Friday, 24 March, 2006, 14:56 GMT 19:56 PST
اسد علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
تیرہ اپریل، شام کے چھ بجے
اگلے دن بہت مزہ آیا۔ لیکن اس مزے سے پہلے بدمزگی سے گزرنا پڑا۔ صبح آنکھ کھلی تو نو بج کر تین منٹ ہو چکے تھے۔ میں سر پر ہاتھ مار کر واپس بستر پر گر گیا۔ نو پچیس والی ٹرین پکڑنے کے لیے ضروری تھا کہ میں دس منٹ میں گھر سے نکل جاؤں اور ایسا صرف نہائے دھوئے اور ناشتہ کیے بغیر نکلنے کی صورت میں ہی ممکن تھا۔ بستر سے اٹھا، تیزی سے کپڑے بدلے، سٹور سے کالا کوٹ نکال کر پہنا، آنکھوں میں انگلی گھمائی۔ سب صاف نظر آنے لگا۔
بیزاری طاری تھی۔
باتھ روم میں جا کر تیزی سے کُلی کی۔ شیشے پر نظر پڑی تو الجھے ہوئے بال دیکھ کر خود کو کوسا کہ چھٹی والے دن بال کٹوا لینے چاہیں تھے۔ کھونٹی سے چابی اتار کر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے باورچی خانے میں بھرے ہوئے کوڑا دان پر نظر پڑی تو بیزاری میں اضافہ ہو گیا۔ لمحے بھر کی غیر یقینی صورتحال کے بعد فیصلہ کیا کہ شام کو واپس آ کر خالی کر دوں گا۔ لیکن جیسے ہی دروازہ سے باہر آیا تو کیفیت ہی بدل گئی۔
موسم بہار کے ایک انتہائی خوشگوار دن نے میرا استقبال کیا۔ ایک تو پچھلے چند ہفتوں کے بر عکس ہوا یخ بستہ نہیں تھی، درجہ حرارت کچھ زیادہ تھا اس پر ہلکی سی دھوپ بھی تھی۔ سارے ماحول میں رنگ بھرنے کے لیے سڑک کے کنارے کنارے ڈیفوڈل سر نکالے کھڑے تھے۔ میرا دھیان اس موسم میں پہلی بار گلی میں پیازی رنگ کے پھولوں سے لدے چیری کے درختوں کی طرف گیا۔
چیری نے ایسا تاثر چھوڑا کہ ایک روز میں نے اپنی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو خواب میں شلوار قمیض پہنے ہوئے دیکھا جس پر چیری کے پھول بنے ہوئے تھے۔ وہ یہ خواب سن کر بہت خوش ہوئی تھی۔
| آپ کیا کہتے ہیں |
نادیہ ناز، ساہیوال
زندگی میں ہر چیز خواب ہوتی ہے۔ کوئی جاگتی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور کوئی بند آنکھوں سے۔ بس اتنی سی بات ہے۔
ثنا خان، کراچی
اس بلاگ سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ اسد بھائی سست یا کاہل انسان ہیں؟ کوئی اور کیڑا نکالو۔ ویسے اس لڑکی سے زیادہ تو آپ خوش ہوئے ہوں گے کہ چلو ڈراؤنے خوابوں سے تو جان چھوٹی، اب تو بہار ہی بہار آگئی۔
آصف شہزاد، ٹورانٹو،کینیڈا
مجھے معلوم ہے کہ اسد علی سست انسان ہے۔ وہ کیلا بھی اس لیے نہیں کھاتا ہوگا کہ چھیلنا پڑے گا۔
عدنان خان، کراچی
لڑکی کو متاثر کرنے کا یہ طریقہ پرانا ہو گیا ہے۔
محمد امان اللہ خان، پاکستان
اچھا تاثر ملا۔ باقاعدگی سے لکھا کریں۔
الیاس دانش، نیو ملتان
اپنی کاہلی اور سستی چھپانے کے لیے بہار کا بہانہ اور سٹوڈنٹ کے خواب۔
ابو الحسن علی، لاہور
اپنی تعریف سن کر کون خوش نہیں ہوتا۔ آپ نے کہہ دیا ہوگا کہ تم بڑی اچھی لگ رہی تھی۔
| چار اپریل، صبح چار بجے: ’جو بولا سو پار‘ |
میرا اس وقت بھی یہی خیال تھا کہ فیل وہ نہیں ہوا نظام ہوا ہے اور پیچھے وہ نہیں رہا معاشرہ رہا ہے۔
میرے اندازہ ہے کہ ہر سال ہزاروں طالب علم زبان، خاص طور پر انگریزی زبان، کی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے بھاگ جاتے ہیں۔ انگریزی زبان میں فیل ہونے میں ان کا قصور نہیں ہوتا لیکن بہرحال فیل تو وہ ہوتے ہیں اس لیے گھر اور باہر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور پھر مختلف رد عمل دیکھنے میں آتے ہیں جن میں تعلیم چھوڑ دینا بھی ایک ہے۔
میری شکایت ہرگز یہ نہیں کہ انگریزی کیوں پڑھائی جاتی ہے بلکہ یہ ہے کہ سب کو کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟
میں اس طرح کا جواب سننے کو تیار نہیں کہ لوگوں کو انگریزی پڑھنے سے کس نے روکا ہے وغیرہ وغیرہ کیونکہ اچھی انگریزی تعلیم کے لیے ایک حد سے زیادہ مالی وسائل چاہیئں جو پاکستان میں شاید آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کے پاس ہی ہیں۔ بہت سی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں انگریزی سیکھنے کی سہولت ہی نہیں۔
