اسرائیل کا ایران میں میزائل حملہ: ’امریکہ کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی میں ملوث نہیں‘ بلنکن

امریکی وزیرِ خارجہ انتھونی بلنکن نے اٹلی میں ہونے والے جی 7 مُمالک کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی میں ’ملوث نہیں تھا‘ اور وہ کشیدگی میں کمی کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب ایرانی آرمی چیف نے ایرانی میڈیا پر اپنے ایک حالیہ خطاب میں عوام کو یقین دلایا ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔‘

خلاصہ

  • امریکی وزیرِ خارجہ انتھونی بلنکن نے اٹلی میں ہونے والی جی 7 مُمالک کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی میں ’ملوث نہیں۔‘
  • دو امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران پر میزائل داغا ہے۔
  • ایران نے ملک کے کسی بھی حصے میں اسرائیلی میزائل حملے کی تردید کی ہے
  • جمعہ کی صبح سویرے اصفہان شہر کے ارد گرد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایرانی میڈیا نے بتایا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام کو فعال کرنے کے بعد تین ڈرون تباہ کر دیے گئے
  • اصفہان میں ایرانی فضائی اڈہ ہے اور اس صوبے میں کئی فوجی تنصیبات ہیں۔ ابھی تک ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ کس چیز کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تمام جوہری تنصیبات محفوظ ہیں
  • دریں اثنا ٹریکنگ سائٹس سے پتہ چلتا ہے کئی پروازوں کو ایران کی فضائی حدود کے گرد موڑ دیا گیا ہے

لائیو کوریج

  1. برسوں پرانی خفیہ جنگ اب کھل کر لڑی جا رہی ہے, جیریمی بوین - ایڈیٹر بین الاقوامی امور

    جو کچھ ہوا، ایرانی اس کی اہمیت کو کم کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔ سرکاری میڈیا نے چھوٹے ڈرونز کی مزاحیہ تصاویر شائع کی ہیں۔

    یہاں کئی سوال جنم لیتے ہیں۔

    کیا ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سخت گیر لوگ پیچھے ہٹنا چاہیں گے؟

    کیا اسرائیل مزید حملوں کا ارادہ رکھتا ہے؟

    یہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی بائیڈن کو اندھیرے میں رکھے بغیر ایران کو جواب دینے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ بائیڈن نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے ایران کے گذشتہ سنیچر والے حملے کا جواب نہ دے۔ برطانیہ اور اسرائیل کے دیگر اتحادیوں نے بھی نیتن یاہو سے تحمل کرنے کو کہا ہے۔

    اگر ایسا ہے تو ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ اسرائیل کی جنگی کابینہ میں شامل ان سابق جرنیلوں کے لیے کافی ہو گا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک سخت ردعمل دیکھنا چاہتے ہیں جس سے اسرائیل کے دشمنوں کو اس کی صلاحیت کا اندازہ ہو سکے۔

    نیتن یاہو کے الٹرا نیشنلسٹ اتحادیوں نے بھی اسرائیل سے سخت جوابی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک نے کہا کہ اسرائیلیوں کو کسی قسم کی رحم دلی دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    مغربی حکومتوں کی رائے میں خطے کے لیے بہترین آپشن یہ ہے کہ ایران اور اسرائیل اب تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    اس سب کا آغاز دمشق میں ایرانی سفارتی کمپاؤنڈ پر اسرائیل کے حملے سے ہوا جس میں ایران کے تین جنرلوں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔

    اگر یہ اس بحران کا اختتام بھی ہے تو اس بار جو کچھ ہوا وہ غیر معمولی ہے۔ ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کیا ہے اور اسرائیل نے اپنے براہ راست حملے کا جواب دیا ہے۔

    ایسا لگ رہا ہے اس خطے میں ایران اور اسرائیل کے مابین جاری پوشیدہ جنگ کے اصول تبدیل ہو گئے ہیں۔

    برسوں پرانی خفیہ جنگ اب کھل کر لڑی جا رہی ہے۔

  2. اسرائیل نے واشنگٹن کو پیشگی وارننگ دی تھی، امریکی میڈیا

    کچھ امریکی اہلکاروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایران پر حملے کے منصوبے سے آگاہ کیا تھا۔

    این بی سی اور سی این این دونوں نے نامعلوم اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو پیشگی وارننگ دی تھی۔

    وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون دونوں نے ابھی تک اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، جس کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ صرف چند ڈرون تھے جنھیں مار گرایا گیا۔

    ایران نے میزائل حملے کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایک ایرانی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکی میڈیا کی خبریں درست نہیں ہیں۔‘

  3. ’اصفہان میں جوہری تنصیبات مکمل طور پر محفوظ ہیں‘

    Tasnim News Agency

    ،تصویر کا ذریعہTasnim News Agency

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم، جو کہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس کے عنوان کے ساتھ لکھا ہے ’اصفہان میں جوہری تنصیبات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔‘

    فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر کے قریب اپنی گھڑی چیک کرتا ہے۔ اس کے بعد کیمرہ ائیر ڈیفنس بیٹری کی طرح نظر آنے والے ارد گرد کھڑے کئی فوجیوں کو زوم ان کرتا ہے۔

    ورلڈ نیوکلیئر ایسوسی ایشن کے مطابق اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر میں یورینیم کی تبدیلی کی سہولت شامل ہے جہاں یورینیم ہیکسافلوورائیڈ تیار کیا جاتا ہے۔

    اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر چین کی طرف سے فراہم کردہ چار چھوٹے نیوکلیئر ریسرچ ری ایکٹر بھی چلاتا ہے۔

    ایران کا اصرار ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن ہیں اور وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کے کوئی عزائم نہیں ہیں۔ لیکن اسرائیل کا الزام ہے کہ ایران جوہری صلاحیت حاصل کر رہا ہے جسے وہ ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    • اصفہان میں ’کسی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں‘ ایرانی جنرل

      ایران کے سرکاری میڈیا نے صوبہ اصفہان میں فوج کے ایک جنرل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

      ان کا کہنا ہے کہ اصفہان میں جو زوردار آواز سنی گئی وہ مشکوک اشیا پر فضائی دفاعی فائرنگ کی وجہ سے تھی۔‘

    • ایران کی ملک کے کسی بھی حصے میں اسرائیلی میزائل حملے کی تردید

      ایران کے نیشنل سینٹر آف سائبر سپیس کے ترجمان کی جانب سے ایران پر میزائل حملے کی براہ راست تردید کی گئی ہے۔

      حسین دلیرین نے ایکس پر لکھا ’بیرونی سرحدوں سے اصفہان یا ملک کے دیگر کسی حصے پر کوئی فضائی حملہ نہیں ہوا ہے۔‘

      انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے ’کواڈ کاپٹرز (ڈرون) اڑانے کی صرف ایک ناکام کوشش کی تھی اور کواڈ کاپٹروں کو بھی مار گرایا گیا ہے۔‘

      ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اسی طرح کی خبر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے راتوں رات ملک کے کئی علاقوں میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا تھا۔

      اریان کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات سمیت تمام تنصیبات محفوظ ہیں۔

    • اصفہان کے رہائشیوں کی جانب سے فلمائے گئے مناظر

      ،ویڈیو کیپشناصفہان کے رہائشیوں کی جانب سے فلمائے گئے مناظر
    • اایسا لگتا ہے اسرائیلی حملہ سائز اور دائرہ کار میں بہت محدود ہے, فرینک گارڈنر - سیکیورٹی کے نامہ نگار

      اسرائیل نے واضح کیا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح ایران کے ڈرونز اور میزائلوں حملے کا جواب دے گا اور اب ایسا لگتا ہے کہ اس نے ایسا کر دیا ہے۔

      اگر یہ واقعی اسرائیل کے ردعمل کا آغاز اور اختتام ہے تو پھر اس کا سائز اور دائرہ کار بہت محدود دکھائی دیتا ہے۔

      اصفہان میں آج زندگی معمول کے مطابق دکھائی دے رہی ہے۔

      پورے ہفتے اسرائیل کے مغربی اتحادی، خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ اس پر زور دیتے آئے ہیں کہ وہ ایرانی میزائل حملے کا سخت ردعمل نہ دے۔

      اگرچہ یہ ایک ڈرامائی حملہ تھا، لیکن یہ یکم اپریل کو دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر اسرائیل کے فضائی حملے کا بدلہ تھا جس میں دو اعلیٰ جنرلوں سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

