Wednesday, 26 July, 2006, 09:46 GMT 14:46 PST
غاضہ متری اس وقت اپنے والدین کی دیکھ بھال کرنے لبنان پہنچیں جب وہاں اسرائیلی بمباری جاری تھی۔ وہ چاہتیں تو برطانیہ واپس آسکتی تھیں لیکن انہوں نے وہاں رہ کر اپنے والدین اور دوسرے پریشان حال لوگوں کی مدد کرنا ہی بہتر سمجھا۔ انہوں نے ہمارے قاریئن کے سوالوں کے جواب دیئے ہیں۔
| کارمین اردا، بگوٹا، کولمبیا: |
غاضہ متری:
پیاری کارمن، میں ان لوگوں سے زیادہ بہادر نہیں ہوں جن کے مکانات تباہ ہو گئے اور جو سکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ میرے والدین ابھی تک سلامت ہیں اور فی الحال یہ ممکن نہیں کہ انہیں یہاں سے نکالا جا سکے۔ میرے والد بیمار ہیں اور دل کے مریض ہیں۔ وہ یہاں سے کہیں جانے کی حالت میں نہیں۔ میرے پاس تو کئی راستے ہیں لیکن مجھے ان لبنانیوں کی فکر ہے جن کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔
| نیل کنٹھ، نیپال: |
غادا متری: پیارے نیل کنٹھ، شاید آپ نے بہادری کے وہ کارنامے نہیں سنے جسے یہاں کے لوگ انـجام دے رہے ہیں۔ وہاں پر ملکی اور غیر ملکی دونوں لوگ امداد کی ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس کام میں لگی ہوئی ہیں۔ یہاں کی سرکار کے لیے یہ ایک مشکل کام ہے تاہم اس نے سکولوں کو بند کر کے اس میں لوگوں کو پناہ دینے کی کوشش کی ہے۔ فی الحال ساٹھ ہزار لوگ سکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
| مال لٹل، برطانیہ: |
غاضہ متری: پیارے مال، میری سمجھ سے ٹونی بلیئر کو ایک اتفاق رائے بنانی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے نہ کہ ہر معاملے میں امریکہ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ امریکہ نے تو عراق میں جنگ کے دوران اپنےملک کے ہزاروں عوام کا بھی کوئی خیال نہیں کیا جنہوں نے سڑکوں پر آکر جنگ کی مخالفت کی تھی۔
| زیاؤ، برطانیہ |
غاضہ متری:
بیروت کے لوگوں میں غصہ ہے۔ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ حالات بدلیں گے۔ ہاں یہ یقینی ہے کہ وہ ان حملوں کو نہیں بھولیں گے۔ اسرائیل نے لبنان کی نئی نسل کے لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے نفرت پیدا کر دی ہے۔