Tuesday, 28 June, 2005, 12:02 GMT 17:02 PST
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے منگل کو جنوبی پنجاب کے گاؤں میر والا میں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے ملزمان کے ناقابل ضمانت گرفتاری کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے جس میں اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی رہائی کا حکم سنایا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ان ملزمان کے علاوہ ان آٹھ افراد کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں جنھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رہا کر دیا تھا۔
![]() مختار مائی کیس میں سپریم کورٹ نے ملزمان کے ناقابل ضمانت گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ |
ہمارے نامہ نگار ندیم سعید نے مختار مائی کی عدالتی جنگ پر قریبی نظر رکھی ہے۔ انہوں نے مختار مائی کے ساتھ کافی وقت بھی گزارا ہے۔ اس کیس کے بارے میں ان کی رپورٹیں اور جائزے آپ وقتاً فوقتاً ہماری ویب سائٹ پر پڑھتے رہے ہیں۔ اگر آپ مختار مائی کیس کے کسی بھی پہلو پر ندیم سعید سے کوئی بھی سوال کرنا چاہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ ندیم سعید آپ کے سوالوں کا جواب دینے کی پوری کوشش کریں گے۔
آپ کے سوالات اور ان کے جواب آپ کے نام کے ساتھ اسی صفحہ پر شائع کیے جائیں گے۔
آپ اپنے سوال اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں
احمد سعید، ہانگ کانگ: میرا سوال یہ ہے کہ مختار مائی کو آخر اخبارات اتنا کیوں اٹھا رہے ہیں؟
ندیم سعید:اخبارات ان موضوعات کو اپنے صفحات پر زیادہ جگہ دیتے ہیں یا انہیں دینی پڑتی ہے جن میں قاری زیادہ دلچسپی لے رہے ہوں۔ مختار مائی نے ایک ان پڑھ دیہاتی عورت ہونے کے باوجود حصول انصاف کی اپنی بے مثال جدوجہد سے قارئین کی توجہ حاصل کی اور پاکستان کے ان اخبارات کو بھی انہیں نمایاں طور پر شائع کرنا پڑا جو ویسے خواتین کے حقوق کے حوالے سے رجعت پسند سمجھے جاتے ہیں۔
ندیم سعید:ایک تو ہمیں یہ رویہ درست کرنا پڑے گا کہ ’ ریپ تو ہوتے رہتے ہیں یہ کونسی خاص بات ہے‘۔ کبھی اس تشدد کا شکار عورت سے تو پوچھیں کہ اس کی زندگی کیا سے کیا ہوجاتی ہے۔ مختار مائی نے اپنی جدوجہد سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے لیکن آج بھی وہ کہتی ہیں کہ پہلے والی زندگی بہتر تھی جس میں گمنامی تھی لیکن دکھ کا کوئی احساس نہ تھا۔ جہاں تک بدنامی کی بات ہے تو آپ صرف اس طرح کیوں سوچتے ہیں۔ اسے مثبت انداز میں بھی لیا جاسکتا ہے کہ ایک پاکستانی عورت نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے جس پر دنیا کی اکثر عورتیں صرف کڑھتی ہیں اور خاموش رہتی ہیں۔ باقی میڈیا نے تو سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے مونیکا لیوونسکی کے ساتھ معاشقے اور پاپ سنگر مائیکل جیکسن کی بچوں کے ساتھ مبینہ دست درازی کےمعاملات کو بھی خوب کوریج دی ہے۔
شہزاد حسن، فیصل آباد: مجرموں کو ابھی تک سزا کیوں نہیں ملی؟
ندیم سعید: ملزموں کو ایک دفعہ موت کی سزا سنائی گئی جو بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے ختم کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا اور اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلےکو معطل کرتے ہوئے ملزموں کی دوبارہ گرفتاری کا حکم جاری کیا ہے۔
