Friday, 08 September, 2006, 13:21 GMT 18:21 PST
مختار مائی
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
| بائیس جولائی دو ہزار چھ |
![]() | |
| تئیس جولائی دو ہزار چھ |
| چوبیس جولائی دو ہزار چھ |
| پچیس جولائی دو ہزار چھ |
| چھبیس جولائی دو ہزار چھ |
میں اپنی سوچوں میں گم بیٹھی تھی کہ میرے چھوٹے بھائی عبدالشکور نے آواز دی میری کزن یعنی خالہ کی بیٹی نسرین نے گھریلو ناچاقی کی وجہ سے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کو میں نے فٹا فٹ ہاسپٹل بھجوا دیا۔ مگر کئی سوچوں نے مجھے گھیر لیا کہ کب تلک یہ سمجھوتوں کے بندھن چلتے ہیں۔
ہمارے ہاں بیٹیوں سے پوچھے بتائے بغیر رشتے ناطے طے کر دیئے جاتے ہیں۔ جبکہ اکثریت بعد میں ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔ میری کزن نسرین کا بھی کچھ یہی مسئلہ ہے۔
| ستائیس جولائی دو ہزار چھ |
| تیس جولائی دو ہزار چھ |
| اکتیس جولائی دو ہزار چھ |
| آپ کے پیغامات |
محمد علی، کوئٹہ
یہ پہلا موقع ہے کہ میں مختار مائی کی ڈائری پڑھ رہا ہوں۔ ان کا کام قابل تعریف ہے اور میں ایک انسان ہونے کی حیثیت سے ان کی سپورٹ کرتا ہوں۔ مختار مائی کو ہمارے اس پیارے ملک پاکستان سے کاروکاری کو ختم کرنے کے لیے محنت کرنی ہوگی۔ میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
علی رضا، امریکہ
مختار مائی پورے پاکستانی قوم کے لیے ایک بےمثال رہنما ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ ان کو اپنے نیک کام میں کامیاب کرے، انشااللہ۔
محمد عاظم، پاکستان
وہ بہادر خاتون ہیں۔ میں خوش ہوں کہ وہ غریبوں کی مدد کر رہی ہیں۔
نادر واصف حمید، ملتان
مختار صاحبہ آپ نے ظالموں کے خلاف آواز اٹھا کر ان کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے اس میں اللہ آپ کو کامیاب کرے، امین۔ میں آپ سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ آپ اپنے اس کام کو پورے پاکستن میں جاری رکھیں۔ آپ مظلوموں کا ساتھ دینگی تو اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور میں آپ کی عظمت کو سلام کرتا ہوں۔
علیم لطیف، آسٹریلیا
پاکستان کے دیہاتوں میں اس جہالت کے نظام کو بدلنے کے لیے انقلاب کی سخت ضرورت ہے۔ آپ جیسے لوگ یہ تبدیلی لا سکتے ہیں۔ آپ لوگ ہر دیہات میں اپنے نمائندے مقرر کریں تاکہ عام خواتین ان کے ذریعے اپنی پریشانیاں حکام تک پہنچا سکیں۔ اور آپ لوگ خود اس چیز کو یقینی بنائیں کہ حکام کو آپ کے نمائندوں کے پیش کردہ معاملات پر فوری ایکشن ہو۔ آپ اچھا کام کر رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستانی دیہاتوں کی ضرورت اس سے کئی زیادہ ہے۔
نیلوفر نور، امریکہ
مجھے آپ پر فخر ہے۔ میں ایک سوشل ورکر ہوں اور ایک دن میری بیٹی نے مجھ سے پوچھا کہ دادی کہتی ہیں کہ پاکستان میں جنسی زیادتی نہیں ہوتی۔ میں نے اسے بتایا کہ اگر پاکستان میں جنسی زیادتی نہیں ہوتی تو اس کے خلاف قانون کیوں بنائے گئے ہیں۔ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے اور آپ میں اس جنگ کا حوصلہ ہے۔ آپ کے ساتھ برا ہوا اور جو لوگ آپ سے کہتے ہیں کہ اس حولناک واقعہ کو بھول جاؤ تو کیا اگر ان لوگوں کے ساتھ یا ان کے کسی پیارے کے ساتھ اسی قسم کا حادثہ ہو تو کیا وہ یہ سب بھول سکیں گے۔ لوگ آپ پر اس لیے تنقید کرتے ہیں کیوں کہ خود ان میں حوصلہ اور جرات نہیں ہے۔
تصور اقبال، دبئی
مس مائی میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں۔ میرے خیال سے آپ ایک بہت ہی نڈر خاتون ہیں۔ میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ آپ کو مزید عزت دے۔
