Monday, 31 July, 2006, 15:05 GMT 20:05 PST
بی بی سی نیوز ویب سائٹ کے صحافی مارٹن اسیر ایک عام لبنانی کنبے کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں جو حملوں سے بچنے کی لیئے لبنان کی پہاڑیوں میں پناہ گزیں ہے۔ لبنان کو اب تک کی تاریخ کی شدید تریں جنگوں میں سے ایک کا سامنا ہے جس میں اسرائیلی افواج اور حزب اللہ آمنے سامنے ہیں۔
| جنگ نہیں بھولتی |
![]() | |
بشیر صاحب کا خاندان ان دنوں اپنی جان کی سلامتی کے لیئے پہاڑیوں کے درمیان آباد فارایا میں مقیم ہے۔
فارایا سمندری سطح سے دو ہزار میٹر کی اونچائی پر واقع ایک خوب صورت سپورٹس رزورٹ ہے اور بشیر کا کنبہ یہیں پر قیام پذیر ہے۔ عام طور پر فارایا میں وہی لوگ آتے ہیں جو سمندری علاقوں سے دور اپنی چھٹیاں گزارنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس بار یہاں متوسط طبقے کے کافی لوگ آئے ہیں جو خود کو اسرائیلی حملے سے محفوظ رکھنے کے لیئے یہاں آ گئے ہیں۔
حالانکہ یہ جگہ جنگ کے علاقوں سے کافی دور ہے لیکن اسرایئلی جنگی طیارے فارایا سے ہو کرگزرتے ہیں جس کی وجہ سے جنگ اور اسرائیلی حملے یہاں کے لوگوں کے ذہن کبھی دور نہیں ہو پاتے۔
جمعہ کو رات بھر اسرائیل کے ایف سولہ لڑاکو طیارے فارایا سے گزرکر حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کرتے رہے۔ بشیر کی بہن نے کہا کی ان کے بچے لڑاکو طیاروں کے شور کے خوف سے پوری رات نہیں سو سکے۔
| رابطے قائم رکھنا |
![]() | |
بشیر ایک بین الاقوامی بزنس مین ہیں۔ سنیچر کی صبح بشیر کے موبائیل فون پر کئی بین القوامی کالز آئیں لیکن چونکہ وہ کام کے اوقات کے باہر فون نہیں اٹھاتے، انہوں نے لائن کاٹ دی۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ فون کام کے سلسلے میں نہیں تھے بلکہ ان کے فون پر بظاہر ’حکومت اسرائیل‘ کی طرف سے ایک میسیج چھوڑا گیا تھا جس میں انہیں ’پرائے‘ لوگوں کو اپنے ملک سے نکالنے اور ’حزب اللہ کے کنٹورل والے علاقوں‘ میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
| زندگی نہیں رکتی |
![]() | |
ہر ایک کی زبان پر اسرائیلی بمباری، پیٹرول کی سپلائی اور سفارتی کوششوں سے امیدوں کی باتیں ہیں۔
کھانے کے بعد کچھ لوگ اس تاریخی پل سے ہو کر گزرتے ہیں جو کروڑوں سالوں سے جاری پتھروں پر پانی کے گرنے کے فتری عمل سے بنا ہے۔ میں بشیر کے ساتھ اس پل پر گیا، تو پیچھے سے ان کی بیوی نے آواز دی ’جلد واپس آجانا۔ لبنان میں بس ایک یہی پل ہے جسے اب تک اسرائیلوں نے بخش رکھا ہے۔‘
| شدید نقصان |
![]() | |
بشیر صاحب خود عیسائی ہیں جبکہ ان کی اہلیہ سنی مسلم۔ ان کی شادی ملک سے باہر ہوئی تھی۔ دونوں ہی حزب اللہ کے حامی نہیں ہیں۔ تاہم عام شہریوں اور ملک کے انفراسٹرکچر پر جاری اسرائیلی بمباری سے دونوں نہایت ہی غم زدہ اور غصے میں ہیں۔
بشیر صاحب کا کنبہ بیروت میں رسٹوران کے کاروبار سے وابسطہ ہے ۔ اس جنگ کے سبب بیروت میں ان کا رسٹوران بند ہو گیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اس سال انہیں تقریبا تیس ہزار ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
بشیر صاحب نے مجھے بتایا ’ ہم بیروت میں تین سو مربعہ میٹر کا فلیٹ چھوڑ کر اس چھوٹی سی جگہ میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم لوگ یہاں کتنی دیر تک گزارا کر پائیں گے۔‘
بشیر نے کہا، ’جنگ کافی دنوں تک چلنے کی حالت میں ہمارے پاس بیروت واپس جاکر اسرائیلی بموں کا سامنا کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہوگا جہاں کم از کم ہم کسی طرح کھانا حاصل کر سکیں گے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب کھانے کے لیئے وہاں کچھ ہو۔‘