Monday, 20 November, 2006, 15:35 GMT 20:35 PST
مختار مائی
میرووالہ
یکم ستمبر، دو ہزار چھ
ہمارے بھائی ندیم سعید اور ان کی فیملی ہمارے پاس آئے۔ بہت دنوں سے وہ پروگرام بنا رہے تھے کہ میرے گھر چکر لگائیں، کیونکہ انہوں نے چھ ماہ کے لیے لندن چلے جانا ہے جہاں پر انہوں نے اپنا بی بی سی کا تربیتی کورس کرنا ہے۔ کئی ہفتوں سے انہیں بلا رہی تھی بالآخر وہ آگئے۔ رات گئے تک ان سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی۔ انہوں نے سکول کے متعلق پوچھا۔ ان کے ننھے منے بیٹوں ولی مصطفیٰ اور دایان مصطفیٰ نے میرے گھر کو خوب رونق بخشی۔
| دو ستمبر، دو ہزار چھ |
![]() | |
خیر نسیم نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزالہ بی بی اور اس کی ماں کو بدمعاشی، دھونس، دھمکی اور طاقت کے زور پر گھر سے اٹھا لیا گیا۔ طاقت کے نشے میں دھت معاشرے کے یہ ناسور کب تک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت، انا، عصمت اور غیرت کو زخمی کرتے رہیں گے؟ لہذا ہمارے لیے بھاری ذمہ داریاں اور لمحہ فکریہ ہے۔ فرد کے تحفظ کی ریاست کی ذمہ داری، اعلٰی اداروں اور قانونی اداروں کی ذمہ داریاں ہمیں اپنے معاشرے میں نظر نہیں آتیں۔ اپنے حق کے لیے لڑنا اور آپ کا بیدار ہونا لازمی ہے۔
مجھ میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کیوں کہ اس طرح کے دکھ میری روح کو زخمی کر دیتے ہیں ۔ بہرحال میں نے لوگوں کو کہا کہ میں ہر مظلوم کے ساتھ ہوں۔ میں نے بھی لوگوں سے بات کی کہ ہمارے حالات کوئی اور نہیں بدلنے آئے گا۔ جہاں ظلم ہوگا ہم سب مل کر لوہے کی دیوار بن کر ڈٹ جائیں تو ہم خوداپنےحالات بدل سکتے ہیں۔ کبیروالہ میں مجھے سب سے معیوب بات یہ لگی کہ مردوں کی اچھی خاصی تعداد میں عورت ایک بھی نہ تھی۔
غزالہ بی بی ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے بلکہ اس دن وہ اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل کر کے گھر گئی تھی۔ مخالف پارٹی نے غزالہ بی بی کے چچا پر یہ الزام لگا کر اٹھا لیا کہ اس نے ان کی کوئی عورت بھگائی ہے۔ بہرحال یہ کہاں کا انصاف ہے کہ چچا کی سزا بھتیجی کو ملے؟ مگر یہاں اکثر ہوتا رہتا ہے۔ پھر ہم رات گئے واپس گھر آگئے۔
| تین، چار، پانچ ستمبر، دو ہزار چھ |
نسیم نے فوراً مسیج پڑھا اس میں ایک درد ناک پیغام تھا کہ ندیم بھائی کے بڑے بھائی کی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے موت واقع ہو چکی ہے۔ نسیم نے فوراً ندیم بھائی کا نمبر ملایا تاکہ ان سے بات کی جا سکے مگر نمبر بزی تھا۔ خیر مسلسل ٹرائی کے بعد ندیم بھائی سے بات ہوئی۔ وہ خاصے پریشان اور گھبرائے ہوئے تھے۔ ان سے صحیح بات نہیں ہو پا رہی تھی اور وہ ڈیرہ اسماعیل کے لیے روانہ تھے۔ میں نے ان سے افسوس کیا۔ نسیم نے بھی۔
| چھ ستمبر، سو ہزار چھ |
| سات ستمبر، سو ہزار چھ |
| نو ستمبر، دو ہزار چھ |
| آپ کے پیغامات |
نبیلہ عنبر خان، العین
میری دعا ہے کہ آپ جس مقصد کے لیے گھر سے نکلی ہیں اور اتنا کچھ برداشت کیا اللہ تعالٰی آپ کو اس کی جزا دے۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔
نصرت انجم، پاکستان
مختار مائی مجھے آپ پر فخر ہے۔ آپ ایک عظیم اور بہادر خاتون ہیں۔ میں آپ کی خوشی اور کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔
محمد اعجاز، اٹلی
مختار مائی بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ اللہ ان کے کام میں برکت فرمائے۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
ظہیر منہاس، کوٹلی
آپ غریبوں کی مددگار ہیں۔ آپ اس سماجی کام کو جاری رکھیں۔ خدا اور ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
شاہدہ اکرم، ابو ظہبی
آپ کی ڈائری باقاعدگی سے پڑھتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ اللہ آپ جیسی ہمت اور طاقت ہر مظلوم لڑکی کو عطا کرے اور دنیا سے ان درندوں کا خاتمہ کرے جو انسان کو انسان بلکہ لڑکی کو انسان نہیں سمجھتے۔ ڈھیروں دعائیں۔
عامر گجر، رحیم یار خان
پاکستانی قوم کو آپ پر فخر ہے۔ آپ ایک عظیم اور دلیر خاتون ہیں۔ محنت کے ساتھ مزید اچھے کام کرتی رہیں۔ اللہ آپ کی مدد کرے۔
محمد نسیم، پرتگال
آپ ایک بہادر خاتون ہیں۔ اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ بس ہوشیار رہیں اور کامیابی آپ کی ہوگی۔
علی عدنان، دبئی
مختار مائی آپ بہت زبردست کام کر رہی ہیں۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ پاکستانی عورتیں ایسے مسائل پر آواز بلند کر رہی ہیں۔
ناصر احمد، بہاول نگر
آپ ایک بہادر خاتون ہیں اور میں آپ کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہوں۔ ہر پاکستانی عورت کو آپ کی طرح بہادر ہونا چاہیے۔ اگر کبھی آپ کو اس نیک کام کے لیے میری ضرورت پڑے تو مجھے اپنا ساتھی پائیں گی۔
جاویر اقبال عوان، کراچی
یقین کریں کی آپ کی ہمت نے مجھے بھی زندگی میں نئی راہیں دکھائی ہیں۔ میں آپ کی این جی او میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔
ملک ایوب، اسلام آباد
میں آپ کے کام کو سراہتا ہوں۔ آپ اکثریت کی آواز ہیں۔ جو لوگ آپ کے خلاف ہیں وہ آج بھی آندھیرے میں رہ رہے ہیں۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایک قدم اٹھاتے ہیں تو اللہ انہیں دس قدم آگے لے جاتا ہے۔