Tuesday, 20 January, 2009, 08:50 GMT 13:50 PST
امریکہ کی تاریخ میں منگل کو پہلے سیاہ فام، باراک اوباما ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تبدیلی لانے کے ایک وسیع ایجنڈے کے ساتھ صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا رہے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار میکس ڈیوسن نے امریکی صدر کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لے کر ان مسائل کی نشاندھی کرنے کی کوشش کی ہے جن کو فوری طور پر حل کرنا پڑے گا اور کچھ کو فی الحال ایک طرف رکھنا پڑے گا۔
| معیشت کی بہتری |
![]() |
|
| اوباما کے معیشت کی بہتری ایک بڑا چیلنج ہے |
اوباما کے مجوز کردہ منصوبوں میں پورے ملک میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے علاوہ ملکی سطح پر سکولوں اور پبلک بلڈنگوں کی مرمت اور ان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی سکیم بھی شامل ہے۔
اوباما عوامی نوعیت کے منصوبوں کے لیے جن پر پہلے ہی کام ہورہا ہے مزید سرمایہ فراہم کرکے روزگار کے مواقعے پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ کیا جا سکے۔
روزگار کے مواقعے پیدا کرنے اور عوام کی قوت خرید میں اضافہ کرنے کے لیے دیگر تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ ان میں ایسی کمپنیوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دیئے جانا جو لوگوں کو مزید روزگار مہیا کریں گی، پچانوے فیصد امریکی کارکنوں کے ٹیکسوں میں کمی کیا جانا اور بے روزگاروں کو دی جانے والی مالی مراعات میں اضافہ کیا جانا شامل ہے۔
معیشت میں بہتری لانے کا یہ پیکج سات سو ارب ڈالر سے ایک کھرب ڈالر پر مشتمل ہو سکتا ہے۔
| صحت عامہ میں اصلاحات |
اوباما نے حلف اٹھانے سے پہلے ایسے ماہرین کو اپنی انتظامیہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے جن سے لگتا ہے کہ اوباما نے صرف انتخابی
وعدے ہی نہیں کیے بلکہ سنجیدگی سے اس ضمن میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
| ماحولیات میں تبدیلی |
وہ سنہ دو ہزار پچیس تک مضر گیسوں کے اخراج میں اسی فیصد تک کمی لانے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا تھا کہ اگلے دس برس میں توانائی کے متبادل ذرائع پر ایک سو پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ مزید براں سنہ دو ہزار نو میں ’کیپ اور ٹریڈ‘ کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا جائے گا جس کا مقصد مضر گیسوں کی اخراج میں کمی لانا ہو گا۔
| عراق سے ہٹ کر افغانستان پر توجہ |
اس سارے عمل میں وہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا اپنا وعدہ بھی پورا کر لیں گے۔
فوجی ذرائع کے مطابق بیس ہزار سے تیس ہزار اضافی فوجیوں کو افغانستان روانہ کرنے سے افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد موسم گرما تک دگنی ہو جائے گی۔
عراق میں امریکی فوجی کارروائی کی مخالفت کی وجہ سے باراک اوباما کو ابتدائی طور پر شہرت حاصل ہوئی تھی۔
| گوانتاناموبے کو بند کرنا |
نئے صدر نے حال ہی میں امریکی جریدے ’ٹائم میگزین‘ کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر نئی انتظامیہ دو سال کے اندر گوانتانامو کے قید خانے کو بند نہیں کر سکی اور ملکی دفاع اور امریکی آئین میں ایک توازن قائم نہ کر سکی تو یہ اس کی بڑی ناکامی ہو گی۔
گوانتانامو کے قید خانے کو بند کرنے کے لیے نئی انتظامیہ کو اس میں موجود قیدیوں کے بارے میں کچھ کرنا ہوگا۔ بہت سے قیدیوں کو ان کے آبائی ملکوں میں واپس نہیں بھیجا جا سکتا کیوں کہ وہاں ان کی زندگیوں کو خطرہ ہو گا۔
اوباما کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ گوانتانامو کے قیدیوں کے مقدمات فوجی ٹرائبیونل میں چلانے کے طریقے کار کو جاری رکھا جائے یا
ان قیدیوں پر عام عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں یا ان کو آزاد کر دیا جائے یا اور کوئی متبادل اختیار کیا جائے۔
| دنیا کو ساتھ لے کر چلنا |
انہوں نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ سنہ دو ہزار نو کے اوائل میں دنیا کے کسی بڑے مسلمان آبادی والے ملک مصر یا انڈونیشیا میں تقریر کریں گے جہاں انہوں نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ گزارا ہے۔
اس سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ بہتر کرنے میں مدد ملےگی اور اس طرح امریکہ اپنے اتحادیوں سے زیادہ تعاون حاصل کر سکتا ہے۔ مثلاً نیٹو ممالک کو افغانستان مزید فوجی بھیجنے اور اسرائیل کو مشرق وسطٰی میں قائم امن کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے رعایتین دینے کو کہا جا سکتا ہے۔