Wednesday, 10 September, 2008, 14:22 GMT 19:22 PST
اٹھارہ سالہ پیر محمد دسویں جماعت کے طلب علم ہیں اور ان کا تعلق پاکستان کے نیم قبائلی علاقے جنڈولہ کے گاؤں مغزئی سے ہے۔ انہوں نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے ان کی زندگی کیسے متاثر ہوئی ہے۔
| ’زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی‘ |
![]() |
| ’کوئی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کب کس وقت کسی کی زندگی کا چراغ گل ہو جائے گا‘ |
حالت کے بگڑنے کے ساتھ ساتھ میری ذاتی زندگی بھی اس کی لپیٹ میں آتی گئی۔ پہلے تو پڑھائی میں سستی آ گئی، کیونکہ ہر وقت کی لڑائی کی بدولت لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہوگیا۔ کوئی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کب کس وقت کسی کی زندگی کا چراغ گل ہو جائے گا۔
| ’حالات بد سے بدتر ہوتے گئے‘ |
![]() |
لڑائی میں جیسے جیسے سنگینی آتی گئی حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنی زندگی بچا کر پناہ کی تلاش میں اردگرد کے شہروں میں منتقل ہونے لگا۔ میرے گھر والے بھی اپنے گاؤں سے منتقل ہو کر ڈیرہ اسماعیل خان میں اعوان ابا کے علاقے میں آگئے۔
| ’ڈیرہ اسماعیل خان میں چار سال ہوگئے ہیں‘ |
![]() |
پھر والدین نے مجھے ایک سکول میں داخل کیا۔ لیکن میری پڑھائی میں وہ مزہ نہیں ہے جو کھبی تھا۔ اب میرے یہاں بھی کچھ دوست بن گئے ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ وقت گزرتا ہے۔ گھریلو ضرورت کی خریدری بھی میری ذمہ داری ہے۔ بس انتظار ہے اس پہلے والے وقت کے دوبارہ لوٹ آنے کا۔‘