

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات جلد ہوں گے اور جس دن فریقین مذاکرت کی میز پر دوبارہ آئیں گے اس دن کا اعلامیہ سرپرائز ہو گا۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے حوالے سے اینکر کے سوالات کے جواب میں شیر افضل مروت نے کہا کہ جلد ہی دونوں کے درمیان پھر بیٹھک ہو گی اور اُن کے سیشنز زیادہ نہیں ہوں گے اور اُن کے نتائج بھی جلد قوم کے سامنے آئیں گے۔‘

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 23 دسمبر 2024 کو ہوا تھا جبکہ دو جنوری کو دوسرے مذاکراتی دور میں پی ٹی آئی کی جانب سے زبانی طور پر عمران خان اور دیگر افراد کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے دو مطالبات پیش کیے گئے تھے۔

    اُسی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں آگے بڑھنے کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، مشاورت اور رہنمائی کے لیے وقت بھی مانگا گیا تاہم ملاقات نہ ہونے کے باعث مذاکرات میں تعطل آ گیا تھا۔

    جمعرات کے روز ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ دونوں یعنی پی ٹی آئی اور حکومت مصالحت کے عمل میں لچک دکھا کر کچھ نہ کچھ باتیں مان جائیں گے اور جس دن فریقین میز پر بیٹھیں گے اس دن کا اعلامیہ سرپرائز ہو گا۔‘

    اینکر شاہزیب نے پوچھا کہ ’کیا یہ آپ کی رائے ہے یا آپ ایسا معلومات کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں اور کیا حکومت، اسٹیبلشمنٹ یا اپنی جماعت کی طرف سے فیلنگ آئی؟‘

    ان کے جواب میں شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ ’میں معلومات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ تینوں کی طرف سے یہ فیلنگ ہے میں دیکھ رہا، سن رہا اور سمجھ رہا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ حکومت اور پی ٹی آئی کے پاس چارہ کار کوئی نہیں ماسوائے اس کے کہ تینوں مصالحت سے یہ مسلے مسائل حل کریں۔‘

    انھوں نےیہ دعویٰ بھی کیا کہ مذاکرات کے حوالے سے حکومت کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تحفظات ہیں۔ حکومتی رویے کا عمران خان نے ہرگز بُرا نہیں مانا۔‘

  18. قلعہ سیف اللہ میں لیویز کی کارروائی، تین مبینہ اغوا کار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد اور لیویز فورس کی کارروائی میں تین مبینہ اغوا کار ہلاک ہوئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ سعید احمد دمڑ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اغواکاروں نے ژوب کے علاقے گوال اسماعیل زئی سے دو افراد کو ایک کلینک سے اغو کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مغویوں کی شناخت مسعود خان اور جمعہ رحیم کے ناموں سے ہوئی تھی جو کہ علاقے میں ایک کلینک پر کام کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اغواکاروں نے مغویوں میں سے مسعود خان کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جبکہ جمعہ رحیم کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موسیٰ زئی کے پہاڑی علاقے میں اغوا کاروں کی موجودگی کی اطلاع پر مقامی قبائلی افراد اور لیویز فورس کے اہلکاروں نے جمعرات کو مشترکہ کارروائی کی جس میں فائرنگ سے ایک اغوا کار ہلاک ہوا۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اغوا کاروں نے مغوی جمعہ رحیم کو پہلے ہی چھوڑ دیا تھا۔

  19. بلوچستان: کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے سے حادثہ، 12 کان کن کان میں پھنس گئے, محمد کاظم بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سنجدی کے علاقے میں ایک کوئلے کی کان میں حادثے کے باعث 12کان کن پھنس گئے ہیں۔

    حکومتِ بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق حادثہ کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا۔

    چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ یہ حادثہ شام کو چھ بجے کے قریب پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجدی میں یہ 12کان کن چار ہزار فٹ گہرائی میں کام کر رہے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکہ شدید ہونے کی وجہ سے کان کا راستہ مکمل بند ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہیں اور کان میں پھنسے ہوئے کان کنوں کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ کان کا راستہ بند ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے تاہم کان کے راستے کو کھولنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

    درِیں اثناء بلوچستان کے وزیر معدنیات و خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے چیف انسپکٹر مائنز غنی بلوچ کو متاثرہ مقام پر دو مزید ٹیمیں بھیجنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    ایک بیان میں وزیر معدنیات نے کہا کہ مائننگ کے مروجہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر مائن اونر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    اگرچہ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے کان میں پھنسے ہوئے کان کنوں کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن کان کنوں تک پہنچنے میں تاخیر کی وجہ سے ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    سنجدی کوئٹہ شہر سے جنوب مغرب میں اندازاً 40کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس علاقے میں کوئلہ کی کانیں بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں سینکڑوں کان کن مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔

    سنجدی میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں کان کن ہلاک ہوئے ہیں۔

    گذشتہ سال جون کے مہینے میں سنجدی میں کوئلہ کان کے حادثے میں 11کان کن ہلاک ہوئے تھے جبکہ اگست 2018 میں 19 کان کن زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

  20. خضدار کے علاقے زہری میں مسلح افراد کا حملہ: حکومت بلوچستان کا تحقیقات کا حکم, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    حکومت بلوچستان نے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں مسلح افراد کی بڑی تعداد میں آمد اور وہاں املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعہ کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق اس واقعہ کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ایک بیان میں حکومت بلوچستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کے صاف اور شفاف تحقیقات کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ترجمان کے مطابق لوگوں کا تحفظ اور ریاستی رٹ کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    انھوں نے کہا کہ زہری واقعہ پر مقامی انتظامیہ کی جانب سے فوری ردعمل نہ دینے کا نوٹس لیتے ہوئے، محکمہ داخلہ نے سول انتظامیہ کو متحرک کرنے اور کوتاہیوں کے تدارک کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال کی مکمل نگرانی کر رہے ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پورے صوبے میں اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ جلد از جلد اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ 'محکمہ داخلہ نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بلوچستان بھر میں ریاست کی رٹ قائم ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غیر ذمہ داری کو برداشت نہیں کیا جائے گا'۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں واقع زہری ٹاؤن میں 80 کے قریب مسلح افراد نے شہر میں تھانے، نادرا کے دفتر اور ایک نجی بینک کے برانچ کو نذرآتش کرنے کے علاوہ وہاں سے اسلحہ، گاڑیاں اور موٹر سائیکل بھی لے گئے۔

    زہری ٹاؤن میں پیش آنے والے واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