      اب اس سے آگے کیا ہوتا ہے اس کا انحصار دو چیزوں پر ہو گا: آیا اسرائیل بس اتنا ہی حملہ کرنا چاہتا تھا اور کیا ایران اب جوابی حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے یا نہیں۔

    • تہران کے مرکزی ہوائی اڈوں پر پروازیں دوبارہ شروع ہو گئیں، ایرانی میڈیا

      ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے اور مہر آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔

      اس سے قبل وسطی صوبے اصفہان میں دھماکوں کی اطلاع کے بعد ایران کے بیشتر حصوں میں پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔

    • چھپ کر وار کرنے کے بجائے دشمن اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں, یولینڈ کنیل ۔ مشرق وسطیٰ کے لیے نامہ نگار

      پورے ہفتے اس بارے میں قیاس آرائیاں جار رہیں کہ اسرائیل کب اور کیسے گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے ایرانی حملے کا جواب دے گاگ اس حملے سے دو دیرینہ دشمن چھپ کر وار کرنے کے بجائے آمنے سامنے آ گئے

      اب ایران کی فارس خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اصفہان شہر میں ایک فوجی اڈے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور ایران اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر رہا ہے۔

      اطلاعات کے مطابق ایران کے کئی شہروں کے لیے پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔

      ایران نے 13 اپریل کو اسرائیل کی جانب 300 سے زیادہ میزائل اور ڈرونز داغے تھے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس کے شامی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

      اسرائیل اپنے مغربی اتحادیوں کی مدد سے ان میں سے بیشتر کو اسرائیلی سرزمین پر پہنچنے سے پہلے ہی گرانے میں کامیاب ہو گیا۔

      اسرائیل نے خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکنے کے لیے جوابی حملہ کرے گا، حالانکہ بین الاقوامی رہنما ااسرائیل کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کر تے رہے ہیں۔

    • اسرائیل اصفہان کو کیوں نشانہ بنانا چاہے گا؟ ’اسرائیلیوں کو آج کے میزائلوں سے زیادہ کل کی جوہری صلاحیت سے خطرہ ہے‘

      اسرائیل اصفہان کو کیوں نشانہ بنانا چاہے گا؟ ’اسرائیلیوں کو آج کے میزائلوں سے زیادہ کل کی جوہری صلاحیت سے خطرہ ہے‘

      سابق امریکی معاون وزیر خارجہ مارک کِمِٹ نے بی بی سی سے اصفہان کی اہمیت کے بارے میں بات کی اور بتایا کہ اسرائیل نے اسے حملے کی جگہ کے طور پر کیوں منتخب کیا ہے۔

      ان کا کہنا ہے کہ تربیت اور تحقیق کے حوالے سے اصفہان بہت حد تک ایرانی جوہری پروگرام کا مرکز ہے۔ لہذا یہ ایک ممکنہ جگہ ہے جسے اسرائیل نشانہ بنایا چاہے گا کیونکہ اسرائیلیوں کو آج کے میزائلوں سے زیادہ کل کی جوہری صلاحیت سے خطرہ ہے۔

      امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس کو بتایا ہے کہ ایک اسرائیلی میزائل نے ایران کو نشانہ بنایا ہے، لیکن اس حملے کے متعلق مزید کوئی معلومات نہیں ہیں۔

    • ایران پر اسرائیلی حملہ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

      اب سے تقریباً دو گھنٹے قبل ہم نے ایران میں دھماکوں کی خبریں سنی تھیں۔ ان دھماکوں کے متعلق اب تک ہم کیا جانتے ہیں:

      • دو امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران پر میزائل داغا ہے۔
      • جمعہ کی صبح سویرے اصفہان شہر کے ارد گرد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایرانی میڈیا نے بتایا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام کو فعال کرنے کے بعد تین ڈرون تباہ کر دیے گئے۔
      • اصفہان میں ایرانی فضائی اڈہ ہے اور اس صوبے میں کئی فوجی تنصیبات ہیں۔ ابھی تک ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ کس چیز کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تمام جوہری تنصیبات محفوظ ہیں۔
      • دریں اثنا ٹریکنگ سائٹس سے پتہ چلتا ہے کئی پروازوں کو ایران کی فضائی حدود کے گرد موڑ دیا گیا ہے۔
      • اسرائیل کی فوج اور پینٹاگون دونوں نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

