Monday, 08 November, 2004, 15:44 GMT 20:44 PST
کئی انسانوں کی زندگی میں کوئی ایک کتاب گہرا تاثر چھوڑ جاتی ہے۔ کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا؟ ہمیں اپنی پسندیدہ کتاب کے بارے میں بتائیں۔ اس کتاب کا مصنف کون ہے؟ اس نے اس کتاب میں کون سی بات لکھی ہے جس نے آپ کو متاثر کیا ہے؟ کیا آپ اس مصنف کی زندگی کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے؟ کیوں؟
ہمیں اپنی پسندیدہ کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں کم سے کم دو سو الفاظ میں لکھ کر بھیجیں۔آپ کی پسندیدہ کتاب کسی بھی موضوع کے بارے میں ہوسکتی ہے۔ آپ کا جواب صرف اسی صورت میں شائع کیا جائے گا جب آپ کتاب کو پسند کرنے کی وجہ بتائیں گے۔
اپنا جواب اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں
ثقلین امام، بی بی سی اردو سروِس، لندن:
میں کسی بھی اوریجنل کتاب کو کم نہیں کہنا چاہتا کیوں کہ ایک کتاب لکھنا آسان کام نہیں ہے۔ جو بھی شخص کوئی کتاب لکھتا ہے کافی سوچ و فکر کے بعد ہی لکھ پاتا ہے۔ تاہم مجھے فرانٹز فانن کی کتاب دی ریچڈ آف دی ارتھ (The Wretched of the Earth) اچھی لگی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک سیاسی تجزیہ ہے تیسری دنیا کے معاشرے کا، بلکہ اس میں سماجی پہلوؤں میں جو پسماندگی ہوتی ہے اس کا سیاسی نظام سے تعلق بھی بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور کتاب جس نے میری فکر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا وہ ہے اوسولڈ سپینگلر کی کتاب دی ڈیکلائن آف دی ویسٹ (The Decline of the West)۔ میرے خیال میں سیاسی اور تاریخی واقعات کا اس سے بہتر تجزیہ ناممکن ہے۔
نِک اوکی، کراچی:
میں نے کئی کتابیں پڑھی ہیں لیکن جو مجھے سب سے زیادہ پسند ہے وہ ہے نیپولین ہِل کی کتاب تھِنک اینڈ گرو (Think and Grow)۔ یہ شخصیت کی تربیت کے لئے اور ٹائم مینیجمنٹ کے لئے کافی اہم کتاب ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کو پڑھنی چاہئے جو مِڈل مینجمنٹ میں ہے۔
اظفر خان، ٹورانٹو:
مجھے گاندھی جی کی آٹوبایوگرافی مائی ایکسپریمنٹس وِد ٹروتھ (My Experiments with Truth) جس کا مہادیو دیسائی نے گجراتی سے خوبصورت زبان میں ترجمہ کیا ہے، بہت پسند ہے۔ اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ ایک عظیم انسان ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت اور ظلم سے نفرت اور اس کا خاتمہ عدم تشدد کے ذریعے کیسے کیا جائے۔ ہم مسلمانوں کو اس عظیم فلسفی کی یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔
سعیدالدین سید، کراچی:
آج سے چھتیس سال پہلے جبکہ میں کچھ وجوہات کی وجہ سے پریشان تھا مجھے ڈیل کارنیگی کی کتاب ہاؤ ٹو سٹاپ وررئینگ اینڈ سٹارٹ لیونگ (How to Stop Worrying and Start Living) بڑھنے کا اتفاق ہوا اور اس کتاب نے مجھے پریشانیوں اور مشکلا پر قابو پانے کا گر سکھایا اور اس کتاب نے میری کایا پلٹ۔
عاصف مشتاق، کراچی:
میں نے اپنی زندگی میں بہت کتابیں تو نہیں پڑھی ہیں لیکن میں نے جولس ورن کی کتاب اراؤنڈ دی ورلڈ ان ایٹی ڈیز (Around the World in Eighty Days) کافی پسند کی۔ یہ اچھا ناول ہے اور بچوں کے لئے بھی کافی اچھی ہے۔
موکیش کمار، کراچی:
جس کتاب نے میری زندگی کو نیا موڑ دیا وہ ہے رجنیش اوشو کی کتاب ’عورت، جنس اور مذہب‘۔
خالد مغل، لاہور:
