Wednesday, 25 July, 2007, 17:48 GMT 22:48 PST
مریم ان طالبات میں سے ایک ہیں جو جامعہ حفصہ میں تعلیم حاصل کررہی تھیں اور لال مسجد آپریشن کے دوران وہاں تھیں۔ انہوں نے ان دنوں کی کہانی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد کی رفیعہ ریاض کو سنائی۔
| ڈائری چار |
![]() |
| ہفتہ سات جولائی |
بس ہم نے کہا کہ صحابہ کرام کی سنت ہے، انہوں نے بھی تو پتے کھائے تھے ناں۔ بہت زیادہ بھوک لگ رہی تھی اس وقت۔ یہ جب آنسو گیس پھینکتے ہیں تو اس کے بعد بھوک لگتی ہے۔ ایک ایک چمچ شہد چاٹ لیں تو انشاء اللہ تعالیٰ اسی میں (ہے) برکت۔ بارش ہوئی تو بارش کا پانی بھرا ہوا تھا۔ مجاہدین ہمیں لا کر دیتے ، بالٹی اندر رکھتے تھے تو ہم لوگ دیکھتے کہ پانی رکھ کے چلے گئے ہیں واپس۔
بارش نے آگ بجھا دی ![]() |
باہر پولیس والوں نے چاروں طرف مدرسے اور لال مسجد کے پٹرول چھڑک دیا آگ لگانے کے لیے۔ اللہ کا ایسا کرنا ہوا کہ جب بارش ہوئی تو پٹرول کا اثر ختم ہو گیا اور جو آگ انہوں نے لگائی تھی وہ آگ بھی بجھ گئی ہے۔
آگ وہ جو ہمارا سب سے نیچے کمرہ ہے اس کو لگی ہوئی تھی، وہاں بم پھینکا آگ والا۔ دھواں دیکھا، تب ہم لوگ باہر نکلے، دھواں پورے مدرسے میں پھیل گیا۔ آنکھوں پر ہم نے کپڑا رکھا، نیچے ہو کر بیٹھ گئے، ہمارے بھائیوں نے کہا کہ دھواں نقصان نہیں پہنچاتا، آنسو گیس نقصان پہنچاتی ہے، آپ لوگ کپڑا منہ پر رکھ لو۔ ایک گھنٹہ رہا ہے کمرے کے اندر دھواں اس کے بعد نکل گیا۔
ہم نے طالبات کے دفن کرنے کے بارے میں کچھ نہیں سنا، پتہ چلا تھا کہ تین لڑکیاں شہید ہو چکی ہیں، ایک کو دیکھا تھا، وہ چھت پر جا رہی تھی کپڑے لینے کے لیے تو وہاں سے اسے گولی لگی۔ تین گولیاں، دو پیٹ پر اور ایک بازو پر، وہ وہاں پر شہید ہو گئی تھی۔ ہم لوگوں کو خوشی ہوئی کہ ہماری طالبات شہید ہو گئی، اس نے شہادت پا لی۔
اس نے ’شہادت‘ پا لی ![]() |
ہمیں تو جو آپی جان بتاتی تھیں وہ پتہ تھا مگر جب فائرنگ بند ہوتی تھی تو ہم لوگ کہتے، شاید اب ہمیں فتح ہو گئی ہے، ہم باہر نکلیں گے، مدرسے جائیں گے۔ فائرنگ پھر شروع ہو جاتی تو ہم لوگ کہتے کہ نہیں ابھی آپریشن ختم نہیں ہوا۔ آپی جان آ کر بتاتیں کہ مذاکرات ہوئے ہیں۔
کچھ لڑکیوں کو خوف محسوس ہوتا تھا۔ ڈر جاتی تھیں۔ جب دو لڑکیاں تھوڑی گبھرائیں تو ہم نےکہا آپ پھر آئے کیوں ہو؟ جب آپ کو ڈر لگ رہا تو آپ لوگ واپس گھر چلے جاتے۔ شہادت کا جذبہ لے کر آئے ہو تو شہید ہو کے جاؤ، پھر وہ چپ ہو گئیں۔
| اتوارآٹھ جولائی |
ہم لوگ بہت زیادہ تنگ آ گئے تھے۔ ہم نے کہا تھوڑی دیر کے لیے باہر چلتے ہیں، باہر نکلے، ہیلی کاپٹر آیا تو ہم اندر آ گئے کمرے میں۔ پھر فائرنگ شروع ہو گئی لیکن گولی نہیں لگی ہمیں۔
(جـاری ہے۔۔۔)
| ’آپ کیا کہتے ہیں‘ |
عمران بھٹا، پاکستان
میں صرف اتنا کہوں گا کہ جو کچھ ہوا غلط ہوا۔ دونوں طرف مرنے والے مسلمان تھے۔
شان رحمان، راولپنڈی، پاکستان
مجھے بہت افسوس ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی سیاست اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب مدارس جیسی جگہوں پر ایسے خون کی ندیاں بہتی ہیں۔ آخر کیوں؟ کیا ہماری عوام کی سوچ نے سوچنا بند کر دیا ہے کہ اس قیامت کے منظر کا قصوروار کون ہے۔
بدر، دبئی
لال مسجد کے مسئلے نے اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کیا۔ مسلمان کبھی بھی مسلمان پر حملہ نہیں کرتا اور پھر ایک ریاست کے اندر ریاست کا اعلان کرنا غلط ہے۔ جنت ان لوگوں کا انتظار کر رہی تھی تو مولانا صاحب برقعہ پہن کر کیوں بھاگے۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تم لوگوں کا اسلام ہے؟ حکومت نے خود ان لوگوں کو موقع دیا اور پھر گھر کی ذینت ڈنڈے لے کر سڑکوں پر آ گئی شرم کا مقام ہے ہم لوگوں کے لیے۔
