http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 10 December, 2004, 17:12 GMT 22:12 PST

عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

انگریزی جملے کی ساخت

ہر زبان میں جملے کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک زبان سے دوسری زبان میں جملہ منتقل کرتے ہیں تو لفظی ترجمے پر انحصار نہیں کرتے بلکہ جملے کے مزاج کو ادا کرنے کے لیے لفظوں کی ترتیب میں ردوبدل کر دیتے ہیں۔

اردو اور انگریزی جملے کا موازنہ کئی سطحوں پر ہو سکتا ہے۔ سب سے بنیادی فرق تو فعل، فاعل اور مفعول کی ترتیب کا ہے۔

انگریزی جملے میں ان عناصر کی ترتیب یوں ہوتی ہے:

subject - verb- object
یعنی فاعل -- فعل -- مفعول
جبکہ اردو جملے میں ترتیب یوں ہوتی ہے۔
فاعل -- مفعول -- فعل
یعنی subject - object- verb

مثلاً یہ جملہ دیکھیے۔

Jameel eats bread

جمیل روٹی کھاتا ہے۔

اس میں جمیل فاعل ہے یعنی subject
روٹی مفعول ہے یعنی object
اور کھانا فعل ہے یعنی verb

جیسا کہ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ اردو جملے میں فاعل کے فوراً بعد مفعول آ جاتا ہے اور فعل آخر میں چلا جاتا ہے۔

اردو میں ایک طویل اور مرکب جملہ مرتب نہ ہو سکنے کی ایک وجہ فاعل، مفعول اور فعل کی یہ ترتیب بھی ہے۔

فاعل اور فعل جملے کے بنیادی اجزا ہوتے ہیں اور ان کی مدد سے مفہوم کی ایک مختصر ا کائی وجود میں آ سکتی ہے۔ مثلاً ’جمیل کھاتا ہے‘ اپنے طور پرمفہوم کی ایک مکمل ا کائی ہے ۔ اسکی مزید وضاحت کرتے ہوئے ہم بتا سکتے ہیں کہ جمیل کیا کھاتا ہے، کہاں کھاتا ہے، کب کھاتا ہے اور کیسے کھاتا ہے۔

لیکن اردو جملے میں یہ تمام معلومات ہمیں جمیل (فاعل) اور کھاتا ہے (فعل) کی درمیانی جگہ میں فِٹ کرنی ہونگی اور ایسا کرنے میں ہم جملے کو بہت بوجھل کر دیں گے۔

جمیل کے روٹی کھانے کا عمل اگر ہم تفصیل سے بیان کریں تو اردو میں کچھ اسطرح کا جملہ وجود میں آسکتا ہے:
’ جمیل میٹھی روٹی صبح کو سکول کے باہر پڑے ہوئے بنچ پر بیٹھ کر خوشی سے کھاتا ہے‘

اس جملے میں قباحت یہ ہے کہ فاعل (جمیل) اپنے فعل (کھاتا ہے) سے بہت دور ہو گیا ہے ۔ لیکن انگریزی میں یہ جملہ اس لئے برا نہیں لگتا کہ پہلے ہی دو لفظوں میں فاعل اور فعل کا ملاپ ہو جاتا ہے (Jameel eats) اور اسکے بعد آپ تمام ضمنی معلومات ایک ایک کر کے فراہم کرتے چلے جاتے ہیں :
Jameel eats with delight, his sweet bread in the morning, sitting on a bench out side the school

جمیل کیا کھاتا ہے، کیسے کھاتا ہے، کب کھاتا ہے، کہاں کھاتا ہے ، اردو جملے میں آپکو یہ تمام معلومات’جمیل‘ اور ’کھاتا ہے‘ کی درمیانی جگہ میں ٹھونسنی پڑیں گی، لیکن انگریزی جملے میں چونکہ ایسی کوئی مجبوری نہیں ہوتی اس لئے طویل اور مرکب جملہ بھی انگریزی میں قابلِ برداشت بن جاتا ہے۔

چونکہ ان مضامین میں ہمارا بنیادی مقصد انگریزی جملے کی ساخت کا مطالعہ کرنا ہے اس لئے آیندہ نشست میں ہم دیکھیں گے کہ انگریزی جملے میں اسمائے صفت (adjectives) کی ترتیب کیا ہوتی ہے اور متعلق افعال (adverbs) کس ترتیب میں آتےہیں۔

(یہ مضمون ہمارے نئے سلسلے ’پروفیسر گرامر‘ کی پہلی کڑی ہے۔ ان مضامین میں انگریزی گرامر کے بنیادی اصول عملی مثالوں کے ساتھ واضح کئے جائیں گے)