Saturday, 20 May, 2006, 13:37 GMT 18:37 PST
شیما کمال
کراچی
انتیس مئی: اسٹاپ
چوڑی چوڑی سڑکوں اور اسے سے بھی زیادہ چوڑے ہوتے ہوئے اے کلاس باشندوں والے کراچی میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بسوں میں بیٹھ کر، کھڑے ہوکر، لٹک کر اس شہر میں ہنستے بستے ہیں اور اس کی حقیقی پہچان اور شناخت ہیں۔
آئیے آج آپ بھی بس کے اس سفر پر تشریف لے چلئے۔
ہر اسٹاپ کا ایک منفرد نام ہے۔ دل کی گہرائیوں سے نکلا ہے ہر موڑ اور چورنگی کا اسمِ گرامی۔۔۔ راستے بھر ہوں گے نئے تجربے۔۔
یہ ہے ’ڈاکخانہ‘، یہاں حد سے زیادہ رش کی وجہ سے آپ کا خانہ خراب ہونے کے امکانات قطعی روشن ہیں۔ اگر بہن بھائیوں سے بہت دن سے نہیں ملے تو ’بھائی جان چوک‘ کس لئے ہے۔ یہ میل ملاپ کا اسٹاپ ہے۔ اگر محبوبہ محبت جتانے سے گریز کر رہی ہے تو ’پٹنی اسٹاپ‘ آزما کر دیکھئے، شاید پٹ جائے۔ اگر آپ کو تکلیف برداشت کرنے کی عادت پر کچھ زیادہ ہی غرور ہے، تو یاد رکھئے ’ناگن چورنگی‘، یہاں کا کاٹا پانی نہیں مانگتا۔ ڈانس کا شوق ہو تو تگنی کا ناچ ناچئے ’ڈسکو موڑ، پر۔۔۔
قیدِ حیات کے معنی معلوم کرنے ہوں تو ’جیل چورنگی‘ کا ایک پھیرا آپ کی قسمت پھیر سکتا ہے اور اگر اچھی اردو کو کان ترس گئے ہیں اور آپ ’پنگے‘ ’دنگے‘ ’آفت‘ اور چھکاس‘ کی بکواس سے تنگ ہیں تو ہاں اسی موڑ پر ہے ’یوپی موڑ‘۔ اگر آپ کی شخصیت ہنس مکھ ہے اور زمانے کی سختیوں نے اس میں کڑواہٹ نہیں گھولی تو ’کریلا اسٹاپ‘ پر رک کر دیکھئے، مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔ آپ کو بھی خواہ مخواہ میں عجلت میں رہنے کی عادت ہو تو صرف دو منٹ کے لیے رکئے گا ’دومنٹ چورنگی‘ پر۔ گریہ و نالہ کرنے کو دل بیقرار ہے، زندگی دکھوں سے دوچار ہے تو یہ رہا ’نالہ سٹاپ‘، گریہ کرنا یا گرنا۔۔۔ٹوٹل آپ کی مرضی۔
تعلیم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں، سو پیشِ خدمت ہیں ’پیلا اسکول‘، ’کالا اسکول‘ اور ’سفید اسکول‘۔ فیس بے حد مناسب اور فیس (face)کرنا آپ کا کام۔ سسرال والوں سے تعلقات کشیدہ ہوں تو آئیے ’مکا چوک‘ پر اور ایک دوسرے کی پرفارمنس پر آہ اور واہ کیجیے۔ بجلی اور پانی کے نظام یا ٹی وی اور بی وی کے پروگرام میں بہتری کی گنجائش نظر نہ آئے تو سستائیے ’چمڑی چوک‘ پر اور چمڑی موٹی کرنے کی ترکیب سوچئے۔ مختصراً یہ کہ ’سفر ہے شرط، مسافر نواز بہتیرے‘۔
بھائی جان ہوں یا باجی یا کریلے کی بھاجی، کراچی کے قسماقسم کے بس اسٹاپ آپ کو کئی اسرارورموز سے آشنا کریں گے اور کیا معلوم کوئی پیاری سی آشنائی بھی ہوجائے۔ خاطر جمع رکھئے، بس آئے گی اور ضرور آئے گی اور ذرا سا توڑ موڑ کر آپ کو آپکی منزلِ مقصود تک پہنچائے گی۔
| آپ کیا کہتے ہیں؟ |
محمد ماجد، کراچی
شیما جی یہ تو میں بھی لکھ سکتا ہوں۔ آپ اور کوئی مشکل کام کریں۔
افتخار حسین، دبئی
شیما جی! اور نارتھ ناظم آباد کا انڈا موڑ؟
جاوید اقبال ملک، چکوال
یہ زندگی ہے۔ اس میں ہرطرح کے نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ نے بھی خوب لکھا ہے اور ایک طرح سے آواز بلند کی ہے۔
قادر قریشی، کینیڈا
کراچی میں بھینس کالونی، مچھر کالونی، گیدڑ کالونی، خاموش کالونی، برما کالونی، بنگالی پاڑہ موجود ہیں۔
وسیم محمد، برطانیہ
زبردست شیما جی! آپ نے تو کمال ہی کر دیا۔ میرے نارتھ کراچی، خاص طور پر کریلا سٹاپ کا دنیا سے تعارف کروا دیا۔ زبردست۔
خالد علی، کینیڈا