میری پسندیدہ کتاب ’قادیانیت سے اسلام‘ ہے جس میں ساڑھے تین سو سے زیادہ مشہور و معروف شخصیات کی آپ بیتی ہے جو قادنیت سے مسلمان ہوئے۔
فرحان خواجہ، وینکوئیر:
ایک کتاب جو میں بار بار پڑھنا چاہوں گا وہ ہے اوریانا فلاچی کی کتاب انٹرویو وِد ہسٹری ( Interview with History) ہے۔ اس کتاب میں ہینری کسنجر سے گولڈ میئر، اندرا گاندھی سے ذوالفقار علی بھٹو، کئی رہنماؤں کے انٹرویو ہیں۔ اگرچہ اس کتاب میں مسلم رہنماؤں کو نیچا دکھایا گیا ہے تاہم اس کی طرز تحریر کافی اچھی ہے۔
عارف وقار، بی بی سی لندن:
حال میں شائع ہونے والی کتابوں میں فرانسِس وہین کی کتاب کارل مارکس (Karl Marx)ہے جو میری پسند ہے۔ اور اب میں نے لندن کے بارے میں توجہ دینی شروع کی ہے جہاں مارکس نے اپنی زندگی کے چھتیس سال گزارے۔
غلام دستگیر، کراچی:
الطاف حسین کی کتاب ’پاکستان کے پچاس برس: کیا کھویا کیا پایا‘ میری پسندیدہ تصنیف ہے۔اس کتاب میں الطاف صاحب نے تقریری انداذ میں پاکستان میں مڈل کلاس کے مسائل، فرقہ پرستی، غربت اور جہالت جیسے موضوعات کو بیان کیا ہے ۔ میرے خیال میں یہ کتاب پاکستان کے ہر ذمہ دار شہری کو پڑھنی چاہیے۔
آزادی کی جستجو |
آصف ججہ، ٹورنٹو:
مجھے کتابیں پڑھنا بہت پسند ہے اور میں نے سائینس اور شاعری کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں لیکن یہاں آنے کے بعد میں نے مختلف مذاہب پر مختلف کتابیں پڑھی ہیں جن میں عیسائیت اور سکھ مت اہم ہیں۔ مجھے ان کتابوں کو پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے اور یہ بات کھل کر نظر آتی ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی سبق دیتے ہیں جو انسانیت سے پیار ہے۔
فصل اکبر، نوشہرہ:
کتابیں تو میں نے بہت پڑھیں لیکن جس کتاب نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ہے قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ۔ اس میں صاحبِ کتاب نے بہت سے رازوں سے پردہ انتہائی خوبصورت انداز میں اٹھایا ہے اور کمال سے کہانی کہتے کہتے حالات کو بیان کرڈالا ہے۔ پھر دوسری اچھی بات اللہ سے قربت ہے۔
محسن مخدوم، کراچی:
قرآنِ کریم بلاشبہ دنیا کی بہترین کتاب ہے۔ اگر آپ کا سوال صرف انسانی دماغ سے ترتیب دی گئی کتاب سے ہے تو پھر میرا انتخاب ڈاکٹر علامہ اقبال کی شاعری کا مجموعہ ہے جو سمجھ کے پڑھنے والوں کی زندگی میں کئی روشن راہیں کھول دیتا ہے۔ اس سے ایمان مضبوط تر ہوتا ہے اور عمل خالص۔
عبدالعلیم، جاپان:
راجہ گدھ، آگ کا دریا، خاکم بدہن۔۔۔۔۔مختلف ادوار میں یہ کتابیں میری پسندیدہ رہی ہیں۔ ذرا قریب کے دور میں مستنصر حسین تارڑ کی ’راکھ‘ پسند رہی ہے۔ پھر جس کتاب نے میری زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے وہ پالو کویلہو کی ’الکیمسٹ‘ ہے۔ زندگی میں مسلسل جدوجہد پر اس سے خوبصورت کتاب میں نے نہیں پڑھی۔
ہم مسلمان کیوں ہوئے؟ |
عدنان عادل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور:
کمیونسٹ مینی فیسٹو (Communist Manifesto) کے عنوان سے کارل مارکس کا مختصر کتابچہ ان چند اہم کتابوں میں شامل ہے جنہوں نے میرے طرز فکر اور خیالات پر گہرا اثر چھوڑا۔ میرے خیال میں جس شخص نے یونان کے مفکرین اور کارل مارکس کی تحریروں کا مطالعہ کیا ہو اسے دنیا اور زندگی کی متنوع جہات اور ان کے تہ دار رموز کو سمجھنے میں خاصی آسانی ہوجاتی ہے۔ ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ نے انسانی تاریخ پر گہرا اثر مرتب کیا اور اس کے نتیجے میں برپا ہونے والے مختلف انقلابات نے جن اشتراکی اور اشتمالی معاشروں کی تشکیل کی اور جس طرح اس کے ردعمل میں سرمایہ داری اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کیں وہ اس کتاب کی اہمیت کا بین ثبوت ہے۔
