برسوں پرانی خفیہ جنگ اب کھل کر لڑی جا رہی ہے, جیریمی بوین - ایڈیٹر بین الاقوامی امور
جو کچھ ہوا، ایرانی اس کی اہمیت کو کم کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔ سرکاری میڈیا نے چھوٹے ڈرونز کی مزاحیہ تصاویر شائع کی ہیں۔
یہاں کئی سوال جنم لیتے ہیں۔
کیا ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سخت گیر لوگ پیچھے ہٹنا چاہیں گے؟
کیا اسرائیل مزید حملوں کا ارادہ رکھتا ہے؟
یہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی بائیڈن کو اندھیرے میں رکھے بغیر ایران کو جواب دینے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ بائیڈن نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے ایران کے گذشتہ سنیچر والے حملے کا جواب نہ دے۔ برطانیہ اور اسرائیل کے دیگر اتحادیوں نے بھی نیتن یاہو سے تحمل کرنے کو کہا ہے۔
اگر ایسا ہے تو ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ اسرائیل کی جنگی کابینہ میں شامل ان سابق جرنیلوں کے لیے کافی ہو گا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک سخت ردعمل دیکھنا چاہتے ہیں جس سے اسرائیل کے دشمنوں کو اس کی صلاحیت کا اندازہ ہو سکے۔
نیتن یاہو کے الٹرا نیشنلسٹ اتحادیوں نے بھی اسرائیل سے سخت جوابی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک نے کہا کہ اسرائیلیوں کو کسی قسم کی رحم دلی دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
مغربی حکومتوں کی رائے میں خطے کے لیے بہترین آپشن یہ ہے کہ ایران اور اسرائیل اب تحمل کا مظاہرہ کریں۔
اس سب کا آغاز دمشق میں ایرانی سفارتی کمپاؤنڈ پر اسرائیل کے حملے سے ہوا جس میں ایران کے تین جنرلوں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔
اگر یہ اس بحران کا اختتام بھی ہے تو اس بار جو کچھ ہوا وہ غیر معمولی ہے۔ ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کیا ہے اور اسرائیل نے اپنے براہ راست حملے کا جواب دیا ہے۔
ایسا لگ رہا ہے اس خطے میں ایران اور اسرائیل کے مابین جاری پوشیدہ جنگ کے اصول تبدیل ہو گئے ہیں۔
برسوں پرانی خفیہ جنگ اب کھل کر لڑی جا رہی ہے۔



