Friday, 07 April, 2006, 15:06 GMT 20:06 PST
مصدق سانول
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
(’دریا کہانی‘ کے نام سے ہم آج سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ یہ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔)
ایک زمانہ تھا جب میرا وقت کراچی کے مچھیروں کے ساتھ گزرا کرتا، دن رات باجے اور ڈھولک پر قصے سنتے ہوئے۔
میں لٹھ بستی، ریڑھی اور ابراہیم حیدری کے ساحلوں سے ان جزیروں تک سفر کرتا جو اب گمنام ہوچکے۔ میرے ہمسفر مچھیروں کے بازؤوں کی مچھلیاں کراچی کے سمندر کی مچھلیوں کے ساتھ تڑپا کرتیں۔ یہاں دلربا آنکھوں والی خاصخیلی مچھیرنیں رہتی تھیں جن کے دانتوں کے سچے موتی ہمیشہ گٹُکے سے جلے ہوتے، وہ ظالم تمباکو جسے ان علاقوں کا ہر بچہ اپنی خوراک کا حصہ سمجھتا ہے۔ لیکن ان کی مسکراہٹ میں آج بھی وہ جان ہوتی ہے جو مجھے پاکستان بھر میں اور کہیں نہ دکھائی دی۔
خاصخیلی بزرگ جو یہاں کے قدیم لوگ ہیں، مجھے بتایا کرتے تھے کہ وہ مچھیرے نہیں کسان تھے، تربیلا ڈیم کے بننے سے پہلے تک۔ وہ سمندر کے کنارے ایک ڈیڑھ میل تک پھیل جانے والے اس میٹھے پانی کے بارے میں بتاتے جو سندھ کے ایک اورسمندر سندھو دریا سے بہتا ہوا آتا اور اپنے ساتھ مٹی کی وہ تہہ لاتا جس میں چاول کی فصل بوئی جاتی تھی۔ ان دنوں بھی کسی سمندر کے ساحل پر لہلہاتی فصل کا تصور محال تھا۔
کون سی مچھلی کہاں |
یہ گاؤں کہنے کو سندھ میں تھے لیکن یہاں کے رسم و رواج میں گھٹن نہیں تھی۔ یہاں کارو کاری نہیں ہوتی تھی، عورتیں ٹھٹھہ مار کر ہنستیں اور اونچی آواز میں بات کرتی تھیں۔ یہاں مردوں، عورتوں دونوں میں زیادہ شادیاں کرنے کا رواج عام تھا۔
اسی سمندر میں ایک دن میں نے سینکڑوں اونٹوں کو تیر کر اس جزیرے کی طرف جاتے دیکھا جہاں ان کی چراگاہ تھی۔ ان کے پیچھے پیچھے ایک عجیب سی کشتی آ رہی تھی، جس میں دو مانجھی لڑکے بیٹھے تھے۔ وہ اونٹوں کو اونچی آواز میں ہنکاتے تھے۔ مقامی طور پر بنایا گیا ایک ٹینکر سا اس کشتی پر نصب تھا اور اس میں جانوروں کے پینے کا پانی تھا۔
اب اونٹ کہاں تیریں گے؟ |
یہ سفر عموماً چھوٹی کشتی میں ہوتا تھا جو پتلی گزرگاہوں میں چل سکے اور عموماً ان ’جہازوں‘ کے کپتان وہ ننھے مانجھی ہوتے جن کے باپ ان کی تربیت کررہے ہوتے۔ کبھی کبھی جب ہمیں ایک جنگل سے نکل کر دوسرے میں گھسنے کے لیے کھلے سمندر میں آنا پڑ جاتا تو یہ ننھی کشتیاں چار چار فٹ اوپر تک جھولتیں اور وہ جو میں فن لینڈ کی رائڈز سے ہمیشہ ڈرا کرتا تھا، وہی موت کا منظر میرے سامنے لے آتیں۔ میں نے ایسے ہی ایک چکا چوند کردینے والے لمحے میں وہاں ایک ڈولفن کو غروب ہوتے آفتاب کے سامنے قلابازی کھاتے دیکھا تھا۔
ہم اکثر سمندر کے دلدلی علاقوں پر پھیلے تمر کے جنگلات میں سے بہتی پتلی نہروں سے گزرتے ہوئے ان جزیروں تک جا پہنچتے جہاں یہ مچھیرے رہا کرتے تھے۔ کشتی کے دونوں اطراف تمر کے درخت اپنی ٹہنیاں جھکائے ان راستوں کو تصور کے بہشتی دروازوں میں بدلائے ہوتے۔ یہاں قدرت، پنچھی، جانور، مچھلیاں اور جھینگے سب ایک طرح کی ہنسی خوشی چین کی بانسری بجانے والی زندگی گزارتے تھے جیسے کہ صرف کہانیوں کے انجام پر ہوتی ہے۔
لیکن ہر کہانی کے انجام سے آگے بھی کہانی ہوتی ہے۔
انجام سے آگے کی کہانی |
پھر پاکستان کی حکومت نےاس سمندر میں ان دیو ہیکل ٹرالروں کو چھوڑ دیا جن کے جال ایک کلو میٹر سے زیادہ بڑے ہوتے ہیں، سمندر کے نیچے تک شکار کرتے ہیں اور جن کے رستے میں آنے والی ہر چیز مچھلی کی طرح تڑپتی ہے اور اوپر پہنچنے تک مرجاتی ہے۔ یہ ہفتوں سمندر میں رہتے ہیں، ان کے پاس سٹوریج کی جگہ کم ہوتی ہے اور انہیں صرف ایک یا دو قسم کی مچھلی چاہئے ہوتی ہے۔ باقی ہر جانور کی لاش یہ واپس سمندر میں پھینک دیتے ہیں۔
دو سال قبل اگست میں تیل لانے والا ایک یونانی جہاز انہی ساحلوں پر ٹوٹ کر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا اور اس میں سے ہزاروں ٹن تیل بہہ کر ساحلوں اور سمندر کو آلودہ کر گیا۔ کئی دن کی محنت کے بعد سمندر سے لوٹنے والے صادق ملاح نے ایک رپورٹر کو اپنی لانچ کے پیندے پر لگا ہوا تیل اور جال دکھائے جو کالے ہو چکے تھے۔ اس نے کہا ’یہ سیاہی ہم پر ملی جا چکی، خالی جال ہمارا مقدر بن چکا ہے۔‘
آج سلیمان مرچکا اور اِبًو بےروزگار ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ تھوڑے ہی دن ہیں، نہ تو یہ ماہی گیر بچیں گے، نہ ہی مورڑو کی کہانی۔ کہانی ختم۔
![]() |