کراچی اور کھلی سڑکیں؟ ڈی ایچ اے کے علاوہ یہ تو کوئی اندھا ہی کہہ سکتا ہے۔ میں کراچی میں ہی پلا بڑھا ہوں اور پچھلے سال بارہ سال بعد وہاں گیا۔ وہ تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گیا ہے۔
اشتیاق احمد، ابوظہبی
شیما صاحبہ، کراچی سے ہجرت کیے ہوئےاٹھارہ سال ہوگئے مگر زندگی کے حسین لمحے وہی گزرے ہیں۔ آپ کی تحریر نے جہاں لطف اندوز کیا وہیں آنکھ بھی بھر آئی۔ فکر معاش نے جہاں اپنوں سے دور کیا وہیں کتنی چورنگیاں اور بس سٹاپ آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔
’ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح وشام
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘
عبدالعلیم، ناگویا، جاپان
شیما جی، آپ نے اپنے گزشتہ دو بلاگز میں بریلی اور کراچی کا فرق خوب واضح کیا۔ ویسے اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے، ہجرت یا ایک نسل کا فرق۔۔۔
شاہدہ طاہر، اڈنبرا
کیا بات ہے بریلی کی، میں تو پڑھتے ہوئے خود کو وہیں محسوس کر رہا تھا۔
شیما صدیقی، کراچی
جو کچھ لکھا، چائے کے تازہ کپ کی طرح سٹرانگ اور سولڈ لکھا۔ انہی راستوں پر چل کر ہمیں گھر جانا ہے۔ کہکشاں بنانے کا عزم ہمارے ناظم کا ہے، اس لیے ہم آپ کو کہکشاں کی امید دلاتے ہیں۔ ویسے ایک بات ہے، یہ شام اور تیرا نام دونوں کتنے ملتے جلتے ہیں۔ اب کھل کے مسکرانے کی باری آپ کی ہے۔
شاہدہ اکرام، یو اے ای
شیما جی، دل دکھاتے یا لبھاتے رنگوں سے شاد ہونا تو بندہ آپ کی تحریر پڑھ لے، زندگی کے ہر رنگ سے آشنائی مل جاتی ہے۔ تھکے ماندے ذہنوں اور جسموں کو آسودگی دینے والی تحریریں لکھنے کا شکریہ۔ زندگی ہر ایک کو کوئی نہ کوئی چبھنے والا دکھ ضرور دیتی ہے جسے ہم دنیا سے چھپاتے ہیں کبھی چپ کی بکل مار کر اور کبھی خوشی کی پھوہار سے دوسروں کو بھگو کر۔ اپ نے دوسری طرح کی راہ چن کر ہونٹوں کو مسکراہٹ دی ہے۔ دعائیں۔
محمد یوسف اقبال، دوبئی
آپ بہت زیادہ ہی آوارہ گردی نہیں کرتیں؟ کراچی میں اور کچھ نہیں ہے دکھانے کے لیے؟ ویسے اچھا لکھا۔ جانے آپ کو یہ آئیڈیا کیسے آیا؟
سعید بلوچ، کراچی
زبردست، نارتھ کراچی کی عجوبوں سے بھری سیر کرادی آپ نے۔ بہت اچھی تحریر ہے۔
جانِ من آفریدی، سنگاپور
واہ آپ نے تو ابھی صرف جھلکی کرائی ہے۔ کئی ’پاپوش نگر‘، ’بھینس کالونی‘ اور ’گولی مار‘ جیسے نام کراچی کا حصہ ہیں۔
نامعلوم
واہ واہ، زبردست۔
عارف سکنہ، کراچی
باہر نکلنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
نامعلوم
میں حیران ہوں۔
ثنا خان، کراچی
جھمکے کا تو بتایا ہی نہیں آپ نے کہ صرف گانے کی حد تک ہے یا واقعی جھمکے بریلی میں گر جاتے ہیں۔
| بیس مئی: جھمکا گرا رے۔۔۔بریلی کے بازار میں |
![]() |
| آپ کیا کہتے ہیں: |
سہیل احمد، لاہور:
شیما کمال نے بہت خوبصورت تصویر کشی کی ہے۔ دل ہلا کر رکھ دیا ہے۔
شاہدہ اکرام، ابوظہبی:
شیما جی آپ کے دل کی سن کر آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایسا ہی سب کچھ پاکستان میں بھی ہوتا ہے۔ دل کا رشتہ جہاں ہو وہاں کی ایسی باتیں حسین لگتی ہیں جو کسی کو عام حالات میں بتاتے ہوئے ذرا متاثر نہ کریں۔ مجھے اس وقت برف میں لگے کرمے اور مٹی کے برتن میں پتوں پر رکھ کے دیئے گئے نمک لگے جامن یاد آرہے ہیں۔ دل تو دل ہے۔
نامعلوم:
زبردست
بابر سلطان خان، یو اے ای:
واہ جی واہ، کیا کہنے ہیں۔ بریلی سے تو میرا بھی تعلق ہے پر شیما کمال کا بریلی دیکھنے کی حسرت ہی ہے۔