مالی سال 2025-26: بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ، آٹو موبائل کی صنعت سرفہرست, سارہ حسن، صحافی
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی بڑی صنعتوں کی مجموعی شرح نمو 4.9 فیصد رہی اور اس میں سب سے اہم کردار آٹو موبائل شعبے نے ادا کیا جہاں ترقی کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) یعنی بڑی صنعتوں کی شرح نمو میں کمی دیکھی گئی تھی تاہم مالی سال 2025-26 میں معاشی استحکام کے بعد صنعتی پیداوار میں اضافہ سامنے آیا ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا۔
ادارے کے مطابق صنعتی پیداوار میں اضافے میں آٹو موبائل شعبے کا کردار نمایاں رہا جبکہ گارمنٹس اور پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق صنعتوں کی کارکردگی بھی بہتر رہی۔
وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق آٹو موبائل شعبے میں شرح نمو 55.7 فیصد، ٹرانسپورٹ آلات کی پیداوار میں 42.3 فیصد، فرنیچر کے شعبے میں 22.69 فیصد، کھیلوں کے سامان سمیت دیگر مینوفیکچرنگ صنعتوں میں 16.62 فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں 9.70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، کیمیکلز اور ادویات سازی کی صنعتوں کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی۔
اگرچہ مالی سال 2025-26 کے دوران ایل ایس ایم کی شرح نمو میں اضافہ ہوا تاہم مالی سال کے اختتام پر ترقی کی رفتار کمزور پڑتی ہوئی دکھائی دی۔
جون 2026 میں صنعتی پیداوار میں ماہانہ اور سالانہ دونوں بنیادوں پر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
جون 2026 میں ایل ایس ایم کی شرح نمو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 3.4 فیصد رہی۔
صنعتکاروں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت صنعتوں کے لیے توانائی کی بلند قیمتوں اور زیادہ ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کر رہی تھی تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور امریکہ ایران تنازع نے غیر یقینی کی فضا کو بڑھا دیا ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق اس جنگ کے باعث پاکستان کی مجموعی شرح نمو میں 1.5 فیصد کمی آئی ہے۔