Tuesday, 03 October, 2006, 10:38 GMT 15:38 PST
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
| سولہ اگست، دو ہزار چھ |
![]() | |
بہر حال، آج سولہ اگست صبح دس بجے کے قریب میری دوست نسیم کے استاد نے بتایا کہ نصراللہ جتوئی عرف پپو، موجودہ ڈسٹرکٹ ناظم قبوم جتوئی کے بھائی کو اس کے سالے (یعنی بیوی کے بھائی) نے گولی مار دی ہے۔ تقریباً بارہ ایک بجے پتا چلا کہ نصراللہ خان کی موت ہوگئی ہے۔ اس کا مجھے بےحد افسوس ہوا اور میں باقاعدہ اس کا منہ دیکھنے گئی۔ کہتے ہیں کہ مر جانے والوں سے گلہ نہیں کرتے مگر یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ اس انسان نے میری ایف آئی آر کو خراب کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور فیض مستوئی جو اس کا گہرا دوست تھا کو آٹھ دن گھر میں رکھا اور بعد میں بھی کھل کر ہر طرح کے لوگوں کی حمایت کرتا رہا۔
مگر اس وقت مجھے اس شخص کی ناگہانی موت پر شدید رنج و غم ہے اور میری دعا ہے کہ اللہ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے، آمین۔
دوسری جانب میری دوست نسیم کی نانی بھی اسی دن وفات پا گئیں۔ ہم نصراللہ جتوئی کے افسوس کے بعد جب نسیم کی نانی کے گھر پہنچے تو لوگ مٹی پر کھجور کے پتوں کی بنی چٹائیوں پر اکٹھے ہوئے بیٹھے تھے۔
کہاں وہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا ہجوم نصراللہ خان کی موت میں شریک اور کہاں ایک غریب کی موت پر چند لوگ۔ میں نے نسیم سے کہا دیکھو غریب اور امیر میں کتنا بڑا فرق اور گیپ ہے۔ بہرحال ایک جاگیردار کی اور ایک غریب کی موت کا افسوس کر کے گھر واپس آگئے۔ کافی رات ہو چکی تھی۔ ہم سو گئے۔
| سترہ اگست، دو ہزار چھ |
یہ تمام تفصیل سننے کے بعد میں نے تھانہ شاہ جمال کے ایس ایچ او سے بات کی تو وہ انتہائی ڈھٹائی سے بولا کہ ’زرینہ بی بی کے ناجائز تعلقات تھے، وہ جھوٹی ہے۔‘ میں نے کہا کہ سچ اور جھوٹ انوسٹیگیشن، میڈیکل اور عدلیہ نے کلئیر کرنا ہے ۔ تم اب صرف اپنا کام کرو۔ عورت کے ساتھ زیادتی کے بعد دوسری زیادتی ہمارے تھانوں سے شروع ہوتی ہے جو کہ عدالت بھی ختم نہیں کر سکتی۔ کیوں کہ پہلی رپورٹ کسی کیسں کی بنیاد ہوتی ہے جو کہ شروع میں خراب کر دی جاتی ہے۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔ مگر میں پرعظم ہوں کہ منظم طریقے سے ناانصافیوں کے خاتمے کے خلاف اپنی زندگی میں لڑتی رہوں گی۔
| اٹھارہ اگست، دو ہزار چھ |
یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔
| ’آپ کیا کہتے ہیں‘ |
مہوش آصف، کینیڈا:
آپ کی ڈائری کے کچھ پیج پڑھنے کو ملے۔ کیا کہوں؟ بس اتنا کہوں گی کہ اللہ آپ کو ہمت اور طاقت دے۔ آمین
شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
مختار جی، آپ کی آج کی ڈائری پڑھی۔ کچھ عجیب سے احساسات ہو رہے ہیں کہ جن کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔ اللہ کی ذات بے نیاز ہے اور اس بےنیازی کا ثبوت آپ کی بےگناہی کو اللہ نے خود آپ کے سامنے ہی پیش کر دیا۔ رہی بات غریبی اور امیری کے فرق کی تو ایسا ہی ہوتا پہ آج کی دنیا میں۔ زرینہ مائی کے واقعہ نے کچھ بھی سوچنے کے قابل نہیں رکھا۔ نہ جانے اس دنیا کے دکھ کب کم ہونگے۔ صرف دعا کی ضرورت ہے اور آپ جیسی ہمت کی، جو پہاڑوں کا دل رکھتی ہے۔ ڈھیروں دعائیں۔۔۔
مدثر اقبال، میاں چنوں:
پاکستان کے وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے عورت کے حقوق کے حصول کے لیے جنگ جاری رکھیں:
’اس شخص سا دنیا میں منافق نہیں کوئی،
جو ظلم کو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا‘۔
سعدیہ، ماڈل ٹاؤن، لاہور:
میں جانتی ہوں کہ عورت کی زندگی بہت سی مشکلوں سے بھری ہوئی ہے، لیکن اس کے پیچھے ہم عورتوں کی بھی کمزوری سامنے نظر آتی ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو مضبوط کر لیں تو میں کہتی ہوں کہ عورت جتنی مضبوط ہے، کوئی مرد نہیں ہو سکتا۔ لیکن عورت کے پاس تعلیم کی اور شعور کی کمی ہے۔ ویسے مختار جی، آپ مبارک کی حقدار ہیں کہ آپ نے اتنی ہمت کی اور اب اچھی زندگی گزار رہی ہیں۔
مرزا جہانگیر، ملتان:
یہ بہت بڑا کام ہے، جو آپ نے کیا ہے۔ کاش پاکستان کی تمام خواتین آپ کی طرح سماج کی بہبود کے یلے کام کرتیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ نے جو توجہ دیہی تعلیم کو دی ہے اسے برقرار رکھیں۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ کسی نے آج تک اس شعبے کو اتنی توجہ نہیں دی، حکومت نے بھی نہیں۔ اور یہی وجہ ہے ہمارے سماج کی زیادہ تر برائیوں کی۔ جاگیردارانہ نظام کی جڑ تعلیم کا فقدان ہے۔ آپ بہت اچھا کر رہی ہیں۔
محمد علی، آسلٹریلیا:
مجھے فخر ہے آپ پر اور جو آپ نے کیا اس پر۔ آپ نے پاکستان کی تمام خواتین کو مستقبل کے لیے امید دی ہے۔