Tuesday, 25 July, 2006, 13:50 GMT 18:50 PST
لبنان اور اسرائیل میں عام لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد خطے میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ ان میں سے کچھ کی کہانیاں ہیں۔
| احلم دیرانی، طالب علم، قسانربا، بقا، لبنان |
![]() | |
جنوبی لبنان کا ایک خاندان ہمارے ہاں ٹھہرا ہوا ہے۔ ان کاگھر تباہ ہو چکا ہے۔ وہ ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں۔ وہ جب تک چاہیں ہمارے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ وہ چار دن پہلے یہاں پہنچے تھے۔
بے شک یہاں بھی وہ خطرے سے دور نہیں۔ لیکن وہ شمال میں کسی عیسائی گاؤں تک بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیل سڑک پر چلتی ہوئی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
یہاں قریب ہی بہت سے بم دھماکے ہوئے ہیں، خاص طور پر آج صبح۔ میں بہت تھکا ہوا ہوں لیکن پھر بھی خوف کے مارے نیند نہیں آتی۔ ان سب حالات میں لوگوں کی ہمت جواب دے رہی ہے۔ آج میں نے بالبیک میں بمباری ہوتے ہوئے دیکھی۔ یہ بم کچھ الگ طرز کے لگ رہے تھے اور ان کے پھٹنے کے بعد گہرے سرمئی رنگ کے بادل آسمان پر پھیل رہے تھے۔ میری آنٹی وہاں رہتی ہیں لیکن وہ صحیح سلامت ہیں۔
انسانی حقوق کے بارے میں سوچ کر بہت تکلیف اور بےچینی ہوتی ہے کیونکہ ہم ان پر عمل تو کر نہیں سکتے۔ ہم سیاسی کھیل کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جن ملکوں کی لبنان میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ ہمیں جلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
| مارٹین گراسمن، افولہ، اسرائیل |
![]() | |
میں کہیں نہیں جاؤں گی کیونکہ میرے خیال میں جتنا ہو سکے ہمیں اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنی چاہیے۔ یہاں بہت گرمی ہے اور ہر وقت گھر کے اندر نہیں رہا جا سکتا۔ ہم باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ باہر میزائیلوں کی بارش ہو رہی ہے۔
میرے خیال میں حزب اللہ کا نشانہ اچھا نہیں ہے۔ بدھ کو انہوں نے نازریتھ میں دو عرب اسرائیلیوں کو مار ڈالا۔ اس سے نہ صرف یہودیوں بلکہ تمام لوگوں میں خوف پھیل رہا ہے۔ میں ایسے علاقے میں رہتی ہوں جہاں آدھے لوگ عرب ہیں اور آدھے یہودی۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے ہیں اور ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ نصراللہ (حزب اللہ کے رہنما) اس بھائی چارے کو کسی نہ کسی طرح سے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایسے معاشرے کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ زندگی گزار رہے ہیں۔
| فووآد توباجی، بیروت، لبنان |
![]() | |
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں ہیں۔ قیمتوں میں تین سے چار گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ آج میں بازار سے ٹیونا کے چھ ڈبے، کچھ ہیومس اور روٹی خرید کر لایا۔ سب ملا کر ایک سو ڈالر خرچ کرنے پڑے۔
ہم فی الحال گزارہ تو کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس صرف تین ہفتے تک کھانا خریدنے کے پیسے ہیں۔ دکانوں میں چند بنیادی ضروریات کی چیزیں تو مل رہی ہیں لیکن جب وہ ایک دفعہ ختم ہو جاتی ہیں تو دوبارہ نہیں مل سکتیں کیونکہ ان کی سپلائی رک چکی ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو نہ جانے ہم کیا کریں گے۔
ہماری طرح کے ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نکل گئے ہیں۔ یہاں افواہیں پھیل رہی تھیں کہ خالی گھروں پر یا تو دوسرے لوگ قبضہ کر رہے ہیں اور یا پھر انہیں لوٹا جا رہا ہے۔ میں بھی اپنے گھر کا جائزہ لینے کے لیے واپس گیا تھا۔ میری بہن، جو کہ آج کل ہماری والدہ کے ساتھ رہ رہی ہے، وہ بھی اپنے گھر کی حالت دیکھنے گئی تو اسے اپنا گھر مکمل طور پر تباہ شدہ ملا۔ کم از کم میرا گھر ابھی تک اپنی جگہ کھڑا ہے۔