Friday, 27 January, 2006, 18:56 GMT 23:56 PST
بی بی سی اردو ڈاٹ کام یکم فروری سے بارہ فروری تک انڈیا آن لائن کے عنوان سے ایک مہم یا کیمپین کا اہتمام کررہی ہے۔ اس مہم کے دوران اردو ڈاٹ کام انڈیا کے تین بڑے شہروں میں مختلف تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس سلسلے کا پہلا فنکشن دلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں یکم فروری کو ہوگا جس کا عنوان ہے ’اردو اور نیو میڈیا‘۔
ہمارے ساتھی مظہر زیدی اور عالیہ نازکی اس کیمپین کے سلسلے میں انڈیا گئے ہیں جہاں سے وہ دیگر مضامین اور تصویروں کے علاوہ اپنی روزانہ کی انڈیا ڈائری بھی بھیجا کریں گے۔
| مظہر زیدی ، نئی دہلی، اکتیس جنوری شام پانچ بجے |
![]() |
میرا سارا احتجاج اورغصہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ کیا بارات تھی اور کیا شان شوکت تھی۔ ایسی بارات پہلے کبھی دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ کوئی سات آٹھ گھوڑے جن میں سب سے آگے دولہے کا گھوڑا ، ان کے آگے رقص کرتی ہوئی ایک ٹولی اور ان کے پیچھے بھی، جبکہ دونوں اطراف میں خوبصورت شماعوں کو ایک بانس پر اٹھائے ہوئے دربان، خوشبوؤں کی تھالیاں اٹھائے ہوئے رشتہ دار اور پھول نچھاور کرتے مداحین۔
سمجھ میں نہیں آیا کہ دولہا والے بالی وڈ سے متاثر تھے یا بالی وڈ والے ایسے ہی دولہوں کی باراتیں دیکھ کی فلمیں بناتے ہیں۔
| نئی دہلی، تیس جنوری رات نو بجے |
انڈیا میں اردو میڈیا کے اس حال کے ذمہ دار زیادہ تر لوگ زبان کو مذہب کے ساتھ جوڑنے کو ٹہراتے ہیں۔ زبان کی کیا قومیت یا اس کا کیا مذہب؟ یہ خیال تب اور بھی شدت سے آیا جب سابق وزیراعظم آئی کے گجرال کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔ جہلم کے گجرال صاحب آج بھی اپنی ہر خط وکتابت اردو میں کرتے ہیں اور اس کے بعدان کا سیکرٹری اسے ہندی یا انگریزی میں ترجمہ کرتا ہے۔
ہوٹل میں آج کسی کی شادی ہے اور مسلسل کجرا رے سن سن کر اب بوریت ہورہی ہے۔ کہیں باہر نکلنا چاہئیے۔
| نئی دہلی، اٹھائیس جنوری شام آٹھ بجے |
پاکستانی ہونے کے ناطے سے جہاں بھی جاؤ ایک ہی سوال کا سامنا رہتا ہے۔ امریکہ کو پاکستان میں نئے سیکورٹی خدشات کی وجہ سے تشویش ہے جبکہ یہاں آج کل ہر ایک کو پاکستان سے متعلق ایک ہی تشویش ہے: اگلی پچ بھی فلیٹ تو نہیں ہوگی؟
| ستائیس جنوری رات ساڑھے دس بجے |
اردو ڈاٹ کام کی انڈیا آن لائن کیمپین دلی پہنچتے ہی شروع ہو گئی۔
دلی میں سردی نام کی بھی نہیں۔ ٹھیک ہے کہ لندن سے یہاں آنے والے کو موسم قدرے بہتر ہی لگے گا لیکن یہاں تو جنوری کے مہینے میں دوپہر کے وقت تقریباً پسینے چھوٹ رہے ہیں۔
شام تک سارے کام نمٹا کر جب دلی پریس کلب جانے کا موقع ملا تو بہت مانوس لگا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لاہور کی شملہ پہاڑی کا پریس کلب ہو، بی بی سی کے بش ہاؤس کا کلب یا دلی کا پریس کلب، وہی ماحول ہے وہی باتیں۔ صحافی اتنے بورنگ کیوں ہوتے ہیں۔
| عالیہ نازکی، نئی دلی، اکتیس جنوری، شام سات بجے: |
![]() |
کل رات کا کھانا ایک چائنیز ریستوراں میں کھانے کا اتفاق ہوا۔ پچھلے تین برسوں میں پہلی بار چائنیز کھانے کا مزا آ گیا۔ میں لندن میں کئی چائنیز ریستوراں ٹرائی کر چکی ہوں، مگر کہیں بھی مزا نہیں آیا۔ بات دراصل یہ ہے کہ لندن میں چائنیز ریتسورانتوں میں جو کھانا ملتا ہے وہ خالص چائنیز ہوتا ہے، نہ ٹماٹر، ہلدی کا تڑکا، نہ انڈین مصالحوں کی خوشبو۔۔۔ تو آپ ہی بتائیے مزا آئے گا تو کیسے؟
| نئی دلی، اکتیس جنوری، شام سات بجے: |
جامع مسجد کے ایک مینار پر جانے کا سوچا۔ پتلی، تنگ، اندھیری نہ جانے کتنی سیڑھیاں چڑھ کر آخر اوپر پہنچے تو نظارا ایسا تھا کہ کیا بتاؤں۔ تا حد نظر پھیلی ہوئی دلی۔ ویسے مجھے اونچائی سےذرا ڈر لگتا ہے مگر جامع مسجد کے اس مینار سے نظارا کچھ ایسا تھا کہ ڈر کا خیال تک نہیں آیا۔ وہاں کئی اور لوگ تھے، کچھ میاں بیوی، کچھ نوجوان لڑکے، کچھ غیر ملکی سیاح۔ سب اپنے سامنے پیر پھیلائے اس شہر کو بس دیکھتے ہی رہے۔۔۔
| نئی دلی، اٹھائیس جنوری، رات ساڑھے دس بجے: |
خیر، شام کو اپنی ایک پرانی سہیلی سے ملاقات ہوئی۔ ہم دلی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ اب وہ امریکہ میں رہتی ہے، میں برطانیہ میں۔ کافی کی پیالیوں پر دلی کی باتیں دیر تک چلتی رہیں۔۔۔
| ستائیس جنوری، دو بجے دوپہر: |
خیر آج کیمپین کی شروعات اچھی رہی۔ دلی آفس میں کافی لوگوں سے ملاقات ہوئی اور آخر کار کئی ناموں کے ساتھ چہرے وابستہ ہوئے۔ آپ سے تو باتیں ہوتی رہیں گی پر اب جا کر یکم فروری کو دلی میں ہونے والے پروگرام کے دعوت نامے تیار کرنے ہیں، تو باقی کل۔۔۔