Monday, 05 September, 2005, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ تو ہم جانتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی سوچ اور ثقافت بدلتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے ارتقاء کا نام دیتے ہیں تو کچھ تبدیلی کا۔ ثقافت کے ساتھ ساتھ انسان کا رہن سہن اور زندگی گزارنے کا طریقہ بھی بدل جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح دسترخوان بھی کوئی جامد شئے نہیں۔
اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے دیس اور پردیس میں دیسی کھانے اور ان کھانوں سے جڑے تجربوں کے موضوع پر ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔
اس سلسلے کا مقصد ان مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرنا ہے جن کی وجہ سے ہمارے کھانے اور پکوان دنیا بھر میں سراہے جا رہے ہیں۔ بر صغیر کے کھانے جہاں پہنچے، وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ دوسری ثقافتوں اور ’کیوزینز‘ سے بہت کچھ لیا اور انہیں بدلے میں بہت کچھ دیا بھی۔
کئی دفعہ جیسے دو ثقافتوں کے ملاپ سے ایک تیسرا کلچر پیدا ہوتا ہے، ویسے ہی دو ’کیوزینز‘ کے ملاپ سے بالکل نئی اور انوکھی چیزیں بن جاتی ہیں، جو اپنے آپ میں دونوں کی اچھائیاں سمیٹے ہوتی ہیں۔
ہمارے اس سلسلے میں آپ بر صغیر میں اور اس سے باہر بھارتی اور پاکستانی کیوزین کے ارتقاء، پھیلاؤ اور اثر کے بارے میں مضامین، فوٹو فیچر اور تبصرے پڑھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ آپ کھانے کے بارے میں اپنے تاثرات اور تجربات دوسرے قارئین کے ساتھ بانٹ سکیں گے۔
آپ کے کھانے اور پکانے کے بارے میں کیا تجربات ہیں؟ کیا آپ نے بر صغیر سے باہر جاکر کھانوں کی نئی دنیا دریافت کی ہے؟ کیا برصغیر چھوڑنے کے بعد آپ کے دیسی کھانے اب تک دیسی ہیں، یا پھر ان میں پردیس کے ذائقے مہکنے لگے ہیں؟اگر آپ ہمارے اس سلسلے کے لیے اپنے تاثرات، تجربات، تصاویر یا ویڈیو بھیجنا چاہیں تو ہمیں ای میل کریں۔ ہمارا پتہ ہے:
urdu@bbc.co.uk
آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی اس کے آخر میں اپنا اور اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے۔ ہمارا نمبر ہے:00447786202200
ناوید ورک، کینیڈا:
آپ دیسی کھانوں کی بات کیا کرتے ہیں، ہمارا کینیڈا میں اپنا ریستوان ہی دیسی اور حلال فوڈ کا وہ ہر وقت فل رہتا ہے کیوں کہ سب لوگ دیسی کھانوں کو بہت پسند کرتے ہیں، دیسی ساگ مکی کی روٹی، حلوہ پوڑی کھانے کے لئے موسٹلی کینیڈین آتے ہیں، وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے مگر مرچی بہت ہے۔
جاوید اقبال ملک، چکوال:
میں کوریا میں پانچ سال رہا ہوں ، وہاں پر ایک اہم اور مخصوص سلاد نما دِش ہے اور اس کا نام ’کِمچی‘ ہے، ایک ایسی دِش ہے کہ ہر رنگ و نسل اس کو کھانا چاہتی ہے اور مزے کی بات بھی ہی ہے کہ اس دِش کو ایکسپورٹ بھی کیا جاتا ہے اور کوریا اس سے بہت زیادہ زرمبادلہ بھی کماتا ہے۔
فرخ بٹ، لاہور:
میرے خیال میں دیسی کھانے کا مزہ ہی اپنا ہے۔ میں لاہور میں رہتا ہوں۔ یو کے گیا، لیکن تین مہینے بعد صرف اسی لئے واپس آگیا کہ وہاں کا کھانا نہیں کھایا جاتا تھا مجھ سے۔