Thursday, 09 February, 2006, 11:39 GMT 16:39 PST
پاکستان کے شہر ہنگو میں جمعرات کی صبح محرم الحرام کے ایک ماتمی جلوس کے دوران دھماکے ہوئے جس میں درجنوں افراد ہلاک اور ایک بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
| حسین اورکزئی: |
صبح دھماکوں کے بعد مقامی پولیس اور فرنٹئیر کور شہر کو اپنے حال پر چھوڑ کر چلے گئے۔ بہت دیر تک شہر جنگ کا میدان بنا رہا۔ اس کے بعد شہر کو فوج کے حوالے کر دیا گیا، جس پر شہریوں نے سکون کا سانس لیا۔ مقامی لوگوں کو اس بات کا ڈر ہے کہ اورکزئی قبیلے کے لوگ بھاری ہتھیاروں کے ساتھ لڑنے نا آجائیں جس طرح انہوں نے 1997 میں کیا تھا۔
| مولانا خورشید: |
وہاں پر دو ڈھائی ہزار آدمی موجود تھے اور برانچ بازار میں بھی لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی جو ابھی مین بازار نہیں پہنچی تھی۔۔۔ لوگ ابھی آ رہے تھے۔
جلوس چوک میں پہنچا ہی تھا کہ ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا اور پھر ہم نے دیکھا
کہ وہاں لاشیں ہی لاشیں بکھری ہوئی ہیں اور زخمی ہیں کافی سارے۔ بہت سی ایسی لاشیس دیکھیں جن کی شناخت نہیں ہو پائی کیونکہ کسی کا سر نہیں تھا کسی کا پاؤں نہیں تھا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑا بلاسٹ ہے۔ یہ خودکش حملہ ہے اس لیے کہ جس جگہ پر یہ بم پھٹا ہے اس جگہ پر ذمین بلکل پختہ ہے وہاں پر سڑک ہے وہاں کوئی چیز دفنائی نہیں جا سکتی۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ دوسرا یہ کہ ایک لاش ایسی ملی ہے جس کا اوپر والا حصہ موجود نہیں تھا۔
چار گھنٹے تک زخمی پڑے رہے اور بار با ر ٹیلیفون کرنے باوجود کوئی ایمبولینس ہسپتال سے نہیں آئی اور نہ ہی حکومت نے ہمیں فراہم کی۔ ہم نے مقامی انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا اور ان کو بھی بتایا کہ اتنے لوگ شدید زخمی ہیں اور آپ آئیں اور ان کو اٹھا کر لے جائیں لیکن انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔
ایک پرائیویٹ گاڑی ہمیں مل گئی جس کی وجہ سے ہم نے اپنے زخمیوں کو چار گھنٹے کے بعد ہستال پہنچایا۔ ہنگو ایک حساس علاقہ ہے یہا ں مکمل انتظامات ہونے چاہیں تھے۔ پولیسں اور ایف سی کی محدود تعداد موجود تھی جو دھماکے کے بعد نظر نہیں آئی۔
جلوس ابھی رکا ہوا ہے وہ اپنے روٹ پرجائے گا۔‘
| حسین علی شاہ: |
ہسپتال پانچ سوگز کے فاصلے پر ہے زخمی ابھی بھی پڑے ہیں۔ ہمارے اہل تشیح
اور اہل سنت کے آپس میں بہت اچھے تعلقات ہیں۔ یہ دہشتگردی ہی ہو سکتی ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ حالات خراب نہ ہوں۔ فرٹئیر کانسٹیبلری کی پہلے تو ڈیوٹی لگی تھی لیکن بعد میں ہٹا دیا گیا تھا۔‘