Wednesday, 26 July, 2006, 14:42 GMT 19:42 PST
لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد سے جہاں سفارت کاری کے تمام مواقع جاتے رہے وہاں بیروت کے سلیم خوری اور شلومی، اسرائیل کے گورڈن عور ایک دوسرے سے ای میل کے ذریعے رابطہ قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ سلسلہ ان کے خطوط پر مبنی ہے:
| چودہ جولائی: سلیم خوری کا خط: |
![]() | |
ڈیئر گورڈن!
میں نہیں سمجھتا کہ اسرائیل کا مقصد کبھی بھی حزب اللہ سے لڑنا رہا ہے۔ پہلے دن سے اسرائیل صرف ہمارے شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے درپے رہا ہے۔
حزب اللہ کے جنگجو جنوب میں ہیں جہاں اسرائیل نے ایک ٹینک بھی نہیں روانہ کیا۔ لبنان نے اپنے بزرگ، بچے اور شہری کھوئے ہیں جو صرف جنگ سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ زندگی رک گئی ہے۔خدا جانے اسرائیل کے دو فوجیوں کے لیے کتنی بڑی جنگ لڑی جائے گی۔ جبکہ حزب اللہ نے فوجی اغوا کیے نہ کہ شہری۔
ایسا پھر بھی ہوسکتا ہے |
سو وہ بیروت کو دوبارہ تباہ و برباد کردیں گے، جیسا کہ انہوں نے انیس سو بیاسی میں کیا تھا لیکن ہم نے تب بھی اسے پھر تعمیر کرلیا تھا اور اب بھی کرلیں گے۔ شاید اسرائیل کو یاد کرنا پڑے گا کہ لبنان ان کے فوجیوں کے لیے قبرستان بن گیا تھا، اور ایسا دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔
سلیم خوری
| چودہ جولائی، گورڈن عور کا خط: |
![]() | |
ڈیئر سلیم!
میں شلومی میں لبنانی سرحد پر رہتا ہوں اور حزب اللہ کے مورچے اپنی بالکنی سے دیکھتا ہوں۔ شلوم ان بستیوں میں سے ہے جس پر بدھ کی صبح بمباری ہوئی اور جواباً اسرائیلی فوجی اس سرحد پر پہنچے جہاں سات مارے گئے اور دو اغوا کر لیےگئے۔ آخر کس لیے؟
کیا نصراللہ (حزب اللہ کے سربراہ) عرب دنیا میں اپنا مقام بہتر بنانا چاہتے ہیں؟ میں یہ تو نہیں مان سکتا کہ ان کا مقصد لبنانی عوام کی فلاح تھی۔ اسرائیل کے پاس راستہ ہی کیا تھا؟ کیا ہم کہتے: ’زبردست جنابِ نصراللہ۔‘
لبنان کی ذمہ داری |
گورڈن عور
| باقی خط پڑھیے: |