پاکستان میں جب تک آپ انگریزی زبان میں بات سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے کوئی جاننا ہی نہیں چاہتا کہ آپ کو کتنا آتا ہے اور انگریزی سیکھنے کے لیے پھر وہی بات کہ وسائل کتنے لوگوں کے پاس ہیں۔ ہر شعبے میں ان گنے چنے لوگوں کے درمیان ہی مقابلہ ہوتا ہے اور کیا قیادت سامنے آتی ہے، نتیجہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
| آپ کیا کہتے ہیں |
عدنان محمد، لندن
صحیح کہا۔ انگریزی کو وہاں پر نارمل کر دینا چاہیے تاکہ ہر کوئی اسے نارمل طریقے سے استعمال کرے۔
عبدالوحید خان، برمنگھم
آپ کی بات بالکل صحیح ہے کہ پاکستان میں بہت سے لائق طلبہ صرف انگریزی کی وجہ سے تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے انگریزی کو صرف زبان کے طور پر پڑھایا جائے۔ انگریزی عالمی زبان ہےاور اس کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ اس کے کورس کو از سر نو ترتیب دیا جانا چاہیے۔
| چوبیس مارچ، بارہ بجے |
![]() |
| ’آپ کیا کہتے ہیں‘ |
حسیب خان، کراچی:
واہ واہ مہر افشاں ترمذی کی۔ بی بی سی والے تو جو ہیں سو ہیں لیکن انہیں سینے اور کولہے بھی نظر آگئے پیٹھ کے ساتھ ساتھ اور لیکچر بھی دے دیا۔ خوش رہئے، ٹھرک سے صحت اچھی ہوتی ہے۔
زاہد اقبال، پیرس:
آپ نے بہت اچھی بات کی لیکن اب تو دنیا بھر میں یہ ہو رہا ہے۔ سب بھول گئے ہیں کہ ہم اس دنیا میں کیوں آیے ہیں اور ہمیں آخرت کے لیے کیا کرنا ہے؟
اے رضا، ابوظہبی
اسد صاحب، گزشتہ چار برس میں آٹھ گھر بدلنے کا قصہ معہ ولایت کے سرسبز و رنگین مناظر کے دلچسپ تھا۔ اس کے بعد آپ یہ کیا قصہ لے بیٹھے، انگلستان میں آتی ہوئی فصلِ بہار کا تذکرہ کرتے، کینٹ کے علاقے میں چیری بلاسم سے لدے درختوں اور ان کے گرد پھولوں سے معطر فضا کا ذکر ہوجاتا۔۔۔وغیرہ وغیرہ
مہر افشاں ترمذی، سعودیہ
واقعی حد ہوگئی بی بی سی والوں کی۔ کوئی ڈھنگ کی بات نہیں رہ گئی ان کے پاس۔ مسلمانوں کی ٹانگ کھینچنا چھوڑتے ہیں تو لوگوں کے سینے اور کولہوں کی نمائش پر آجاتے ہیں۔ بس کسی نہ کسی طرح اپنی ٹھرک پوری کرتے ہیں۔ ان کے نامہ نگاروں آنکھیں بھی بس ایسی ہی چیزوں پر ٹکی رہتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پھر برا بھی مناتے ہیں، اسی کو منافقت کہتے ہیں۔
محمد شکیل احمد
پہلے تو کپڑے پہن کر فیشن ہوتا تھا اور اب تو فیشن اس کا نام ہو گیا ہے کہ کون کتنے بے ڈھنگے طریقے سے ننگا ہوتا ہے۔ ویسٹ ہم نے اپنا آئیڈیل بنا لیا ہے تو آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔
ملک حسن اعوان، سیالکوٹ
حد ہو گئی جناب کبھی کسی سنجیدہ مسئلے کی طرف بھی آ جایا کریں۔ آپ نے تو حد کر دی گھوم پھر کر ایک ہی بات۔
جاوید احمد، پاکستان
مغربی لوگ جتنا بھی اخلاقی طور پر گر جائیں آپ کو حیرت کیوں ہوتی ہے۔ چلیں یہ تو مرد تھے اگر خواتین ہوتیں تو آپ کو لکھنے کی نوبت نہ آتی۔
جاوید اقبال ملک، چکوال
ارے آپ نے ایسا کیا دیکھ لیا اور وہ بھی ’مغرب‘ میں۔ ہمارے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نظر نہیں آتا۔
محمد یوسف، کینیڈا
ہم ماضی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ میرا مطلب ہے پتھر کے زمانے کی طرف۔ اس لیے ان باتوں کا برا نہ منائیں۔ ہمارے آباؤ اجداد ایسے ہی تھے۔ اس لیے ہمیں ارد گرد دیکھنے کی بجائے اپنی آنکھیں بند رکھنی چاہیں۔ آپ بھی اچھے بچے بن کر رہیں۔
عمر فاروق، برمنگھم
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ۔
عدنان محمد، لندن
صحیح کہا اسد صاحب آپ نے۔ ابھی تھوڑے دن رک جائے آپ کو بھی یہ عادت لگ جائے گی انشاللہ۔
جابر خان، سویڈن
بھئی اگر لندن اور وہاں رہنے والے لوگ اتنے بور لگتے ہیں آپ کو تو پاکستان واپس چلے جائیے۔ وہاں پستول دکھا کر کوئی پتلون ہی اتار لے گا۔
محمد عمران، لندن
یار آپ نہ پہنیں، آپ کو کون مجبور کرتا ہے۔ ہمیں پہننے دیں۔ میں پاکستانی سٹوڈنٹ ہوں، میں نے بھی یہاں آ کر پیٹھ دکھانی شروع کی ہے تاکہ کہیں لوگ مجھے بنیاد پرست اور بد تہذیب نہ سمجھیں۔