ندیم سعید: مختار مائی کا کہنا ہے کہ ان سے شادی کرنے والے کو میر والہ رہنا ہوگا تاکہ ان کے فلاحی کاموں میں مدد کرسکے۔
نسیم واحد بھٹی، دبئی: کیا مختار مائی کیس کو صحیح ہینڈل کیا جارہا ہے؟ کیا اس کیس سے پاکستان کی عدلیہ بدنام نہیں ہورہیں؟
ندیم سعید : مختار مائی کی حصول انصاف کی جدوجہد میں حکومت نے ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور ان کے کہنے پر ان کے گاؤں میں سڑک، بجلی اور ٹیلی فون کی سہولتوں کے علاوہ دو سکولوں کی عمارتیں بھی بنوا کر دی ہیں جس سے ان کے حوصلے اور بلند ہوئے۔ ہاں یہ ان کے باہر جانے پر پابندی لگا کر حکومت کو خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ مختار مائی کیس میں پاکستان کا نظام عدل تو زیر بحث آیا ہے۔ خصوصی عدالت فوری انصاف کرتے ہوئے چھ ملزموں کو موت کی سزا سناتی ہے، ہائی کورٹ نہ صرف پانچ کو بری کر دیتی ہے بلکہ خصوصی عدالت کے جج کے خلاف کارروائی بھی تجویز کرتی ہے، شریعت کورٹ کہتی ہے کہ ہائی کورٹ تو حدود کے مقدموں میں اپیل سن ہی نہیں سکتی تھی اور اس کا فیصلہ معطل کردیتی ہے اور آخر میں سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔
ندیم سعید: پنچایتیں اپنی موجودہ شکل میں غیر قانونی ہیں۔علاقے کے بااثر لوگ جنہیں پولیس کی پشت پناہی بھی حاصل ہوتی ہے ازخود جیوری تشکیل دیتے ہیں، خود جج بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور خود ہی فیصلے پر عملدرآمد کراتے ہیں۔ برطانوی راج کے دوران ڈپٹی کمشنر گاؤں کی سطح پر پنچایت تشکیل دیتا تھا اور ان پنچایتوں کی نگرانی کے لیئے ایک پنچایت افسر بھی مقرر تھا۔ تب یہ پنچایتیں معمولی نوعیت کے تنازعات کا فیصلہ کرتی تھیں۔ قتل اور زنا باالجبر جیسے سنگین جرائم کا فیصلہ عدالتیں ہی کرتی تھیں۔ دوبارہ جنرل ایوب کے دور میں پنچایتوں کو برطانوی دور کی طرز پر بحال کرنے کی کوشش کی گئی جو ان کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچی۔ لیکن اس کے بعد وہ اپنی بگڑی ہوئی شکل کے ساتھ موجودہ دور تک قائم دائم ہیں۔ جنرل مشرف کی حکومت کے تحت پنچایتوں کو قانونی دائرے میں لانے کے لیئے ان کو یونین کونسل کی سطح پر انصاف کمیٹیوں اور مصالحتی کونسلوں کی شکل میں بحال کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔
ڈاکٹر الطاف حسین، اٹلی: کیا این جی اوز کو ڈاکٹر شازیہ خالد نظر نہیں آتیں؟ رتو ڈیرو لاڑکانہ ڈسٹرکٹ نظر نہیں آتا؟
ندیم سعید: ڈاکٹر شازیہ خالد کے لیئے بھی ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بھی آواز اٹھائی گئی لیکن بی بی سی کو انگلینڈ میں سیاسی پناہ لینے کے بعد دیئے گئے اپنے حالیہ بیان سے پہلے تک ان کی طرف سے کم و بیش خاموشی تھی۔ جبکہ مختار مائی تو ڈٹ گئی۔ وہ تو حفاظت کے نام پر لگائی گئی حکومتی پابندیوں کے خلاف بھی بول پڑیں۔جہاں تک علاقائی بات ہے تو آپ سندھ کی شائستہ المانی کو ملنے والی سرکاری و غیر سرکاری حمایت کو کیوں بھول رہے ہیں۔
ندیم سعید: ایک تو ہمیں حب الوطنی کو اسٹیبلشمنٹ کی نظر سے دیکھنا چھوڑنا ہوگا۔ پاکستان کے مستقل حکمرانوں کو خاموشی کا کلچر پسند ہے۔مختار مائی جب تک صرف ایک مظلوم عورت تھی تو حکومت اس کے ساتھ تھی۔ جب اس نے دوسروں کے حقوق کی بات شروع کی اور سماجی کارکن کے طور پر خود کو منوانا شروع کیا تو خطرے کی گھنٹی بج گئی۔
