Tuesday, 10 July, 2007, 13:41 GMT 18:41 PST
ڈاکٹر خان اسلام آباد کے فیڈرل گورنمنٹ سروسز ہسپتال میں کام کرتےہیں جو لال مسجد سے صرف 850 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پچھلے منگل کو ہسپتال میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر خان نے ہمیں پچھلے منگل سے آج تک کی صورت حال کے بارے میں بتایا۔
| ’بہت شدید لڑائی ہو رہی ہے‘ |
پہلے دن سے ہی زخمیوں کو ادھر لایا جا رہا ہے۔ ہمارے ہسپتال میں پہلی موت ایک رینجر کی ہوئی، جس کو گولی لگی تھی۔ زیادہ تر لڑکیوں کو گھٹن اور آنسو گیس کی شکایت تھی۔ پہلے دن کوئی ڈیڑھ سے دو سو تک متاثرین ہسپتال لائے گئے۔
اب تک صرف اس ہسپتال میں چھبیس ایسے افراد لائے گئے ہیں جنہیں گولیاں لگی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسے افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
کل میں رات کی ڈیوٹی پر تھا۔ قریب چار بج کے بیس منٹ پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے میں جاگ گیا۔ تب سے مشین گن اور بھاری اسلحے کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ بہت شدید لڑائی ہو رہی ہے۔
اب تک یہاں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کسی زخمی کو نہیں لایا گیا ہے۔ انہیں چار خصوصی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے قریبی سپورٹس سٹیڈیم سے تیس کلومیٹر دور واقع خصوصی ملٹری ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔ اس ہسپتال تک کسی کو رسائی نہیں، اس لیے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
ہم نے سنا ہے کہ مسجد کے علاقے میں موجود صحافیوں پر گولی چلانے کے احکامات ہیں۔ ہسپتال کے باہر کئی دن سے کئی صحافی کھڑے ہیں۔ آج صبح میں نے کچھ سکیورٹی والوں کو صحافیوں پر تشدد کرتے دیکھا۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہمارا ہسپتال صبح نو بجے سیل کر دیا گیا اور اب ملٹری ایمیولنسس کو بتا رہی ہے کہ انہیں کون سے ہسپتال جانا چاہیے۔ شاید ہمارے ہسپتال کے لیے کوئی خاص منصوبہ ہو۔‘
| ڈاکٹر امجد محمود، ڈپٹی ڈائریکٹر، پمز ہسپتال |
اس کے علاوہ ہمارے پاس چار زخمی فوجی بھی لائے گئے تھے جنہیں بعد میں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔
جہاں تک سہولیات کا تعلق ہے تو ہم ہر لحظ سے تیار ہیں۔ چونکہ یہ ایک ٹِیچنگ ہسپتال ہے اس لیے ہمارے پاس ہر قسم کے ماہرین موجود ہیں جو آنے والے زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں۔