Tuesday, 24 October, 2006, 08:34 GMT 13:34 PST
نبیلہ مالک
لاہور
جوان لڑکیوں سے سیکشویلیٹی پر بات کرنا ناممکن ہے۔ان کے سامنے یہ لفظ آنے کی دیر ہے اور وہ ہنسنا شروع کر دیں گی یا پھر ان کا رنگ اس قدر لال ہو جائے گا کہ آپ ڈرجائیں گے کہ کہیں انہیں دل کا دورہ نہ پڑ جائے۔ اس لیے اس مضمون کے لیے جو ریسرچ کی گئی ہے وہ ان عورتوں کے تجربات پر مشتمل ہے جن کی عمر اب چالیس کے ہندسے کو چھو چکی ہے۔ شاید اسے پڑھ کر جوان لوگوں کو محسوس ہو کہ یہ باتیں اب پرانی ہو چکی ہیں اور اب ایسا نہیں ہے۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو پھر آپ ہمیں چیلنج کریں اور لکھیں کہ آپ ان باتوں سے اتفاق نہیں کرتے اور کیوں۔
مثلاً مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کسی نے مجھے سیکس کے بارے میں کچھ بتایا ہو۔ کہ گیارہ سال کی عمر میں مجھے اس کے بارے خاصا تجسس تھا لیکن میں اپنی سہیلیوں تک سے اس کا ذکر کرنے سے ڈرتی تھی۔ میری زیادہ تر سہیلیاں عمر میں مجھ سے کچھ بڑی تھیں اور مجھے ڈر یہ تھا کہ یہ جان کر کہ میں سیکس کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں، وہ سمجھیں گی کہ مجھ پر گناہ کا غلبہ ہے۔ اس دور میں میرے ذہن میں زیادہ تر سوال صرف اس ’فعل‘ سے متعلق ہوا کرتے تھے۔ میں کچھ کتابوں میں مرد اور عورت کے درمیان کشش کے بارے میں پڑھ چکی تھی لیکن بات کچھ خاص سمجھ نہیں آئی تھی۔
یہ لفظ سننے پر لوگوں کے رویوں کو دیکھ کر مجھ پر ایک بات اچھی طرح واضح ہوچکی کہ یہ لفظ زبان پر لانا جرم ہے۔ مجھے ٹھیک سے نہیں پتہ تھا یہ کیا ہے اور نہ ہی یہ کہ یہ جرم کیوں سمجھا جاتا ہے لیکن ایک بات مجھ پر صاف صاف واضح تھی۔ وہ یہ کہ اگر میں نہیں چاہتی کہ میرے ارد گرد کے لوگ مجھے شک سے دیکھیں تو مجھے اس موضوع سے دور ہی رہنا ہوگا۔
میں نے جتنی بھی خواتین سے بات کی سب عورتوں کی صورتِ حال میرے جیسی ہی تھی۔ کچھ کا تو یہ عالم ہے کہ وہ ابھی بھی ماننے کو تیار نہیں کہ ان کو کبھی اس کے بارے میں جاننے میں کوئی دلچسپی رہی ہے۔ بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا دل ہمیشہ اتنا پاک رہا ہے کہ شیطان کبھی بھی اسے ان گندے خیالات سے اور آلودہ سوچوں سے کرپٹ نہیں کر سکا۔ مجھے اس پر شک ہے لیکن اگر یہ ہے تو یہ کچھ ایبنارمل سی بات ہے اور لوگ ایبنارمل ہوسکتے ہیں۔
جہاں تک اس کی عملی صورت کا تعلق ہے، جنسی ضروریات کے لئے کوئی راستہ پاسکنا ناممکن ہوگیا لیکن اگر میں یہ کہوں کہ مجھے کبھی کوئی ’گندہ‘ خیال نہیں آیا تو یہ جھوٹ ہوگا۔ ان ’گندے خیالات‘ پر قابو پانا مشکل تھا جس سے زیادہ تر لڑکیاں اتفاق کرتی ہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک احساسِ جرم میں بدل جاتا ہے جس سے خود اعتمادی کو بہت بڑا دھچکہ لگتا ہے۔