ندیم سعید: آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن ایک عدالت سے تو ملزموں کو سزا ہوئی۔ دوسری نے ختم کردی اب سپریم کورٹ معاملے کو دیکھ رہی ہے۔
ندیم سعید: ایک تو اس حوالے سے کوئی رپورٹ پولیس کو درج نہیں کرائی گئی۔ دوسرا جب مختار مائی کا واقعہ سامنے آیا تھا تو پنجاب کے گورنر نے ایک انسپکشن ٹیم میروالہ بھیجی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مستوئی خاندان کے تین افراد نے پہلے مختار مائی کے بھائی شکور کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور پھر اس جرم کو چھپانے کے لیئے اسے اپنی ایک لڑکی کے ساتھ کمرے میں بند کرکے شور مچا دیا کہ شکور ان کا قصور وار ہے۔ شکور کی عمر اس وقت چودہ پندرہ سال تھی اور اس لڑکی کی انیس بیس سال۔ طبی معائنے میں شکور کے ساتھ زیادتی ثابت ہوئی تھی اور بعد میں ایک عدالت نے اس جرم میں تین افراد جمیل، پنوں اور منظور کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔
ندیم سعید: عدالتیں آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں اور کسی کے دباؤ میں نہیں آتیں۔ کم از کم کہا یہی جاتا ہے۔ ویسے پاکستان میں میڈیا اور این جی اوز اتنے بااثر نہیں کے وہ حکومتی اداروں پر اثرانداز ہوسکیں۔ پاکستان میں تو سیاسی جماعتیں بھی یہ طاقت نہیں رکھتیں۔ جہاں تک تعلق ہے ملزموں کو معاف کرنے کا توقانون کے اندر زیادتی کے مقدموں میں صلح یا معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔
ندیم سعید: قوانین بنانے اور ان کے تحت سزا دینے سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملتی ہے گو ان پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ سماجی تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ٹریفک سگنل توڑنے پر جرمانہ لگنے کہ ڈر سے بہت سارے لوگ اس حوالے سے احتیاط برتتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ لوگ ایسا کر گزرتے ہیں۔
ندیم سعید: حکومت کو ڈر ہے کہ مختار مائی کے باہر جانے اور اپنی داستان سنانے سے پاکستان کی اس تصویر کے رنگ ماند پڑ جائیں گے جو نائن الیون کے واقعہ کے بعد سے صدر مشرف نے اپنی اعتدال پسند روشن خیالی کے تحت بیرونی دنیا میں پینٹ کی ہے۔
ندیم سعید:ہائی کورٹ نے مقدمے کی ایف آئی آر کے ایک ہفتہ تاخیر سے اندراج کو خاصی اہمیت دی تھی۔ جبکہ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں ان حالات و واقعات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جو مقدمے کے اندراج میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ دو حقیقی بھائی ایک ہی عورت کے ساتھ زیادتی نہیں کرسکتے۔ مختار مائی کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنے والوں میں عبدالخالق اور اللہ دتہ آپس میں بھائی ہیں۔ شاید اسی لیئے اٹارنی جنرل کو کہنا پڑا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی ہے۔
ندیم سعید: ماتحت عدالتوں کے فیصلے معطل ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ایسا اور مقدموں میں بھی ہوتا ہے۔ جہاں تک اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے خلاف کارروائی کا تعلق ہے تو یہ صرف سپریم جوڈیشل کمیشن ہی کر سکتا ہے۔ ویسے آپ تو پہلے ہی پاکستان سے باہر رہ رہے ہیں۔
ندیم سعید: کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ شاید اس سوال کا جواب نہ دیا جا سکے۔اس کے علاوہ بھی کچھ عوامل ہیں جن میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے حساس نہ ہونا بھی شامل ہیں۔
