Thursday, 31 August, 2006, 13:50 GMT 18:50 PST
مختار مائی
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
| سولہ جولائی دو ہزار چھ |
![]() | |
| سترہ جولائی دو ہزار چھ |
| اٹھارہ جولائی دو ہزار چھ |
| انیس جولائی دو ہزار چھ |
| بیس جولائی دو ہزار چھ |
| اکیس جولائی دو ہزار چھ |
| آپ کے پیغامات |
حادی حسین، کینیڈا
میں اور میری پوری فیملی آپ کے ساتھ ہے۔ اگر آپ کو کبھی کینیڈا میں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔ میں ہمیشہ آپ کے لیے دعا گو رہوں گا۔
سلیم خان، پاکستان
مجھے آپ کا مشن پسند ہے۔
ضیا قریشی، لاہور
میں آپ کے مشن کی ہمایت کرتا ہوں۔ آپ عورتوں کے لیے پاکستان میں اور ساری دنیا میں ایک علامت کا نشان ہیں۔ ان لوگوں سے مت ڈریں جو ہتھیاروں اور محافظوں کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں۔
عامر شہزاد، پاکستان
مجھے بس آپ سے یہ کہنا ہے کہ اللہ آپ کو اس نیک مقصد میں کامیاب کرے اور جو کچھ آپ بچوں کے لیے کر رہی ہیں ہمیشہ کرتی رہیں۔ اور ایک بات اور کہوں گا کہ سیاست سے دور ہی رہنا، اس میں آ کر بہت سے لوگ بدل جاتے ہیں، ان کے مقاصد بھی بدل جاتے ہیں۔ آپ یہ کام نہ کرنا۔
ظہیر بشیر، پاکستان
کاروکاری کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ میرپور خاص ڈسٹرکٹ میں عورتوں کی تعلیم کے لیے وزٹ کریں۔
عبدالرحمٰن، کوئٹہ
ظلم کسی بھی شکل میں ہو اسے برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ آپ ایک بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ آپ کا کام قابل تعریف ہے۔
عامر ہاشمی، دبئی
اللہ آپ کو خوش رکھے۔ پلیز اپنے اس نیک کام کو پورے ملک میں پھیلائیں۔
عمران حیدر، کینیڈا
میڈم جو آپ کر رہی ہیں اس سے دوسروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔
مرتضٰی چوہدری، یوکے
اللہ آپ کو اس کام کا اجر دے، امین۔
زاہد اقبال، نامعلوم
اللہ آپ کو ہمت عطا کرے۔
عمران جبار، گجرات
وہ جو کر رہی ہیں بہت اچھا اور ٹھیک کر رہی ہیں۔
محمد خلیل، کینیڈا
مختار مائی پنجاب میں جو کچھ اور جتنا کچھ کر سکتی ہیں وہ بہت اچھا کر رہی ہیں۔ لیکن ان کا کام پنجاب اور اس کے ارد گرد کے کچھ علاقوں تک محدود ہے۔ کیا آپ اپنے کام اور مدد کو ملک کے دوسرے حصوں جیسا کہ پاکستان کے شمالی علاقے چترال تک پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہیں؟ چترال میں ایک سال میں عورتوں کے خودکشی کرنے کے پندرہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ اور کوئی یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا کہ ان جانوں کے نقاصان کی وجہ کیا تھی۔
حنیف عباسی، ملتان
مختار مائی جو بھی کچھ کر رہی ہیں وہ قابل تعریف ہے۔ وہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ ہم سب کی دعائیں اور نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
عالمگیر خان، سرحد
محترمہ مختار مائی اسلام علیکم۔ کیسی ہیں آپ؟ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔ پلیز انصاف کے لیے اپنی کوشش جاری رکھیں، شکریہ۔
صفیان، پاکستان
وہ ایک بہت بہادر عورت ہیں۔
افتخار اعوان، ملتان
ہمارے ملک میں عورتوں کی مجموعی صورتحال بری ہے خاص کر کہ مزدور طبقے میں۔ لیکن میں مختار مائی کو ان کی جرات اور صبر پر سلام پیش کرتا ہوں۔
عبدالوہاب، کراچی
سندھ میں کاروکاری کے نام پر روزانہ کوئی نہ کوئی عورت قتل کی جاتی ہے۔ جس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ذاتی دشمنی کے لیے عورتوں کو قربان کیا جاتا ہے ۔ جو عورت آواز اٹھانا چاہتی ہے اس کو بھی مارا جاتا ہے۔ کیا آپ اس کے لیے کچھ کر سکتی ہیں؟ کیا آپ ان کے لیے حوصلہ بن سکتی ہیں؟ میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔
شاہدہ اکرم، ابوظہبی
مختار مائی جی آپ کی ڈائری باقاعدگی سے پڑھ رہی ہوں اور اپنے خیالات کا بھی ساتھ ساتھ اظہار کیا لیکن میری آرا کو جگہ نہیں مل سکی۔ وہ کوئی بات نہیں لیکن آپ کی ڈائری سے جس دکھ کی انتہا کا سامنا ہوا وہ بیان سے باہر ہے۔ عورت کے ساتھ دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، آپ کی ہمت کو میں سلام کرتی ہوں۔ آپ نے اتنے بڑے دکھ کے ساتھ خود کو مضبوط کیا اور عورتوں کی بے بسی کے اس دور میں بھی ہمت کا مظاہرہ کیا۔ شمشاد بی بی کے واقع کے بعد اب لاش کی بےحرمتی کا واقعہ ایک دل حلا دینے والا واقعہ ہے۔ اے کاش کہ دنیا ان درندوں سے خالی ہو جائے جو نہ زندہ عورت کو بخشتے ہیں اور نہ ہی مردہ عورت کی کوئی حرمت ہے۔ کہنے کو کچھ نہیں کہ الفاظ بھی ختم ہیں۔
ثناء خان، کراچی
آئی لو یو!