Friday, 28 July, 2006, 14:03 GMT 19:03 PST
لبنان اور اسرائیل میں عام لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد خطے میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ ان میں سے کچھ کی کہانیاں ہیں۔
| نادین آدی، طائر، لبنان |
![]() | |
یہ عمارت میرے والد کی ہے، اس لیے وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔ میرے والد اس عمارت میں فلیٹز لوگوں کو کرایہ پر دیتے ہیں۔ اس ہفتے اقوام متحدہ کے جن چار مبصرین کو اسرائیل نے ہلاک کر دیا ان میں سے ایک ہماری عمارت میں رہتے تھے۔ جارنو کا تعلق فِن لینڈ سے تھا۔ وہ ہماری عمارت کی دوسری منزل پر رہتے تھے۔
ہمارا شہر پوری طرح اجڑ گیا ہے۔
ہماری عمارت میں بمباری سے بچنے کے لیے ایک پناہ ہے مگر ہم نے اس میں ان لوگوں کو جگہ دے دی ہے جو جنوب سے بھاگ کر یہاں پہنچے ہیں۔ ہماری حالت پھر بھی بہت بہتر ہے۔
کل میں برآمدے پر بیٹھی تھی کہ ہماری عمارت سے کوئی سو میٹر دور دوسری عمارت پر اسرائیلی بمباری ہوئی۔ میں اپنے واک مین پر جان بان جووی کے گانے سن رہی تھی کہ دھماکے کے زور سے میں اچانک دور جا کر گری۔ وہ رہائشی عمارت تھی۔ نہ جانے اسے کیوں نشانہ بنایا گیا۔
میری ماں بہت پریشان ہیں۔ جوں ہی بمباری شروع ہوتی ہے وہ پہلی منزل کی سیڑھیوں پر جا کر بیٹھ جاتی ہیں۔ ہمارے پاس اگلے دو ماہ کے لیے کھانے پینے کی اشیا ہیں لیکن نہ جانے آگے کیا ہوگا۔
حزب اللہ کی حمایت |
حزب اللہ صرف اپنی زمین کا دفاع کر رہی ہے۔ اصل دہشت گرد اسرائیل ہے جو معصوم بچوں کا قتل کر رہا ہے۔‘
| زیو پرل، سافید، شمالی اسرائیل |
![]() | |
ہماری معیشت پر بھی بہت برا اثر پڑا ہے۔ سب پیسے ختم ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ بازار تک بند ہو گئے ہیں۔ سارا شہر بند ہے: بینک، پوسٹ آفس ، زیادہ تر دکانیں۔ ایک آدھ سپر مارکیٹ چند گھنٹوں کے لیے کھل جاتا ہے۔
میں کچھ رضاکاروں کے ساتھ کام کر رہا ہوں جو دوسرے حصوں سے امدادی سامان یہاں تک پہنچاتے ہیں۔ میرا چھوٹا بیٹا تل ابیب سے کھانے پینے کی اشیا لیے کچھ لوگوں کے ساتھ آیا۔ مجھے بہت فخر ہے اپنے بیٹے پر۔
میں شہر کا میئر ہوا کرتا تھا اس لیے میرے لیے اہم ہے کہ میں یہیں رہوں۔ اگر لوگوں نے دیکھ لیا کہ میں بھی چلا گیا ہوں تو انہیں لگے گا کہ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔
میں نہیں مانتا کہ جب دو ہفتوں میں سولہ سو راکٹ آپ پر داغے جائیں تو ایسی صورت میں سب ٹھیک ہے۔ کل میرے گھر سے صرف سو میٹر دور ایک راکٹ گرا۔ اب تک سافید میں راکٹ حملوں میں ایک شخص ہلاک اور بیس زخمی ہو چکے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ سب لوگ ایک دن واپس آجائیں گے۔ لیکن اگر جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا اثر برقرار رہا تو شاید لوگ یہاں خود کو محفوظ نہ سمجھیں۔
کوئی بھی مغربی طاقت حزب اللہ سے لڑنا نہیں چاہتی۔ یہ ہمیں خود ہی کرنا پڑے گا۔‘
| جارج بتار، بیروت، لبنان |
![]() | |
میں عیسائی تھا مگر شادی کے بعد میں نے اسلام قبول کر لیا۔
اگر حزب اللہ کو ایران سے پیسے ملتے بھی ہیں تو کم از کم وہ یہ پیسے لوگوں تک تو پہنچاتی ہے۔ حزب اللہ ہمیں عزت دیتی ہے جو بہت اہم ہے۔
یہاں بیروت میں پھل اور سبزیاں بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔ بجلی بھی کاٹ دی گئی ہے۔ حالات بہت دشوار ہیں۔ لیکن پیٹرول کی قیمت اب اتنی زیادہ نہیں۔ میں ہر دو تین دن بعد اپنے فلیٹ کو دیکھنے جاتا ہوں۔ یہ دیکھنے کے وہ اب تک کھڑا ہے یا نہیں۔‘