محمد سلطان، پاکستان
میری رائے ہے کہ وہ ایک بہت زبردست کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ ہے باربریت۔ لیکن یہ اسلامی ثقافت نہیں۔ پاکستانی عوام کو اس غیر انسانی فعل سے جو کہ اسلامی تہذیب اور پاکستانی ثقافت کو نقصان پہنچا رہا ہے سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد بھی اس باربریت کا شکار ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ مختار مائی کو زندگی کے ہر معاملے میں ان کی مدد کرے اور ان کو ان کے مقاصد میں کامیاب کرے۔
ایم حنیف عمر، دبئی
میں مختار مائی کا بلاگ پڑھ رہا ہوں اور مجھے بہت خوشی ہے کہ وہ غریبوں کے لیے اتنا اچھا کام کر رہی ہیں۔ اللہ انہیں لمبی عمر عطا کرے۔
عبدالمنان، پاکستان
پاکستان میں بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں سرداری نظام چلتا ہے۔ پہلے یہ نظام ختم ہونا چاہیے اور دوسرا یہ کہ ہماری ترقی اور خوشی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری پولیس ہے۔ سب سے پہلے عورت کے حقوق کو مدنظر رکھا جائے۔ پاکستان میں جتنے حقوق مردوں کو ملے ہیں اس سے زیادہ حقوق عورتوں کو ملنے چاہیے۔ ہمارے ملک کی 45 فیصد منسٹر عورتیں ہونی چاہیے۔ بس میں یہی کہوں گا۔
خان محسن، رحیم یار خان
یہ حقیقت ہے کہ آپ عورتوں کے لیے مضبوط علامت بن کے سامنے آئی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ صدیوں کی گھٹن کے بعد اس علاقے میں کسی نے تو جاگنے کی ہمت کی۔ میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی این جی او کی کوئی شاخ یا کوئی نمائندہ اس علاقے میں ضرور منتخب کریں، جہاں قبائل خواتین کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ میں آپ کو آفس اور مالی طور پر مدد کرنے کے لیے تیار ہوں۔ آپ میری بہن ہیں اور اپنی کاوش سے اس علاقے کی خواتین کو بھی اٹھنے کا حوصلہ دیں۔
حیدر، اسلام آ باد
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں پاکستان میں عورتوں کے لیے ایک اچھا ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
شاہدہ اکرم، ابو ظہبی
مختار جی مجھے یقین نہیں آتا کہ عورت کو کمزور، نازک اور ایک بالکل نرم و نازک چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ لیکن آپ کو دیکھ کر ان سب باتوں پر یقین نہیں رہتا کہ ایک بظاہر کمزور وجود میں اللہ نے اتنی ہمت دے دی ہے، جو فولاد سا جگر رکھتی ہے۔ دوسری طرف جب آپ کی باتیں پڑھتی ہوں تو دل خون ہو کر آنکھوں کے راستے بہہ نکلتا ہے۔ اپنے رب سے آپ کی ہمت اور طاقت کی ہر دم دعا ہے۔
محمد عامر، برطانیہ
میں پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے اپنی ساری تعلیم پاکستان میں ہی حاصل کی لیکن اب ایم ایس سی کر کے برطانیہ میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ میں اکثر آپ کے بلاگز پڑھتا ہوں اور مجھے آپ پر بہت ناز ہے۔ میں آپ کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ اتنے اندھیرے میں روشنی کا دیہ جلائے ہوئے ہو۔
عبدالرحمٰن، کوئٹہ
اس سرداری اور جاگیردارانہ نظام نے ہمارے معاشرے کو آلودہ کر دیا ہے۔ یہ غریب لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور قانون توڑتے ہیں۔ ہمارے ہاں با اثر لوگ قانون سے بالاتر ہیں اور ان پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ کوئی بھی ملک قانون کی پابندی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا اور یہی مسئلہ ہمارے ملک کو درپیش ہے۔