ساجد، پاکستان
یہ ایک افسوسناک کہانی ہے اور تمام غلطی حکومت کی ہے کیوں کہ انہوں نے بات چیت جو کہ اپنے آخری مراحل میں تھی کو ختم کر دیا۔ اگر ان کے خیال میں طلباء غلط تھے تو وہ آنسو گیس کا استعمال کر کے انہیں گرفتار کر سکتے تھے۔
فوزیہ لطیف، لاہور، پاکستان
مجھے سمجھ نہیں آتی ہے کہ جن لوگوں نے اتنا بڑا ظلم کیا، کیا ان کے اپنے بچے نہیں ہیں۔ یہ جو فوجی ہیں انہیں کوئی اور کام تو آتا نہیں ہے۔
س خان، پاکستان:
یہ سراسر ظلم تھا۔ پرویز مشرف نے ان بچیوں کے خلاف اتنی طاقت کا استعمال کیا۔ یہ اچھا نہیں ہوا۔
نادیہ خان، کراچی:
بہت زیادہ دکھ ہوا۔ معصوم بچیاں۔ ان کا کیا قصور تھا؟ کم از کم ان کو بچانے کے لیے تو بات چیت کرنی چاہیے تھی۔ جب کراچی میں تشدد سے بارہ لوگ ہلاک ہوئے اس وقت حکومت کی رِٹ کہاں تھی؟
فیضان رضا، کراچی:
میں یہ کہوں گا کہ مریم نے جو بھی بیان دیا ہے، ان لوگوں نے جتنی پریشانیاں اٹھائیں، تکلیفیں اٹھائیں، تو میرے نذدیک یہ ان کی خود کی غلطی ہے۔ جو انہوں نے کیا، انہوں نے حکومت اور عوام کے خلاف جو بھی کیا وہ سب تکلیفیں اس کا ہی نتیجہ تھیں۔ اگر وہ باہر آجاتیں تو اتنا نقصان نہیں ہوتا۔
ساجد صدیقی، دبئی:
براہ مہربانی ایسی کہانیاں شائع نہ کیا کریں۔ یہ لڑکی اب بھی اپنی غلطی نہیں مان رہی۔ اب بھی خود کش حملوں کی حمایت کر رہی ہے۔ یہ سب پاکستانی معاشرے کے برعکس ہے۔ ایک بات صاف ہے کہ لال مسجد والوں نے غلطی کی اور اب بھی ماننے کو تیار نہیں۔ اور اب اپنی بات پھیلانے کے لیے میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔
محبوب الہی بٹ، ہری پور:
ایک ایسا ملک میں ایسا ہونا جو اسلام کے نام پر قائم ہوا بہت افسوس ناک ہے۔ اس کے ذمہ داران کا احتساب ہونا چاہیے۔
ریاض اے خان، سرائے نورنگ:
یہ بہت ہی افسوسناک کہانی ہے۔
رمضان مندازی، پاکستان:
کاش بی بی مریم وہاں صرف اسلامی درس سیکھنے جاتیں اور وہاں سے فارغ ہو کر بچیوں کو زیور علم سے آشنا کرتیں، نہ کہ مرنے اور مارنے کا سبق سکھاتیں۔
عباس، لندن:
اب تک اس موضوع کو زندہ رکھنے کا کیا فائدہ؟ یہ سب پڑھ کر بس تشدد میں ہی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ لڑکیاں واقعی معصوم ہیں تو پھر ڈنڈے اٹھا کر کیوں کھڑی تھیں؟
عامر مغل، پاکستان:
یہ جو کچھ بھی ہوا لال مسجد میں ظلم ہوا۔ اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے اوع معافی مانگنی چاہیے۔ میں جب بھی دیکھتا ہوں خون کے آنسو رو پڑتا ہوں۔ پر کیا کر سکتے ہیں سوائے دکھ کے؟ جتنا بھی کہا جائے کم ہے۔ وہ لوگ سچے تھے جنہوں نے جانیں دیں۔
حافظ سکندر کانجو، رحیم یار خان:
جو بھی ہوا لال مسجد میں بہت ظلم ہوا۔
حفصہ نور، بورے والہ:
میرے خیال میں حکومت نے لال مسجد میں جو کیا وہ صحیح نہیں تھا۔ اسلام ہمیں اپنے ہی بھائیوں سے لڑنا نہیں سکھاتا۔ مگر غلطی کسی حد تک مولانا عبدالعزیز کی بھی ہے۔ میرے دل میں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کے لیے بہت عزت ہے جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر سچائی کا ساتھ دیا۔ مگر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کا کیا فائدہ۔۔۔
محمد عدیل صدیقی، پشاور:
مسجد میں جو خواتین تھیں ان کو غلط لوگوں کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا۔
سائلینٹ صوفی، اسلام آباد:
کتنے لوگ مارے گئے ہیں، کچھ پتہ نہیں۔ حکومت اور مسجد میں موجود افراد دونوں غلط تعداد بتا رہے ہیں۔ بحیثیت ایک قوم ہم کنفیوزڈ ہیں۔