عالیہ نازکی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
کتابیں پڑھنے کا شوق مجھے ورثے میں ملا ہے۔ گھر کا ماحول ہی کچھ تھا۔ بچپن سے آج تک بہت سی کتابیں پڑھیں اور بہت سی پسند بھی آئیں۔ مگر چارلز ڈکنز کی ’گریٹ ایکسپیکٹیشنز‘ (Great Expectations)اور ایلیس واکر کی ’دی ٹیمپل آف مائی فیمیلئر‘ (The Temple of My Familiar) میرے لیے خاصی اہم ہیں۔ ’گریٹ ایکسپیکٹیشنز‘ اس وجہ سے کہ میری پندرہویں سالگرہ پر میرے بابا نے مجھے یہ کتاب تحفے میں دی تھی اور کئی بار پڑھنے کے بعد بھی یہ ہر بار مجھے نئی سی لگتی ہے۔ اور ’دی ٹیمپل آف مائی فیمیلئیر‘ اس لیے کیونکہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس سے میں خاصی متاثر ہوئی ہوں اور اس نے حقوق نسواں کے بارے میں میری سوچ کو وسیع کردیا۔
عائشہ تنظیم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
میریئن زمر بریڈلی Marion Zimmer Bardely کا لکھا کتابوں کا ایک سلسلہ دی مسٹس آف ایویلون The Mists of Avalon کے نام سے۔ اس سلسلے میں چار یا پانچ کتابیں ہیں۔ یہ فکشن ہے لیکن اس میں برطانیہ کی اُس وقت کی کہانی ہے جب عیسائیت کا غلبہ اس ملک میں شروع ہوا تھا۔ کتاب کے مطابق اس وقت یہاں پیگن مذہب تھا جس میں طاقت کا مرکز جزیرہ ایویلون تھا جس میں اہم ترین حیثیت ایک خاتون، دی لیڈی آف ایویلون کو حاصل ہوتی تھی۔ کتاب میں ایک جادوئی دنیا ہے لیکن اس کے پس منظر میں وہ جدوجہد دکھائی گئی ہے جو ایک پرانے مذہب کے زوال اور ایک نئے مذہب کے آغاز کے دنوں میں سامنے آتی ہے۔ یہ میری سب سے پسندیدہ کتاب ہے۔
نعمان احمد، آفیسرز کالونی، راولپنڈی:
میری پسندیدہ کتابوں کی لِسٹ میں مولانا آزاد کی کتاب ’انڈیا وِنز فریڈم‘ ہے لیکن ایک کتاب جس کو اب بھی جب میں پڑھتا ہوں تو ایک نئے پن کا احساس ہوتا ہے وہ ہے واصف علی واصف کی ’دل دریا سمندر‘۔ واصف علی کے انتقال کو اگرچے ایک عشرے سے زیادہ ہوچکا ہے لیکن ان کی تحریریں ابھی تک تروتازہ ہیں۔ مذکورہ کتاب میں مختلف موضوعات پر اظہار خیال بہت دلکش اور خیال افروز انداز میں کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ طاقت کے بارے میں کہتے ہیں: ’ہم جس شئے سے خوفزدہ ہوتے ہیں اس کو طاقت کہنا شروع کردیتے ہیں۔۔۔‘
ذیشان حیدر، کنگز کالج لندن:
میرا اور کتاب کا رشتہ قائم تو بچپن میں ہی ہو گیا تھا جب میں نے ایک معلم کے گھر میں آنکھ کھولی تھی۔ لیکن بات اگر اس کتاب کی ہو جس نے زندگی پر گہرا اثر چھوڑا تو وہ میکاولی کی کتاب "The Prince" تھی۔ہر وہ شخص جو اس خود غرض دنیا میں آگے بڑھنا چاہتا ہے اسے ایک بار یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔
طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن:
حالیہ دنوں میں جو سب سے اچھی کتاب میں نے پڑھی ہے وہ امرتیا سین کی ’ڈیولپمنٹ ائیز فریڈم‘ یعنی Development As Freedomہے۔ امرتیا سین معاشیات کے ماہر ہیں اور انہیں ویلفیئر ایکانومِکس کے لئے نوبل کا اعزاز دیا گیا۔ اس کتاب میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں کسی بھی دور میں فاقہ کشی اسی ملک میں آئی جہاں جمہوریت نہیں تھی یا حکومتیں عوام کی جانب جوابدہ نہیں تھیں۔ ہر شخص کو یہ کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