Wednesday, 09 November, 2005, 11:19 GMT 16:19 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پچھلی نشستوں میں ہم نے دیکھا تھا کہ امریکی اور برطانوی انگلش میں گرامر کا اختلاف کہاں کہاں ہے اور امریکی روزّمرہ کس کس جگہ پینترے بدلتا ہے۔
لیکن انگریزی کی ان دونوں صورتوں کا واضح ترین فرق ہجّوں میں ظاہر ہوتا ہے اور سکول کی سطح کا طالبِ علم بھی فوراً اس فرق کو بھانپ لیتا ہے کہ برطانوی
او۔یو۔آر پر ختم ہونے والے الفاظ امریکی انگریزی میں صرف او۔آر پر ختم ہوتے ہیں۔ مثلاً
color = colour
humor = humour
favor = favour
falvor = falvour
اسی طرح آئی۔ایس۔ای پر ختم ہونے والے کُچھ الفاظ امریکی انگریزی میں آئی۔ زیڈ ۔ای پر ختم ہوتے ہیں مثلاً
recognise = recognize
patronise = patronize
تاہم یہ ماننا پڑے گا کہ آج کل برطانوی انگریزی میں بھی زیڈ والے ہجّوں کا چلن بڑھتا جا رہا ہے۔
اگر آپ امریکہ کے ٹیلی وژن پروگرام یا ہالی وُڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں تو آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ امریکی انگریزی اپنے تلفظ کی بُنیاد پر فوراً پہچانی جاتی ہے یعنی بعض لفظوں کے ہجّے تو وہی ہوتے ہیں جو برطانوی انگریزی میں ہیں لیکن ادائیگی میں فرق پڑ جاتا ہے مثلاً گلاس اور کلاس جیسے لفظ امریکی بولی میں گلیَس اور کلَیس بن جاتے ہیں۔ اسی طرح فیکٹری اور لیبارٹری وغیرہ میں ’او‘ کی آواز لمبی ہو جاتی ہے اور یہ الفاظ فیکٹوری اور لیبارَٹوری بن جاتے ہیں۔
’شیڈول‘ جیسا عام لفظ بھی امریکی بولی میں ’سکے جُو ال‘ ہو جاتا ہے۔ لیکن تحریری طور پر تلفّظ کے فرق کو پوری طرح بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کےلیے لوگوں کو باتیں کرتے ہوئے سننا ضروری ہے۔ اگر اصل لوگ میّسر نہ ہوں تو ان کی ریکارڈنگ سُنی جا سکتی ہے۔ کیسٹ پلیئر اور سی ڈی پلیئر اس سلسلے میں آپ کی بہت مدد کر سکتے ہیں۔
برطانوی اور امریکی انگریزی کے فرق پر ہم نے جو چار مضامین پیش کئے ہیں اُن سے یہ تاثر نہیں اُبھرنا چاہیے کہ دُنیا بھر میں انگریزی کی دو ہی اقسام ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ برطانوی اور امریکی ورائٹی کے علاوہ بھی ہمیں انگریزی کی کم از کم چھ مزید شکلیں نظر آتی ہیں یعنی
Australian English
Canadian English
Caribbean English
Indian English
Irish English
New Zealand English
یہ تمام بولیاں اپنے مخصوص تلفّظ، اپنی خاص لفظیات اور معیاری برطانوی انگریزی سے چھوٹے موٹے قواعدی اختلافات کی بُنیاد پر فوراً پہچانی جا سکتی ہیں۔ اِن تمام بولیوں کی تفصیل میں جانا اور معیاری برطانوی یا امریکی انگریزی سے ان کا موازنہ کرنا ہمارے دائرہ کار میں نہیں آتا البتہ انگریزی کی ایک ورائٹی ایسی ہے جسکا ہم سے براہِ راست تعلق ہے، اور وہ ہے انڈین انگلش، یعنی انگریزی کی وہ ورائٹی جو پاک و ہند میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت استعمال کرتی ہے۔
آئندہ کسی نشست میں ہم انڈین انگلش کی خصوصیات پر مفصّل روشنی ڈالیں گے، فی الحال ہم آپکو ایک برطانوی ماہرلسانیات کی رائے سنواتے ہیں جنھوں نے کچھ عرصہ قبل دہلی، بمبئی، کلکتہ، پونے اور چنائی کے سکولوں کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا۔
A different kind of English is spoken in India today…. It is impressive to see how far Indian English has moved from the English spoken in the U.S and the U.K. The most noticeable is the rhythmic tone of speaking that comes from the influence of the mother tongue. Indian English has a greater degree of politeness and effusiveness than English spoken anywhere in the world
(Prof. David Crystal)
پروفیسر ڈیوڈ کرسٹل کا کہنا ہے کہ آج ہندوستان میں ایک مختلف طرح کی انگریزی بولی جا رہی ہے اور ہم یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوتے ہیں کہ انڈین انگلش نے برطانوی اور امریکی زبان سے الگ اپنا ایک ممتاز مقام حاصل کر لیا ہے۔
اِنڈین انگریزی کی سب سے نمایاں خصوصیت وہ خوش آہنگ ترنّم ہے جو اہلِ ہند کو اپنی مادری زبانوں سے ورثے میں ملا ہے۔ انڈین انگلش میں نرمی اور ملائمت کے ساتھ ساتھ جو والہانہ پن اور جوش و خروش پایاجاتاہے وہ دُنیا کی اور کسی انگریزی میں نہیں پایا جاتا۔
پروفیسر کرسٹل کا کہنا ہے کہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے فروغ کی وجہ سے ہندوستان عنقریب انگریزی زبان استعمال کرنے والا دُنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ وہ اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اس وقت برطانیہ اور امریکہ وغیرہ میں تو معیاری انگریزی استعمال ہو رہی ہے جبکہ چین اور جاپان جیسے ملک غیر معیاری انگریزی استعمال کر رہے ہیں لیکن مستقبل میں ان دونوں اِنتہاؤں کے درمیان’ انڈین انگلش ‘ رابطے کے لیے ایک پُل کا کام کرے گی۔