Friday, 19 August, 2005, 10:44 GMT 15:44 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،لاہور
Active voice / Passive voice کےموضوع پر ہمارےگزشتہ دو مضامین پڑھنے کے بعد قارئین نےجو ردِ عمل ظاہر کیا ہے اس کے خاص خاص نکات یہ ہیں:
Direct object / Indirect object کی مزید وضاحت کی جائے اور انھیں پہچاننے کے لیے مشق کرائی جائے۔
Active voice / Passive voice کو اُردو گرامر کے ذریعے سمجھانے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ اس سے اُلجھن بڑھتی ہے۔
ان کا استعمال جِن جِن صورتوں میں جائز ہے، انھیں واضح طور پر
Passive voice بیان کیا جائے۔
ہم کوشش کریں گے کہ آج اس سلسلے کی تیسری اور آخری قسط میں قارئین کو پورے طور پر مطمئن کیا جاسکے۔
تو لیجئے ہم اُردو قواعد کا حوالہ دئیے بغیر اِن اصطلاحات کی وضاحت کرتے ہیں:
Direct object:
The direct object of the verb receives the action of the verb or shows the result of the action. It answers the question WHAT? or WHOM? after the action verb.
یعنی جملے کے فعل کو سامنے رکھتے ہوئے اگر آپ سوال کریں کہ کیا؟ یا کِسکو؟ تو اسکا جو بھی جواب آئے گا وہی آپ کا مفعولِ اول یعنی ڈائرکٹ آبجیکٹ ہو گا۔ مثلاً یہ جملہ دیکھیئے:
I took him with me
اس جملے کے فعل کو سامنے رکھتے ہوئے سوال کیجئے:
Took whom
اور اسکا جواب ہو گا:
him
اور یہی آپکا ڈائرکٹ آبجیکٹ ہے۔
ایک اور جملہ دیکھیئے:
Jameel has finished his book
اب اس فعل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سوال کیجئے:
finished what
جواب ہوگا:
Book
چنانچہ یہی اس جملے کا ڈائرکٹ آبجیکٹ ہے اور اب ہم آتے ہیں ’اِن ڈائرکٹ آبجیکٹ‘ کی طرف۔ انگریزی میں اسکی تعریف یوں متیعن کی جا سکتی ہے:
The indirect object of the verb precedes the direct object and usually tells to whom or for whom the action of the verb is
done.
مثال کے طور پر یہ جملے دیکھئے:
Jameel gave me his pen
جب آپ سوال کریں گے کہ’ کس کو‘؟
تو جواب آئے گا ’ مجھے‘
Question = to whom
Answer = me
چنانچہ اس جملے کا ڈائرکٹ آبجیکٹ ہے:
Pen
اور اِن ڈائرکٹ آبجیکٹ ہے:
Me
گزشتہ مضامین میں ہم نے اِن کے لئے مفعولِ اوّل اور مفعولِ ثانی کے الفاظ استعمال کئے تھے، لیکن اب اِن اصطلاحات کو براہِ راست انگریزی میں بھی سمجھ لیجئے۔
یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ انگریزی میں مفعولِ اوّل اور مفعولِ ثانی کا تصور دراصل لاطینی گرامر سے آیا ہے جہاں اِسم کی چھ مختلف حالتیں ممکن ہوتی ہیں۔
یعنی
Nominative
Vocative
Accusative
Genitive
Dative
Ablative
لاطینی میں اسم کے آخری حروف اس بات کی نمائندگی کرتے ہیں کہ اسم اپنی فاعلی حالت میں ہے، مفعولی حالت میں ہے، ندائی حالت میں ہے، آلی حالت میں ہے ، یا اضافی حالت میں ہے، لیکن جدید انگریزی میں اسم کی صرف دو ہی بنیادی شکلیں رہ گئی ہیں: فاعلی اور غیر فاعلی۔ چنانچہ انگریزی میں اسم کی حالت کا اندازہ اسکی شکل سے نہیں بلکہ جملے میں اسکے مقام سے لگایا جاتا ہے۔
Active voice or Passive voice
آخر میں اس بات کا جواب بھی دے دیا جائے کہ
Passive voice کا استعمال کِن موقعوں پر مناسب رہتا ہے۔ گرامر کی کوئی بھی کتاب کھول کر دیکھئے آپکو Passive voice کے استعمال سے منع کیا جائے گا۔
کمپیوٹر میں عبارت ٹائپ کرنے کے بعد اگر آپ خود کار نظام سے گرامر چیک میں لکھے ہوئے جملوں کے بارے میں ہدایت موصول Passive Voice کریں تو
ہو گی کہ انھیں Active Voice میں کر دیا جائے ۔
اس تعصب کا سبب یہ ہے کہ Active voice ہی دراصل جملے کی بنیادی ساخت ہے کیونکہ اس میں فاعل اور مفعول اپنے اپنے مقام پر اپنا اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
Passive voice کا استعمال صرف ان جگہوں پر جائز ہوتا ہے جہاں فعل کی ذمہ داری براہِ راست فاعل پر ڈالنے سے گریز کیا جا رہا ہو مثلاً مجرمانہ وارداتوں میں:
Three cars have been stolen
اگر چوروں کے بارے میں علم نہیں ھے کہ وہ کون تھے یا کسی قانونی مجبوری کے باعث ان کا نام نہیں لیا جا سکتا ہے تو ہم یہ ساخت استعمال کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں سائنسی تحقیقات کا ذکر بھی اس ساخت میں کیا جاتا ہے۔
A new virus has been found in British beef
بعض اوقات جملے کا فاعل محض ایک دو الفاظ پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ طوالت کھینچ جاتا ہے۔ اسکے نتیجے میں فعل اپنے فاعل سے بہت دور چلا جاتا ہے اور جملے کی ساخت بے ڈھنگی ہو جاتی ہے۔
مثلاً طویل فاعل کا یہ جملہ دیکھیئے:
The large number of candidates in the small hall and the scorching heat of August, supported our decision to postpone the exam
اب اس جملے کی یہ شکل دیکھیئے:
Our decision to postpone the exam was supported by the large number of candidates and the scorching heat of August
اگرچہ اس میں عام اصول کے مطابق Active voice استعمال نہیں کی گئی لیکن Passive voice میں آنے کے باعث اسکا فعل جملے کے شروع ہی میں آ گیا ہے جس سے جملہ چُست ہو گیا ہے۔