Saturday, 12 August, 2006, 13:53 GMT 18:53 PST
لبنان میں موجود امدادی ایجینسیوں کا کہنا ہے کہ انہیں جنوبی لبنان تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث وہ مایوسی کا شکار ہیں۔
امدادی سامان کو اردن سے ہوائی جہاز اور شام سے سڑک کے ذریعہ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ امدادی سامان کو یورپ اور اردن سے قبرص پہنچایا جا رہا ہے اور وہاں سے بحری جہازوں کے ذریعہ ان اشیاء کو بیروت پہنچایا جاتا ہے۔
بیروت سے پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کی ترجمان اسٹرڈ وان جنڈرن سٹارٹ نے پچھلے ایک ہفتے میں ہونے والے امدادی کاموں اور ان میں پیش آنے والی مشکلات کو کچھ اس طرح سے قلم بند کیا ہے۔
| ہفتہ، پانچ اگست: |
یو این ایچ سی آر امان سے امدادی اشیاء اردن کے ملٹری طیاروں سی 130 کے ذریعہ بیروت ہوائی اڈے پہنچانے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ کل تینوں پلوں اور بیروت کے شمال میں ایک اہم راستے کی تباہی کے بعد ہم نے بات چیت کے ذریعہ ان فلائٹوں میں سامان لانے کے لیے جگہ حاصل کرنے کی بہت کوششیں کی ہیں۔
ہمیں کہا گیا تھا کہ ہمیں دو فلائٹوں میں جگہ مل سکتی ہے ایک پیر کو اور دوسری منگل کی صبح۔ ان میں سے ایک جہاز میں نو ہزار کمبل اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے ادوایات اور اگلے روز دوسری فلائٹ پر تین ہزار چھ سو گدے پہنچائے جانے کا منصوبہ بنایا گیا۔
| پیر، سات اگست: |
اس دن کسی بھی جہاز پر جگہ نہیں مل سکی۔
| منگل آٹھ اگست: |
ابھی تک کسی بھی فلائٹ پر جگہ نہیں مل سکی ہے۔
| بدھ، نو اگست: |
آج نو بجے آخر کار اچھی خبر یہ ملی ہے کہ کل صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بج کر دس منٹ پر ایک جہاز امان سے یہاں پنچے گا۔ اور یہ خبر سن کر ہم نے فوراً تیاری شروع کر دی۔
| جمعرات، دس اگست: |
لیکن دوسرا جہاز جو دو بج کر دس منٹ پر متوقع تھا بیروت ائرپورٹ پہنچ تو گیا لیکن پھر ائر پورٹ کے اوپر ہی چکر کاٹنے لگا اور حفاطتی اقدامات کے پیش نظر اسے واپس چلے جانے کا حکم دے دیا گیا۔
اس دوران دمشق میں یو این ایچ سی آر کے گودام سے ٹرکوں پر سامان لادا جا رہا تھا۔ یہ سامان آج دوپہر شام اور لبنان کی سرحد تک پہنچ جانا چاہیے تھا جہاں سے اقوام متحدہ کے چھ سے آٹھ ٹرکوں میں منتقل کر کے دوپہر تک بیروت لایا جانا تھا۔ لیکن اسرائیلی حکام کی جانب سے کسی بھی قسم کی کلیرنس نہ ملنے کے باعث دوپہر کو ان ٹرالوں کو دمشق کے گودام پر ہی روک کر رکھنا پڑا۔
آج ایک فلائٹ کوپن ہیگن سے پینتالیس ٹن اشیاء کی سپلائی لے کر لارناکہ، قبرص پہنچنی تھی۔ اس کے علاوہ مزید دو جہاز پینتیس ٹن سامان جس میں خیمے، گدے، چولہے اور لالٹین وغیرہ جیسی اشیاء شامل ہیں لے کر لارناکہ ائرپورٹ پر متوقع تھے۔ اردن سے ایک اور فلائٹ پیر کے روز متوقع ہے۔
اس امدادی سامان کو لارناکہ میں اقوام متحدہ کے بحری جہازوں میں لاد کر اتوار کے روز بیروت کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔
| جمعہ، گیارہ اگست: |
![]() | |
| اردن کے ملٹری طیارے بیروت ائرپورٹ پر امداد پہنچا رہے ہیں |
اس کے علاوہ اگر دمشق سے آنے والے سامان کو اسرائیلی حکام کی جانب سے ہفتے کے دن کے لیے کلیرنس مل جاتی ہے تو کل صبح اقوام متحدہ کے ٹرک سرحد پر جا کر وہ امدادی سامان وصول کر لیں گے۔ شام سے یو این ایچ سی آر کا عملہ بھی وہاں موجود ہو گا جو اس منتقلی کی نگرانی کرے گا اور سرحدی
معامالات سے بھی نمٹ لے گا۔
اصولی طور پر تو یہ سامان یو این ایچ سی آر کے بندرگاہ پر واقع گودام پر ہی اتارا جانا چاہیے لیکن اگر سرحد پر سامان کی منتقلی اور باقی معاملات بغیر کسی رکاوٹ کے حل ہو جائیں تو یہ سامان ہفتے کی دوپہر تک بیروت پہنچ جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ ایک فرانسیسی جہاز یو این ایچ سی آر کی امداد کی لبنان میں سپلائی کے لیے پانچ ٹرک لے کر مرسیل کی بندرگاہ سے بیروت کے لیے روانہ ہونے والا ہے۔ ٹرکوں کے علاوہ یہ جہاز کمبل، پلاسٹک رولز، جیری کینز اور کچن کا سامان بھی لے کر آئے گا۔