Saturday, 25 March, 2006, 16:18 GMT 21:18 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
تئیس مارچ کو ورلڈ پپٹ ڈے یعنی پتلیاں نچانے کا عالمی دن باقی ملکوں کی طرح پاکستان کے ثقافتی دل لاہور میں بھی سرکاری سرپرستی میں نہایت جوش و جذبے سے منایا گیا۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو پتلی تماشے سے محظوظ کرنے کے لئے صوبائی حکومت نے دن رات ایک کردیے۔صوبے کے گوشے گوشے سے تماشائیوں کو لانے کے لئے ہزاروں بسوں اور ویگنوں کو ذخیرہ کیا گیا۔ سرکاری ملازمین بالخصوص لاہور اور اسکے گردونواح کے تمام استادوں اور استانیوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ہر صورت میں پتلی تماشہ دیکھیں تاکہ بعد میں طلبا و طالبات کو اسکی قومی اہمیت اور فنی پہلوؤں سے آگاہ کرسکیں۔
اس تماشے کے لئے مینارِ پاکستان کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں ایک لاکھ سے زائد تماشائیوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔
تئیس مارچ انیس سو چالیس کے دن آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے کا اسٹیج بھی یہیں بنا تھا۔اس اسٹیج پر قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، چوہدری خلیق الزماں، مولوی اے کے فضل الحق، قاضی عیسی، عبداللہ ہارون، سردار نشترِ، فاطمہ جناح اور جہاں آرا شاہنواز جیسی بہت سی شخصیات موجود تھیں۔
ٹھیک چھیا سٹھ برس بعد عین اس مقام پر پاٹے خان کی منڈلی نے اپنا دلچسپ شو پیش کرکے تماشائیوں کے دل موہ لیے۔
لاہور کے اس منٹو پارک المعروف اقبال پارک میں تئیس مارچ انیس سو چالیس کو منظور ہونے والی قرارداد کی روشنی میں جو ملک بنا اسکا کوئی فیض کسی کو پہنچا یا نہیں لیکن پاٹے خان کی منڈلی کو یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اسے اپنی پرفارمنس دکھانے کے لئے ایک کھلا میدان میسر آ گیا۔
(تالیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
| ’آپ کیا کہتے ہیں‘ |
اجمل مندھرانی، کراچی:
پچھلی آدھی صدی سے ہم تماشہ تو دیکھ رہے ہیں اور تالیاں بھی بجا رہے ہیں۔ او یہ مت پوچھیے گا کہ تالیاں بجانے والوں کو کیا کہتے ہیں!
مہرافشاں ترمذی،سعودی عرب:
ابھی تو یہ طے کرنا بھی باقی ہے کہ کہ جو تئیس مارچ سن چالیس کو ہوا تھا وہ کیا تھا۔ اگر وہ بپھی پتلی تماشہ تھا تو اس کو یاد کرنے کے لیے ایک پتلی تماشہ دکھانے میں کیا مضائقہ ہے۔ تو کے ناوقف آداب غلامی ہے ابھی۔۔۔
ملک ممتاز، مڈل سیکس، انگلینڈ:
یہ پاکستان کی صحیح ترجمانی ہے۔ ڈکٹیٹروں کے ہاتھ میں سارا ملک کی ’ کٹھ پتلی‘ بنا ہوا ہے۔
آفتاب احمد، لینسنگ، امریکہ:
جب ایک ڈکٹیٹر کو موقع پرست سیاستدانوں کی حمایت حاصل ہو تو آپ کو ہر طرف اسی قسم کے پیلی تماشے نظر آئیں گے۔ ہر ڈکٹیٹر کی طرح مشرف بھی سیاست کھیل رہے ہیں لیکن وہ سیاستدان ہیں نہیں۔
نوید اعوان، گوجرانوالہ:
جی ہاں آپ نے ٹھیک کہا۔ لاکھوں لوگوں کو ذلیل کر کے اس منڈلی نے اپنی پرفارمنس دکھائی اور ایک لاکھ سے تالیاں بھی بجوا لیں۔
جاوید گوندل، بارسلونا، سپین:
اگر وسیت بھائی ہمیں پتلیوں سے بھی آگے کی کوئی چیز بنا دیں تو وہ بھی ہم پر صادق آتا۔ کیونکہ ہم پتلیوں سے بھی زیادہ بے بس ہیں اور ہماری پاٹے خان اینڈ کمپنی ہر اخلاق سے عاری۔
اے رضا، ابوظہبی:
یہ سن اٹھاون کے آئے ہوئے پاٹے خا ن جان نہیں چھوڑنے کے۔ افسوس ان ’عوامی!یڈروں پر جنہیں ایک نہیں دو دو موقعے دیے اس فقیر اور مظلوم خلق خدا نے لیکن وہ بھی پاٹے خانوں سہ مختلف نہ نکلے۔ باقی کیا رہ جاتا ہے پھر؟
فہیم رضا، ہانگ کانگ:
یہ شو نہ صرف پاکستانیوں بلکہ ان روحو ں کے لیے بھی تکلیف کا باعث بنا جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دیے۔ آج کا پاکستان قائد اعظم کا پاکستان نہیں رہا یہ صرف ملٹری سٹیٹ بن چکا ہے۔
نظام، دبئی:
سیاست تو ہے ہی پتلی تماشہ۔
نواز بھٹہ، لاہور:
واہ کیا بات ہے پاٹے خان کی۔