لڑکے، ارے ہاں۔۔۔ان کی آنکھوں میں جادو اور باتوں میں کھنک تھی۔ وہ جیسے ہی مجھ میں دلچسپی کا اظہار کرتے تو کہیں اندر لاکھوں تتلیوں کے بادل امڈ آتے۔ مگر نہیں۔ بظاہر ایسے خوبصورت جذبوں سے انکار ہی سیدھا راستہ تھا۔ میں آج بھی اپنی ماں کی آواز صاف صاف سن سکتی ہوں ’لڑکے صرف فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، صرف اپنے مزے کے لیے، بےوقوف بنانا چاہتے ہیں۔ عورتوں کی ایسی کوئی ’ضرورتیں‘ یا ’خواہشات‘ نہیں ہوتیں۔ لڑکیاں صرف لڑکوں کی ہوس کا شکار ہوتی ہیں کیونکہ وہ جذبات سے مار کھا جاتی ہیں‘۔
سو باہر کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے میں نے ایسی آہنی زرہ بکتر باندھی کہ کوئی مجھ تک نہ پہنچ سکے۔ چونکہ لڑکے عموماً حسن پرست ہوتے ہیں اس لیے کئی نے اس زرہ بکتر کو بکھیرنے کی کوشش کی۔ لیکن میں نے انہیں کبھی قریب آنے کا موقعہ ہی نہیں دیا۔ بلکہ مجھے ان کی توجہ میں اپنی بےعزتی نظر آتی کیونکہ ماں نے کہا تھا کہ لڑکے انہی لڑکیوں کے پیچھے جاتے ہیں جو باآسانی مان جائیں۔ میں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ ان پر ثابت کردوں کہ میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں۔
میرے اندر کی آرزوؤں اور میری ظاہری شخصیت کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ میری ظاہری شخصیت غالب آتی گئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں اسے اپنی آرزوؤں کی دنیا سے الگ رکھوں گی جہاں کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی، کسی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ میرا سب سے گہرا راز بن گیا۔ چونکہ جنسی ضرورتیں اور خواہشات بہرحال موجود تھیں اور اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود میں انہیں مکمل طور پر قتل کرنے میں ناکام رہی، میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے شفاف امیج کو داؤ پر لگائے بغیر ان کے لیے راستہ تلاش کروں گی۔ میں خاندان کی دوسری نسبتاً کم ہوشیار لڑکیوں کے لیے ماڈل بن گئی۔ جو لڑکیاں اپنی امیج بنائے رکھنے میں ناکام ہوتیں انہیں میری مثال دے کر اس فلسفے کو دہرایا جاتا کہ ’عورتوں کی جنسی ضروریات نہیں ہوتیں۔‘
تمام معاشروں میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو معصوموں کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔ اس معاملے میں جنوبی ایشیا اپنے خود ساختہ ’اخلاقی‘ عقائد کے باوجود مختلف نہیں ہے۔ رشتوں میں طاقت کا عنصر ہمیشہ موجود رہتا ہے اور یہ طاقت اکثر کسی بڑے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور جب جنسی زیادتی گھر کی چار دیواری میں ہو تو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نہ کچھ کہہ پاتے ہیں اور نہ ہی کچھ کر پاتے ہیں۔ اس خاموشی کی ایک وجہ سیکس کے بارے میں ہمارے معاشرے کا رویہ ہے، جہاں ایسی باتیں کی ہی نہیں جاتیں۔ جنسی زیادتی کرنے والے کی خاندان میں اہمیت اور ساکھ کی وجہ سے بھی کئی لڑکے اور لڑکیاں خاموش رہتے ہیں۔ کیا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں جو جنسی ضروریات اور خواہشات سے پرزور انکار کرتا ہے، اس قسم کے جنسی استحصال کو اس لیے برداشت کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ان خواہشات کو پورا کرنے کا ایک راستہ بن جاتا ہے؟