ندیم سعید: ایک تو قانون کی کتابوں میں یہ مقدمہ ایک مضبوط حوالے کے طور پر محفوظ رہے گا اس جیسے دوسرے مقدموں میں رہنمائی کے لیئے۔ دوسرا ایسی زیادتی کی شکار اور خواتین کو بھی اس سے آواز اٹھانے کا حوصلہ ملے گا۔قانون سازی کی جہاں تک بات ہے تو انسانی اور خاص طور پہ خواتین کےحقوق کے حوالےسے کئی بل پارلیمنٹ کے سرد خانے میں منظوری کے لیئے پڑے ہوئے ہیں۔ان کے بارے ایم این اے شیری رحمٰن اور ایم این اے کشمالہ طارق ہی زیادہ بہتر بتا سکتی ہیں۔
ندیم سعید: کوریج پر براہ راست تو کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ یہ اور بات ہے کہ حکومتی اہلکار اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
ندیم سعید: ان کے مطابق کافی لوگوں نے خواہش کا اظہار کیا ہے اس چکر میں کہ ان کے پاس کافی دولت اکٹھی ہوگئی ہے لیکن جب وہ واضح کرتی ہیں کہ یہ سب کچھ ان کے سکول کے لیئے ہے تو پھر کوئی جواب نہیں آتا۔
ندیم سعید: میڈیکل رپورٹ ہے۔ گواہ بھی ہیں مولوی رزاق سمیت لیکن سب سے بڑھ کر خود مختار مائی کا بیان ہے۔ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے یہی کہا ہے کہ ایسے مقدمات میں سزا دینے کے لیئے ظلم کی شکار خاتون کا بیان ہی کافی ہے۔
ندیم سعید: ایک عدالت نے اسے سچا مانتے ہوئے چھ ملزموں کو موت کی سزا سنائی۔ دوسری عدالت نے جزوی طور پر صحیح مانتے ہوئے ایک ملزم عبدالخالق کو زیادتی کرنے کے الزام میں عمرقید کی سزا سنائی جبکہ باقی پانچ کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کردیا۔ معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے۔ پاکستان کو بدنام ہونے سے بچانے کے لیئے بہتر یہ ہے کہ ہمارا نظام انصاف ٹھیک ہو تاکہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
ندیم سعید: ملزم قصوروار ثابت ہوئے اور کوئی مصلحت آڑے نہ آئی تو سزا ضرور ہوگی۔ باقی ہمارے ہاں انصاف نہ تو سستا ہے اور نہ ہی تیز رفتار۔
ندیم سعید: پنچایت کے کردار اور مختار مائی کےمضبوط ارادے کے علاوہ پاکستان کے وار ان ٹیرر میں فرنٹ لائن سٹیٹ بننے کی وجہ سے۔ مشرف صاحب امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے جتنی داد سمیٹیں گے اتنا ہی ان کی حکومت کو باہر کی آزاد پریس کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔لائم لائیٹ میں رہنے کے آخر مسائل بھی تو ہوتے ہیں۔
ندیم سعید: اب تک دیئے گئے سوالوں کے جواب پڑھنے کے بعد آپ کا کیا خیال ہے؟
ندیم سعید: آپ کے سوال کے پہلے حصے کا جواب مختار مائی سے پوچھنا پڑا اور ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے سیکیورٹی کے نام پر روڑے نہ اٹکائے تو وہ ظلم کی شکار عورتوں کے حق میں ضرور آواز اٹھائیں گی۔ جہاں تک اخبارات یا میڈیا کے کردار کی بات ہے تو یہ مسائل کو اجاگر کرسکتے ہیں جیسا کہ مختار مائی کیس میں کیا گیا لیکن ایسے واقعات کا تدراک مؤثر قانون اور شفاف طریقے سے اس پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔
