http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 12 March, 2006, 14:13 GMT 19:13 PST

حسن مجتبٰی
سان ڈیاگو؛ کیلیفورنیا

کالا پانی کے سو سال

سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے ٹوٹا تھا۔

پہلے پہلے دل ٹوٹا( جب میرا یار ظفریاب مرگیا) پھر میرا کمپیوٹر اور پھر آپ سے محبت کا سلسلہ۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تب کھوکھرا پار کی ٹرین کی سیٹی بجنا ہی چاہتی تھی۔ وہ راجہ والی ریل پھر سے چلنے لگی جو آخری بار آصف زرداری کے گھوڑے لادنے میں کام آئی تھی۔

اور اس سے کچھ دن پہلے جسونت سنگھ ہنگلاج کی تیرتھ کو پدھارے تھے (معاف کرنا یہ اردو میں ہندی کو ملانے کی گستاخی کر رہا ہوں۔ بہت سے یار لوگ اسے زم زم میں گنگا کا پانی ملانا نہ سمجھ بیٹھیں!) کیونکہ کراچی اور مکران کے بیچ اس مقام پر پاکستان بننے سے پہلے (جسونت سنگھ کے) ماں باپ جایا کرتے تھے۔ کاش نہرو اور جنا ح کے ماں باپ بھی کبھی ہنگلاج گئے ہوتے تو کیا خبر ہندوستان کا بٹوارہ شاید نہ ہوتا۔

آج کل جزیرہ انڈمان پر’ 'کالا پانی‘ جیل کی صد سالہ تقریبات منائی جارہی ہیں۔ اے برصغیر کی بلکتی آزادی، تیرے لیے کیسے کیسے لوگ کام آ گئے۔

’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘گاتے ہوئے پھانسی کے پھندوں کو چومتے ہوئے کاکوری کے اسیر یا’ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی‘ اور وہ چائے اور وھسکی کا شوقین پیغمبرانہ پیشین گوئیاں کرتا ہوا ابوالکلام آزاد جس نے کہا تھا ’میں نہیں سمجھتا کہ مذہب کی بنیاد پر مشرقی اور مغربی پاکستان پچیس برس سے زیادہ عرصے تک متحد رہ سکتے ہیں‘۔ اب ابوالکلام آزاد جیسے مولوی کہاں؟

اب تو خود کش بمبار ہی ہیں یا میزائیل بنانے والا اس کا آدھا ہم نام سائنسدان بھارتی صدر۔ یہ عبدالکلام اور قدیر خان جیسے سائنسدان بھی تو ایک طرح کے بمبار ہی ٹھہرے اور کیا؟

 
آپ کا کیا خیال ہے؟

سید مظفر علی، پاکستان:
میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کالا پانی کے سو سال مکمل ہونے پر!

علی رضا، یوکے:
میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ کبھی انڈین گجراتی کے ان مسلمانوں پر بھی کچھ لکھیں جنہیں زندہ جلا دیا گیا۔

شہباز بھٹہ، پاکستان:
اگر آپ کی نظر سے دیکھیں تو ہر چیز دھندلا جاتی ہے۔

مہر افشین ، کویت:
بہت افسوس کی بات ہے کہ جب بی بی سی والوں نے دیکھا کہ سب حسن صاحب کے خلاف لکھ رہے ہیں تو جاوید سحر قریشی کے نام سے جعلی ای میل چھاپ دی۔

عفت سعید، پاکستان:
یاروں کے جانے سے زندگی میں ایک خلاء تو آ ہی جاتا ہے زندگی میں جناب مگر دکھ کی بھی ایک داستان ہے نہ سمجھ میں آنے والی۔

جاوید سحر قریشی، نائجیر:
پیارے حسن مجتبی کے کالم اور بلاگ بہت عرصے سے پڑھ رہا ہوں۔ مگر آج پہلا موقع ہے کہ ان کی بڑھائی میں کوئی رائے لکھ رہا ہوں۔ حسن مجتبی بہت ہی خوبصورت لکھاری ہیں، انہیں سدا بہار کہنا ٹھیک ہوگا۔۔۔

نور احمد، حیدرآباد:
مضمون کم جو نہ آہے، کم جی گالھ کرو۔

شیما صدیقی، کراچی:
نہیں آج کی دنیا کا اصول ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ کون مولوی کون ڈاکٹر قدیر۔۔۔سب نام ہیں، کچھ نامور ہو جاتے ہیں تو کچھ بے نام ہو جاتے ہیں۔ کیا ہے اس دنیا کی زندگی۔۔۔مرنا اور مار دینا اب کون سا مشکل کام ہے مجتبی بھائی۔۔۔کبھی ہم پکارتے ہیں کالا پانی تو کبھی وہ گوانتانامو بن جاتا ہے۔۔۔

اکبر، کویت:
کیا حسن صاحب کو دوسروں کی سازشیں نظر نہیں آتیں جو ابھی بھی تقسیم کو غلط سمجھتے ہیں؟ ابوالکلام کے ساتھ انڈیا نے کیا سلوک کیا؟

الطاف عباسی، مظفرآباد:
آصف زرداری کے بارے میں لکھی بات بالکل صحیح ہے۔۔۔

بابر علی، رحیم یار خان:
آپ نے تقسیم کے بارے میں زیادہ مطالعہ نہیں کیا ہے۔ برصغیر کا تقسیم ہونا ضروری تھا۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ اسے اچھے رہنما نہیں ملے۔ اگر جناح زیادہ دیر تک زندہ رہے ہوتے تو آپ اس طرح نہیں سوچتے۔

قاسم قاضی، لاہور، پاکستان:
حسن صاحب سے کبھی صحیح بات کی توقع ہی فضول ہے۔

ثنا خان، پاکستان:
بالکل صحیح اور ان سائنس دانوں کو قومی ہیرو قرار دینا بھی تو جیسے خودکش بمباروں کا حوصلہ بڑھانا ہے۔

مہر افشان، سعودی عرب:
کبھی اصلی بمباروں امریکہ اور برطانیہ اور وہ جس نے پہلا ایٹم بم بنایا، کے بارے میں بھی لکھ دیا کریں۔۔۔

گل گرگیج، پاکستان:
ڈاہڈو سُٹھو لکھاندا آہیو۔ مہنجو سلام آہے تاہوان کھے۔