Friday, 08 April, 2005, 11:44 GMT 16:44 PST
پچھلی نشست میں ہم نے جائزہ لیا تھا کہ انگریزی آرٹیکل ’دی‘ کا استعمال کن کن صورتوں میں ہوتا ہے اور کہاں کہاں’اے‘ یا’این‘ استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس سلسلے میں ایک اہم نکتے کا ذکر ابھی باقی ہے اور وہ ہےجہاں اسم کو خالی چھوڑ دیا جاتا ہے اور کوئی بھی آرٹیکل استعمال نہیں کیا جاتا۔
اس صورتِ حال کو ’ زِیرو آرٹیکل‘ کا نام دیا جاتا ہے اور طالب علموں کے لئے اکثر یہ ایک ایسا بھاری پتھر ثابت ہوتا ہے جسے وہ محض چُوم کر پیچھے ہٹ جانے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔
تو آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کن موقعوں پر آرٹیکل کا استعمال بالکل نہیں کیا جاتا۔
اول: ان اسماء سے پہلے جن میں چیزیں اپنی عمومی حالت میں بیان ہوں، مثلاً
People are worried
Inflation is rising
دوم: کھیلوں کے ذکر سے پہلے، مثلاً
My son plays football
Tennis is expensive
سوم : ان اسماء سے پہلے جن کی جمع نہیں بنائی جا سکتی، مثلاً
Information is important to any organization
Coffee is bad for her health
Rice is the main food in India
Milk is often added to tea in England
چہارم : ملکوں کے نام سے پہلے بھی آرٹیکل نہیں لگتا، مثلاً
Germany is a great economic power
She has just returned from India
لیکن اگر ملک کا نام واحد کی بجائے جمع کے صیغے میں ہو، یا اس میں سٹیٹس، کِنگڈم، ری پبلک، یا یونین وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہوں تو پھر شروع میں آرٹیکل لگایا جاتا ہے، مثلاً
Her mother lives in the United States
Our engineers are trained in the Netherlands
My sister has been studying in the UK
The Irish Republic is not very far from England
پنجم: زبانوں کے ذکر سے پہلے آرٹیکل نہیں لگتا، مثلاً
French is not spoken in this country
English has many words of Indian origin
Punjabi is a common language in some parts of Canada
ششم: کھانوں کے نام سے پہلے یعنی ناشتے، ظہرانے اور عشائیے وغیرہ سے قبل آرٹیکل نہیں لگتا، مثلاً
Breakfast is the first meal of the day
Lunch is at midday
Dinner is in the evening
ہفتم: کسی شخص کے واحد نام سے پہلے آرٹیکل نہیں لگتا لیکن اگر میاں بیوی یا خاندان کی طرف اشارہ ہو اور جمع کا صیغہ استعمال ہو رہا ہو تو اس صورت میں آرٹیکل استعمال ہوتا ہے، مثلاً
The Smiths don't live here anymore
The Kumars are visiting Pakistan for the first time
We are having lunch with the Jacksons tomorrow
ہشتم: نام اور عہدے کے ساتھ آرٹیکل نہیں آتا، مثلاً
Prince Charles is Queen Elizabeth's son
President Kennedy was assassinated in Dallas
Dr. Watson is Sherlock Holmes' friend
لیکن صرف عہدے کا ذکر ہو تو آرٹیکل لگ سکتا ہے، مثلاً
The Queen of England, The Pope
نہم: پیشوں کے ذکر سے پہلے آرٹیکل نہیں لگایا جاتا:
Engineering is a useful career
She doesn't want to go into medicine
Teaching is her favourite profession
دہم: شہر، گلی، محلے،سٹیشن اور ایئر پورٹ وغیرہ کے نام سے پہلے عموماً آرٹیکل نہیں لگایا جاتا، مثلاً
Victoria Station is not very far from our office
I'm going to Bond Street to buy some books
She lives in Lahore
We'll be flying from Heathrow
اور آخر میں انگریزی کی کچھ متعّین ساختوں کا ذکر جن میں آرٹیکل استعمال نہیں ہوتا۔
Fixed expressions کہلانے والی ان ساختوں میں کسی قواعدی منطق کی تلاش بے سود ہوگی چنانچہ انہیں اہلِ زبان کا روزمرّہ سمجھتے ہوئے ذہن نشین کر لینا چاہیئے:
By car, by train, by air; on foot, on holiday, on air; at school, at work, at university; in church, in prison, in bed
اس سلسلے کی اگلی نشست میں ہم آرٹیکل کی تینوں اقسام پر پھر سے نگاہ ڈالیں گے اور ایک مشق کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کریں گے کہ آرٹیکل کے استعمال پر ہمیں کہاں تک دسترس حاصل ہو سکی ہے۔