ندیم سعید: اپنا دفاع کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور اگر مختار مائی کیس میں یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ ملزمان کو اس حوالے سے مسائل کا سامنا ہے تو حکومت کو اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیئے۔ تاہم بی بی سی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں مختار مائی نےواضح طور پر کہا تھا کہ وہ ملزموں کو بے جا حراست میں رکھنے کے خلاف ہیں اور صرف یہ چاہتی ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر ان کی درخواست جلد از جلد سنی جائے۔
جہاں تک ملزموں میں سے کسی کی مختار مائی سے شادی کا سوال ہے تو یہ بات ڈیرہ غازی خان کی خصوصی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آئی تھی۔ حالانکہ اس سے پہلے اخبارات اس واقعہ کو جزیات کے ساتھ رپورٹ کرچکے تھے اور کسی نے بھی شادی والی بات کا ذکر نہیں کیا۔ مزید یہ کہ نکاح باقاعدہ رجسٹرڈ ہوتا ہے متعلقہ یونین کونسل میں جبکہ ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں تھا۔ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ نکاح شرعی طور پر مولوی رزاق نے پڑھائی تھی۔ لیکن مولوی رزاق نے عدالت میں آ کر اس امر سے انکار کیا کہ ایسا کچھ ہوا تھا۔ یہاں یہ بھی بتاتے جائیں کہ مولوی رزاق نے ہی سب سے پہلےمیروالہ کی ایک مسجد میں جمعے کے اپنے خطبے کے دوران مختار مائی کے ساتھ ہونے والے واقعے کی مذمت کی تھی اور لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔
ندیم سعید: صدر جنرل پرویز مشرف کے آکلینڈ (نیوزی لینڈ) میں دیے گئے ایک بیان کے مطابق مختار مائی کے بیرون ملک سفر پر پابندی ان کے کہنے پر لگائی گئی کیونکہ ان کے باہر جانے سے ملک کی بدنامی ہونے کا خطرہ تھا۔ویسے یہ بھی کیا جمہوری ملک ہے کہ کسی کے باہر جانے پر پابندی اور کسی کے وطن آنے پر۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کی مثال آپ کے سامنے ہے۔انصاف نہ صرف مختار مائی کے ساتھ بلکہ ظلم و زیادتی کا نشانہ بننے والے ہر فرد کے ساتھ ہونا چاہیئے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتا ہو۔
عفاف اظہر، ٹورنٹو کینیڈا:ان پنچایت والوں کو سزا کیوں نہیں مل رہی؟ ان کے وارنٹ گرفتاری کیوں نہیں جاری ہورہےکیونکہ ان کے گھٹیا فیصلے سے یہ سب کچھ ہوا؟ وہ بھی تو برابر کے شریک ہیں جنہوں نے انصاف کو تماشہ بنایا؟
ندیم سعید: مختار مائی کیس میں ڈیرہ غازی خان کی خصوصی عدالت سے موت کی سزا پانے والے چھ ملزموں میں سے دو فیض محمد مستوئی اور رمضان پچار پنچایت کے سرگرم رکن ہی تھے اور انہیں اسی وجہ سے سزا ملی تھی۔
ندیم سعید: اس واقعہ کو اہمیت دو باتوں سے ملی۔ ایک تو یہ کہ اجتماعی زیادتی جیسا جرم مبینہ طور پر پنچایت کے حکم پر کیا گیا یعنی کافی سارے لوگوں نے مل بیٹھ کر باہم صلاح مشورہ کیا اور پھر فیصلے پر عملدرآمد بھی کرایا۔اس سے پہلے ایسا کوئی واقعہ منظر عام پر نہیں آیا۔ دوسرا جنسی زیادتی کی شکار خواتین عام طور پر خوف کے مارے خاموشی اختیار کر لیتی ہیں لیکن مختار مائی نے ایسا نہیں کیا اور انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور شاید یہی بات انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔
ندیم سعید: ملزموں کی کل تعداد چودہ ہے۔ جن میں سے چار پر زیادتی کرنے کا الزام ہے اور باقی دس پر پنچایت کا حصہ ہونے کا۔ اسلامک لاز کے تحت زنا آرڈیننس کی دفعہ دس کی ذیلی شق چار کے تحت اجتماعی زیادتی کے مرتکب افراد کو موت کی سزا کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔ خصوصی عدالت نے اسی قانون کے تحت مختار مائی کیس میں چھ ملزموں کو موت کی سزا سنائی تھی۔