      کچھ پس منظر

      • ایران پر اسرائیلی حملے کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب ایران نے 13 اپریل کو اسرائیل کی جانب 300 سے زیادہ میزائل اور ڈرونز داغے تھے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس کے شامی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
      • اسرائیل اپنے مغربی اتحادیوں کی مدد سے ان میں سے بیشتر کو اسرائیلی سرزمین پر پہنچنے سے پہلے ہی گرانے میں کامیاب ہو گیا۔
      • اسرائیل نے خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکنے کے لیے جوابی حملہ کرے گا، حالانکہ بین الاقوامی رہنما ااسرائیل کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کر تے رہے ہیں۔
    • بریکنگ, اصفہان کی فضا میں تین ڈرون تباہ کر دیے گئے، ایرانی میڈیا

      REUTERS

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اصفہان کی فضا تقریباً 12:30 پر تین ڈرونز کو آسمان پر دیکھا گیا اور وہ ملک کے فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کے بعد وہ تباہ ہو گئے۔

      قبل ازیں نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی تھی کہ اصفہان کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ’دھماکے‘ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    • اصفہان کے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟

      bbc

      اصفہان، ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً چار گھنٹے کی دوری پر یا 350 کلومیٹر (217 میل) جنوب میں واقع ہے۔

      اصفہان میں ایک بڑا فوجی ہوائی اڈہ اور اس صوبے میں کئی ایرانی جوہری تنصیبات ہیں جن میں نتنز شہر بھی شامل ہے جو کہ ایران کے یورینیم افزودگی کے پروگرام کا مرکز ہے۔

    • ایرانی شہروں کے لیے پروازیں معطل، کسی بھی اسرائیلی حملے کا ’فوری‘ جواب دیا جائے گا: ایران کے وزیر خارجہ کا انتباہ

      سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی شہروں کے لیے پروازیں معطل کر دی گئیں۔

      خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ملک کا سرکاری میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ ایران کے بڑے شہروں بشمول اصفہان اور تہران پر پروازوں کو روک دیا گیا ہے۔

      ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی جوابی کارروائی پر ان کے ملک کا ردعمل ’فوری اور بڑے پیمانے پر‘ ہوگا۔

      ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

      اس ہفتے کے شروع میں انھوں نے کہا کہ سنیچر کے روز ان کے ملک کا اسرائیل پر حملہ (جس میں 300 سے زیادہ ڈرون اور میزائل شامل تھے) ’جائز دفاع کے حق کا استعمال‘ تھا۔

      ایران کی جانب سے یہ حملہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر کیے گئے اُس حملے کے نتیجے میں کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری اسرائیل واضح الفاظ میں قبول تو نہیں کرتا ہے لیکن اس حوالے سے اقوامِ عالم میں عام رائے یہی ہے کہ اس حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔

      دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے میں ایران کے سینیئر کمانڈرز سمیت سات ہلاک ہو گئے تھے۔

    • اصفہان شہر کے قریب دھماکے کی آواز سنی گئی، ایرانی میڈیا

      ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق جمعہ کی صبح ایرانی شہر اصفہان کے شمال مغرب میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

      فارس نے کہا ہے کہ یہ آواز شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریبسنی گئی۔ لیکن انھوں نے ممکنہ وجہ پر کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔

      اصفہان صوبے میں ایک بڑا فضائی اڈہ، ایک بڑا میزائل پروڈکشن کمپلیکس اور متعدد جوہری تنصیبات ہیں۔

      یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب (دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر ’اسرائیلی حملے‘ کے جواب میں) سنیچر کے روز ایران کی طرف سے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے۔

    • بریکنگ, اسرائیلی میزائل نے ایران کو نشانہ بنایا ہے، امریکی حکام

      دو امریکی حکام نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ ایک اسرائیلی میزائل نے ایران کو نشانہ بنایا ہے۔

      ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کا سرکاری میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ کئی شہروں میں پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔

      دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر ’اسرائیلی حملے‘ کے بعد ایران نے گذشتہ سنیچر کی رات اسرائیل پر حملہ کیا اور اس جوابی حملے کے بعد سے ایران ہائی الرٹ پر ہے۔

    • بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید

      امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو دو امریکی حکام نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر میزائل داغا ہے۔

      بی بی سی کی لمحہ لمحہ کوریج اس لائیو پیج میں شئیر کی جا رہی ہے۔