Saturday, 20 May, 2006, 16:48 GMT 21:48 PST
وسعت اللہ خان
بی بی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ستائیس مئی: ایک اور انتہا پسندی
پہلا رویہ
ہلو ہلو میں آگیا ہوں۔۔۔۔۔ اچھا یہ تو بہت زبردست ہوگیا۔ سالے اتنے دن بعد آئے۔۔۔ ویسے کتنے دن کے لئے آئے ہو۔۔۔۔۔ چار روز کے لئے ۔۔۔۔۔بس اتنے سے دنوں کے لئے۔ بھئی یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی۔۔ اچھا کہاں ٹھہرے ہو ۔۔۔۔ ہوٹل میں۔ ارے ہوٹل میں کیا ضرورت تھی جب تمہیں معلوم ہے کہ یہاں تیرے یار کا گھر بھی ہے۔ خیر میں بھی جب کہیں جاتا ہوں تو ہوٹل کو ترجیح دیتا ہوں۔ کیونکہ کسی کے ہاں رکنے سے اپنی بھی آزادی محدود ہوجاتی ہے اور گھر والے بھی بےچارے تکلفات میں پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اب یہ ہے کہ کل تم لنچ کے بعد میرے دفتر آ جاؤ چائے ساتھ پئیں گے ۔۔۔دیکھو پہلے کی طرح کوئی بہانہ نہیں کرنا اور آ ضرور جانا۔ پھر تفصیلی گپ شپ کریں گے۔ اوکے۔۔۔۔اوکے۔۔۔ اور ہاں اگر کوئی بھی ضرورت ہو یا کہیں آنا جانا ہو تو مجھے بلاتکلف فون کردینا۔ سمجھ گئے نا۔۔۔۔ جی سمجھ گیا۔۔۔۔۔۔
دوسرا رویہ
چیچہ وطنی کے نواح میں چار لوگوں نے ایک شخص کو کھانے کی دعوت دی اور انکار پر اسے گھر میں گھس کر نہ صرف مارا بلکہ توڑ پھوڑ بھی کی۔ بات پولیس کچہری تک پہنچ گئی۔
اسی سے ملتی جلتی ایک خبر قبائیلی علاقے خیبر ایجنسی سے آئی جہاں تبلیغی جماعت کے ایک گروہ نے جب اپنے لئے کھانا پکانا شروع کیا تو مقامی لوگوں نے انہیں سمجھایا کہ وہ ایسا نہ کریں۔ یہ علاقے کے لوگوں کے لئے غیرت کا مسئلہ ہے کہ کوئی مہمان خود کھانا بنائے۔ جب تبلیغی جماعت والوں کی سمجھ میں بات نہیں آئی تو ان سے کہا گیا کہ وہ بستر بوریا گول کریں اور کہیں اور جاکر کھانا پکائیں۔
میں زندگی میں میزبانی کی دو انتہاؤں سے گھبرا آ کر دو دفعہ فرار ہوا ہوں۔
ایک دفعہ اسلام آباد میں بچپن کے ایک دوست نے بصد اصرار گھر پر روکا لیکن وہ بے چارہ صبح نوکری پر جاتا تو شام گئے لوٹتا اور میں اسکے نوکر سے تکلف میں چائے بنانے کا بھی نہیں کہہ پاتا۔ دو دن بعد میں فرار ہوگیا اور فون پر دوست سے ایک ایمرجنسی کا بہانہ بنا کر معذرت کی۔
دوسری دفعہ یہ ہوا کہ قبائیلی علاقے کرم ایجنسی میں چار روز قیام کے دوران مجھے گوشت کھلا کھلا کر تقریباً ہلاک کردیاگیا۔ جب بھی میں اپنے میزبانوں سے سبزی یا گوشت کی فرمائش کرتا وہ باجماعت اس طرح ہنستے جیسے میں دنیا کا سب سے بڑا مسخرہ ہوں۔ چوتھے دن میں بیماری کا بہانہ کرکے وھاں سے بھاگ نکلا۔
عجیب بات ہے کہ یہاں ہر شخص چاہے وہ شہر میں رہتا ہو یا گاؤں میں، مہمان کی خاطر تو کرنا چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پر۔ اسکے نتیجے میں مہمان نوازی تو باقی رہ جاتی ہے مگرمہمان نکل لیتا ہے۔
| آپ کی رائے |
شاہدہ اکرم، ابو ظہبی
زبردست، مزہ آ گیا وسعت بھائی۔ آپ نے اپنے بلاگز میں ہم سب کو بہت ورائیٹی دی ہے، لیکن اس طرح کی ورائیٹی بہت کم لوگوں میں ملتی ہے۔ میرا مطلب آپ کی تحریروں سے ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ کہ مصنفوں کی تھوڑی سے تحریر پڑھنے کے بعد آپ کو علم ہو جاتا ہے کہ یہ اس مصنف نے لکھی ہوگی، آپ کی تحریر بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ آپ کی تحریریں بھی اس صف میں آ چکی ہیں۔ لیکن ایک بات ہے، مہمان نوازی کی بات جانے دیں، انسان کا سوچیں جو کسی بھی حال میں شکر گزار نہیں ہوتا۔ کوئی آپ کو اوآئیڈ کرے تو وہ بات بھی آپ کو دکھی کرتی ہے اور جو کوئی کھلا کھلا کر پاگل کر دے وہ بھی ناقابل برداشت! کیا کہیں گے اس بات کو؟!
اظفر خان، کینیڈا
مسئلے کا تجزیہ، اور اس تجزیے پر تجزیہ چلتا رہتا ہے مگر وسعت صاحب اب آپ جیسے لوگوں کو مسائل اور اس کے حل کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔۔۔
محمد نصیر، راولپنڈی
میں نے آپ کا کلام پڑھا، بہت خوشی ہوئی۔۔۔
| بیس مئی: ’فرنٹ کمپنی‘ |
![]() |
| آپ کی رائے: |
محمد یوسف اقبال، دوبئی:
واہ کیا بات کی ہے آپ نے۔ میں نے پہلے بھی آپ کے بہت سے کالم پڑھے ہیں مگر مجھے سچ پوچھئے تو کبھی اتنا متاثر نہیں کیا۔ یہ سب پڑھ کر رونا آتا ہے اور اللہ سے شکایت کرنے کو بھی دل کرتا ہے کہ ہمارے اوپر کیسے جابر اور ظالم حکمران بٹھا دیئے۔ ہم نے پاکستان سٹڈیز میں پڑھا تھا کہ حکمران اللہ کی اطاعت میں کام کرتے ہیں مگر یہاں تو سب الٹا ہے۔
علیم اختر، گجرات:
یہ باتیں تو سچی ہیں لیکن اس کا کوئی پریکٹیکل حل تو بتائیے۔
عبدالوحید خان، برمنگھم:
آپ نے جس طرح معاشرے کو لگی دیمک کی نشاندھی کی ہے، اس پر مبارکباد لیکن یہ سب کچھ پڑھ کر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگے گی۔ تمام مفاداتی گروہ ایک دوسرے کا تحفظ کررہے ہیں اور غریب عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ انہیں بھول گیا ہے کہ ایک سب سے بری ذات بھی ہے جس کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔
جاوید اقبال ملک، چکوال:
آپ نے خوب لکھا، عوام دشمن مافیا کھول کر رکھ دیا۔ اس پر اب تبصرہ بھی بے معنی ہے۔