Friday, 19 October, 2007, 04:47 GMT 09:47 PST
کئی گھنٹے تک ایسا لگ رہا تھا کہ پورا کراچی چھٹی پر ہے اور ایک بہت بڑی پارٹی چل رہی ہے لیکن اچانک سب کچھ بدل گیا۔ موسیقی چیخوں میں بدل گئی اور نعرے آہوں میں۔ کراچی ایک مرتبہ پھر اپنے پیاروں کے سوگ میں چلا گیا۔ بینظیر کی ریلی میں بم دھماکے کے چند عینی شاہدین :بی بی سی کے ڈیمئن گرامیٹیکس
ٹرک کا اگلا شیشہ، دونوں اطراف کے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ چکے ہیں۔ اور دونوں طرف پڑے نشانوں سے لگتا ہے کہ یہ شاید کوئی خودکش حملہ تھا۔ چاروں طرف تباہی اور قتل وغارت کا منظر ہے، لاشیں ایبولینسوں میں رکھی جا رہی ہیں۔ ایک شخص ماتم کر رہا ہے کہ اس کا بھائی دھماکے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ وہ بہت خوفناک منظر ہے۔ سامنے والی پولیس کی گاڑی ایک جلا ہوا ڈھانچہ بنی ہوئی ہے۔
| خبر رساں ادارے رائٹرز کے فوٹوگرافر اطہر حسین |
| صحافی کرسٹینا لیمب |