Thursday, 11 August, 2005, 12:14 GMT 17:14 PST
دلی ہائی کورٹ کے ایک حکم کے بعد دلی کے بہت سے شہری پیسوں کے لیے لاوارث گائیں پکڑ کر ایم سی ڈی کے دفتر پہنچا رہے ہیں۔
ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا تھا کہ جو شخص سڑک پر گھومتی لاوارث گائے ایم سی ڈی کے مویشی خانے پہنچائے گا اسے دو ہزار روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔
اب ایک ہی گائے کو بار بار پیسوں کی لالچ میں دفتر پہنچانے والوں سے بچنے کے لیے ہر گائے میں ایک مائکرو چپ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اوپر دی گئی تصویر کے لیے مختصر سے مختصر الفاظ میں عنوان تجویز کیجیئے۔ آپ اپنے عنوانات اردو، انگریزی اور رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عنوانات ہمیں ایس ایم ایس بھی کیے جا سکتے ہیں۔ ایس ایم ایس بھیجتے وقت، لفظ عنوان اور آخر میں اپنا اور شہر کا نام بھیجنا ہر گز نہ بھولیے گا۔ ایس ایم ایس کے لیے ہمارا نمبر ہے: 00447786202200
| آپ کے عنوانات |
اجمل چودھری، فیصل آباد:
گائے گی دنیا گیت میرے۔۔۔
عدنان احمد صدیقی، دبئی:
قریب نہ آنا، ہم سے ڈرتا ہے زمانہ!
داؤد باٹلہ، پاکستان:
میں کیا کروں رام، میں بڈھی ہو گئی!
ثنا خان، پاکستان:
بچو! ماں کے ساتھ بھی ٹوپی!
ندیم بلوچ، جنوبی افریقہ:
پاکستان آ جا ہم تیری صحیح قیمت لگائیں گے۔
شازیہ خان، کراچی:
بابو جی سے بچ کے
ناہید ورک، کینیڈا:
مجھے آزاد رہنے دو بھائیو
محمد خان، دبئی:
ماتا کی قیمت۔ دو ہزار
پرویز بلوچ، بحرین:
دو ہزار روپے میں کوئی سڑک پار کرا دے۔
رضوان احمد صدیقی، نیوزی لینڈ:
انڈیا میں غیر قانونی ہوگئی ہوں، پاکستان گئی تو وہ کاٹ کر کھا جائیں گے۔ جاؤں تو جاؤں کہاں
موڈی، مانٹریال، کینیڈا:
کپمیوٹرائزڈ گائے کی جانب پہلا قدم۔
فردوس عالم، برطانیہ:
ڈجیٹل ٹیکنالوجی کے بغیر تجھے بھولنا کتنا آسان تھا۔
ثاقب ٹیٹو، جڑانوالہ، پاکستان:
گائے انڈین، نخرے امریکی۔
زہیب شہزاد، مردان، پاکستان:
ایم سی ڈی کی کاؤ ماتا۔
طارق رفیق، لاہور، پاکستان:
بھگوان اِن ٹرنل
بابر راجہ، نگاٹا، جاپان:
دیکھ مگر پیار سے
ہنسو ہنساؤ، پاکستان:
ای گائے۔
راجا یونس، سعودی عریبیہ:
اب دیکھوں گی کوئی کیسے مجھے بلیک میل کرتا ہے۔
فرحان خان، انڈیا:
نہ روکتے قربانی سے تو یہ پریشانی نہیں ہوتی۔
عادل مجددی، پاکستان:
گاؤ ماتا کی ہڑتال، اپنی روحانی ماں کو سنبھالنا ایک مسئلہ۔
مظفر احمد، پاکستان:
گائے اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں۔
ساحل خان، انڈیا:
دیوی مصیبت بن گئی۔
عزیز سید، سعودی عربیہ:
ترقی کا نیا انداز۔
سرفراز احمد، پاکستان:
گاؤ ماتا! سوری حیران نہ ہوں، پیسہ بڑی چیز ہے۔
محمد سلیم بیگ، سپین:
موبائل گائے۔
خاور علی، ملتان:
کیا بھگوان اس کو کہتے ہیں؟
طارق سعید، ٹوبہ ٹیک سنگھ:
جاسوس گائے۔
منیرہ بلوچ، ٹورانٹو:
بچ کے رہنا رے بابا مجھ پہ نظر ہے۔
ابو ارسلان، اسلام آباد:
ہندؤوں کی گائے ماتا گلی بازاروں میں۔
امجد تنولی، پاکستان:
گائے میں چپ کا استعمال۔
غلام مصطفی، گجرانوالہ:
ڈیجیٹل گائے، انڈیا جلد ہی ایسی گائے دنیا میں برآمد کرے گا۔
وسیم بیگ، پاکستان:
گاؤ ماتا کی جے۔
ڈیجیٹل خان، انڈیا:
انڈین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے نیاچیلنج۔
ہمایوں خان، امریکہ:
دیسی ربوٹ۔
افسر زیب خان، افغانستان :
انڈیا کی ماں ساڑی کے بغیر۔
فیصل رضوی، بیلجیم:
اکیسوی صدی کی گائے۔