تیرہ مارچ سے ویسٹ انڈیز میں شروع ہونے والا کرکٹ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا مقابلہ ہے۔اس مرتبہ کپ میں سولہ ٹیمیں شریک ہیں جبکہ 2003 میں یہ تعداد چودہ تھی۔
| گروپ سٹیج |
گروپ اے
آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، سکاٹ لینڈ، ہالینڈ
گروپ بی
سری لنکا، انڈیا، بنگلہ دیش، برمودا
گروپ سی
نیوزی لینڈ، انگلینڈ، کینیا، کینیڈا
گروپ ڈی
پاکستان، ویسٹ انڈیز، زمبابوے، آئرلینڈ
٭اس مرحلے میں ہر ٹیم اپنے گروپ میں شامل بقیہ تمام ٹیموں سے میچ کھیلے گی۔ جیت پر دو، مقابلہ بے نتیجہ رہنے یا برابری پر ایک جبکہ ہارنے پر کوئی پوائنٹ نہیں ملے گا۔
٭ان مقابلوں کے بعد ہرگروپ میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچ جائیں گی۔
٭اس مرحلے کے اختتام پر کسی گروپ کی دو ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں ٹائی بریکر کا قانون لاگو ہوگا۔ اس قانون کے تحت زیادہ میچوں میں فتح، بہتر رن ریٹ، بہترین وکٹ اوسط یا باہمی مقابلے میں فتح کی بنیاد میں سے جو قانون مناسب ہو گا اس کی بنیاد پر پوزیشن کا فیصلہ کیا جائے گا۔
| سپر 8 |
٭ ہرگروپ سے آنے والی دونوں ٹیموں کے پہلے مرحلے میں باہمی میچ کے نتیجے میں حاصل کردہ پوائنٹس سپر ایٹ مرحلے میں ان کے حاصل کردہ پوائنٹس میں شامل کیے جائیں گے۔
٭سپر ایٹ مرحلے کی چار بہترین ٹیمیں سیمی فائنل کھیلنے کی حقدار ہوں گی اور پوائنٹس کی برابری کی صورت میں پہلے مرحلے والا ٹائی بریکر قانون لاگو ہوگا۔
٭سپر ایٹ مرحلے میں بھی سیڈنگ کا نظام پہلے مرحلےکی طرح عالمی درجہ بندی کے حوالے سے ہوگا۔ مثلاً اگر جنوبی افریقہ گروپ اے میں اول پوزیشن حاصل کرے اور آسٹریلیا دوسرے نمبر پر آئے تب بھی عالمی درجہ بندی کے لحاظ سے برتری کی بنیاد پر سپر ایٹ مرحلے میں آسٹریلیا اے1 کہلائے گی جبکہ جنوبی افریقہ اے 2 ہوگی۔
| سیمی فائنلز |
| موسم |